Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

کتب اربعہ میں سے نکاح جناب ام کلثوم کے حوالے سے روایات؟؟؟؟؟؟؟

July 21, 2026
0
0

مجھ سے قسم اٹھوالے

اس باب 3 حدیث ہے ہی نہیں

صرف دو حدیثیں ہیں

ان دونوں کا جواب دیتے ہیں

ٹوٹل 2 حدیثیں ہیں

الحديث الاول

زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع فِي تَزْوِيجِ أُمِّ كُلْثُومٍ فَقَالَ إِنَّ ذَلِكَ فَرْجٌ غُصِبْنَاهُ

امام نے ایک اور روایت میں اس کی وضاحت اپنے اس قول سے فرمائی ہے: وہ ایک ایسا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا یا جس پر ہم سے زبردستی کی گئی اور ان روایات سے زیادہ سے زیادہ جو فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ شادی دلی رضامندی کے بغیر زبردستی اور اکراہ کی بنیاد پر واقع ہونے پر دلالت کرتی ہے
اور یہ بات دوسروں کے لیے بالکل مفید نہیں ہے بلکہ یہ علی اور عمر کے درمیان نفرت و ناگواری کی موجودگی کی طرف اشارہ کرتی ہے نہ کہ ان دونوں کے درمیان بھائی چارے دوستی اور صفائے قلب کی

اور علامہ مجلسی اس سے بھی آگے بڑھ کر فرماتے ہیں کہ
یہ دونوں روایتیں یعنی زرارہ اور ہشام کی روایت عمر سے ام کلثوم کے نکاح کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتی ہیں کیونکہ یہ اس روایت کے منافی ہیں جو الخرائج والجرائح میں صفار سے نقل ہوئی ہے

اور ایک دوسرے شخص نے یہ احتمال ظاہر کیا ہے کہ جملہ وہ ایک ایسا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا نکاح کے واقع ہونے پر دلالت نہیں رکھتا کیونکہ یہ اس شخص سے صرف زبانی اتفاق کے طور پر کہا گیا ہے جو اس کا مدعی ہے

اور ایک تیسرے شخص نے یہ احتمال دیا ہے کہ جملہ “وہ ایک ایسا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا” امام علیہ السلام کی طرف سے ایک استفہام استنکاری ہے اور یہ بھی ام کلثوم سے نکاح کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتا

اور چوتھے شخص نے اس جملے کو یوں پڑھا ہے “ذلك فرج عَصَبْنَاهُ” اور “ذلك فرج عَصَبْنَا عليه” اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے ام کلثوم عمر کو نہیں دیں اور نہ ہی ان سے شادی کی یا یہ کہ عمر ان تک نہیں پہنچ سکے اور رخصتی سے پہلے ہی ان کی وفات ہو گئی اور امام علیہ السلام نے ان کی حفاظت کے لیے عمر کی وفات کے فوراً بعد انہیں اپنے گھر لے آئے

السید علی شھرستانی

جاء الاحتمال فبطل الاستدلال

اور یہ تیسری صحیح روایت ہے جو امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے تزویج ام کلثوم کے بارے میں پس آپ نے فرمایا: یہ ایک ایسا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا یہ ایک ایسا فرج ہے جو ہم سے غصب کیا گیا
یہ بھی کتاب النکاح میں ہے
اور خلاصہ یہ کہ اس شخص کی طرف سے ایک دھمکی تھی کسی نہ کسی شکل میں ہماری روایت میں چوری کے الزام کی دھمکی تھی اور ان کی روایات میں چوری کے الزام کی دھمکی تو نہیں تھی لیکن دھمکی بہرحال موجود تھی اور میں نے آپ کو مصادر دے دیے ہیں پس آپ رجوع فرمائیں

سید علی میلانی

میں کہتا ہوں: یہ دونوں روایتیں اس ملعون منافق سے ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی تزویج کے واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتی ہیں بلکہ یہ شدید ضرورت اور تقیہ کی بناء پر بیان کی گئی ہیں اور بعض دیگر روایات میں وہ باتیں وارد ہوئی ہیں جو اس کے منافی ہیں

جیسے وہ روایت جسے قطب راوندی نے صفار سے اپنی سند کے ساتھ عمر بن اذینہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: امام ابو عبد اللہ علیہ السلام سے عرض کیا گیا کہ لوگ ہم پر یہ حجت قائم کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنی بیٹی ام کلثوم کا نکاح فلاں سے کر دیا تھا اور آپ تو اس کا جواب دینے پر قادر تھے؟ تو آپ بیٹھ گئے اور فرمایا: کیا وہ ایسا کہتے ہیں؟ بے شک وہ قوم جو ایسا گمان کرتی ہے وہ سیدھے راستے کی ہدایت نہیں پاتی سبحان اللہ! کیا امیر المؤمنین اس بات پر قادر نہیں تھے کہ ان دونوں کے درمیان حائل ہو جائیں اور انہیں بچا لیں؟ انہوں نے جھوٹ کہا اور جو کہا وہ ہرگز نہیں ہوا تھا بے شک فلاں نے علی علیہ السلام سے ان کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ مانگا تو علی علیہ السلام نے انکار کر دیا پھر اس نے عباس سے کہا: خدا کی قسم! اگر تم نے میری شادی اس سے نہ کروائی تو میں تم سے سقایہ اور زمزم کا اختیار چھین لوں گا پھر عباس علی علیہ السلام کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو آپ نے انکار فرمایا پھر عباس نے اصرار کیا پس جب امیر المؤمنین علیہ السلام نے عباس پر اس شخص کی بات کی مشقت اور سختی دیکھی اور یہ دیکھا کہ وہ سقایہ کے بارے میں وہی کرے گا جو اس نے کہا ہے تو امیر المؤمنین علیہ السلام نے نجران کی ایک یہودی جننی کی طرف پیغام بھیجا جسے سحیقہ بنت جریریہ کہا جاتا تھا پس آپ نے اسے حکم دیا تو وہ ام کلثوم کی شباہت میں ڈھل گئی اور ام کلثوم کو نگاہوں سے اوجھل کر دیا گیا اور اس جننی کو اس کے پاس بھیج دیا گیا

اس شخص کی طرف پس وہ اس کے پاس ہی رہی یہاں تک کہ ایک دن اسے اس پر شک ہوا تو اس نے کہا: زمین پر بنی ہاشم سے بڑھ کر کوئی جادوگر گھرانہ نہیں ہے پھر اس نے اس بات کو لوگوں پر ظاہر کرنا چاہا تو وہ قتل کر دیا گیا اور وہ جننی میراث لے کر نجران واپس چلی گئی اور امیر المؤمنین علیہ السلام نے ام کلثوم کو ظاہر کر دیا اور اس روایت اور دیگر روایات کے درمیان کوئی منافات اور تضاد نہیں ہے کیونکہ یہ ایک پوشیدہ واقعہ تھا جس سے انہوں نے صرف اپنے خواص کو مطلع کیا تھا اور وہ مخالفین پر حجت قائم کرنے کے لیے اس کے اظہار کا اہتمام نہیں کرتے تھے بلکہ اکثر شیعوں پر بھی اس جیسے امور کو ظاہر کرنے سے احتراز کرتے تھے تاکہ ان کی عقلیں اسے قبول کرنے سے نہ ہچکچائیں اور نہ ہی وہ ان کے بارے میں غلو کرنے لگیں پس اگر یہ واقعہ صحیح ہو تو “غصبناہ” کا معنی ظاہری طور پر اور لوگوں کے گمان کے مطابق ہے
اور شیخ مفيد قدس سرہ نے المسائل السروية کے جواب میں فرمایا: بے شک وہ روایت جو امیر المؤمنین علیہ السلام کی بیٹی کا عمر سے نکاح کے بارے میں وارد ہوئی ہے وہ ثابت نہیں ہے اور اس کا طریقہ اور سند زبیر بن بکار سے ہے جو نقل حدیث میں قابل اعتماد نہیں تھا اور

*جب نوبت گمراہ شخص سے نکاح تک پہنچ جائے اور وہ کلمہ اسلام کا اظہار بھی کر رہا ہو تو اس سے کراہت ختم ہو جاتی ہے اور امیر المومنین اس شخص سے نکاح پر مجبور تھے کیونکہ اس نے آپ کو دھمکی دی تھی اور آپ کو اپنی اور اپنے شیعوں کی جان کا خطرہ تھا تو آپ نے مجبوری کی حالت میں اس کی بات مان لی جیسے کہ مجبوری کی حالت میں کفر کا کلمہ کہنا بھی جائز ہے اور یہ حضرت لوط علیہ السلام کے اس قول سے زیادہ عجیب نہیں ہے کہ “یہ میری بیٹیاں ہیں یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں” تو آپ نے انہیں اپنی بیٹیوں سے عقد کی دعوت دی حالانکہ وہ ایسے کفار تھے جن کی ہلاکت کا اللہ تعالیٰ نے حکم دے دیا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعثت سے پہلے اپنی دو بیٹیوں کا نکاح دو کافروں سے کیا تھا جو بتوں کی عبادت کرتے تھے ان میں سے ایک عتبہ بن ابی لہب تھا اور دوسرا ابو العاص بن ربیع تھا پھر جب اللہ نے آپ کو مبعوث کیا تو ان کے اور ان کی بیٹیوں کے درمیان جدائی ڈال دی*
اور سید مرتضی نے کتاب الشافی میں فرمایا: رہا حنفیہ کا معاملہ تو وہ حقیقت میں قیدی نہیں تھیں اور نہ ہی اللہ نے انہیں قیدی کے طور پر پسند کیا کیونکہ وہ اسلام لانے کی وجہ

 

کیونکہ وہ اسلام لانے کی وجہ سے آزاد اور اپنے معاملے کی مالک ہو چکی تھیں لہذا آپ نے انہیں اسے غلام بنانے والے کے ہاتھ سے نکالا پھر ان سے نکاح کا عقد کیا اور ہمارے اصحاب میں سے کچھ اس بات کے قائل ہیں کہ ظالم جب کسی گھر پر غالب آ جائیں اور غلبہ پا لیں اور مومن ان کے احکام سے نکلنے پر قادر نہ ہو تو اس کے لیے جائز ہے کہ ان کی قیدیوں کے ساتھ تعلق رکھے اور غلبہ و جبر کی صورت میں ان کے احکام کو مجبر لوگوں کے احکام کی طرح سمجھے جہاں تک محکوم علیہ کا تعلق ہے اور اگر حاکم کے حوالے سے دیکھا جائے تو وہ گنہگار اور مستحق سزا ہے
​اور جہاں تک آپ کے اپنی بیٹی کے نکاح کا تعلق ہے تو یہ اختیار کی بنیاد پر نہیں تھا پھر انہوں نے رحمت اللہ علیہ ان سابقہ روایات کا ذکر کیا جو اضطرار پر دلالت کرتی ہیں پھر فرمایا: اس پر بھی کہ اگر وہ صورت حال پیش نہ بھی آتی جو ہم نے ذکر کی تو بھی اس کے جواز میں کوئی ممانعت نہ تھی کیونکہ وہ ظاہری اسلام اور اس کے احکام کی پیروی اور اسلام کے اظہار پر کاربند تھے اور یہ ایک ایسا حکم ہے جس کا تعلق شریعہ سے ہے اور یہ ایسی چیز نہیں ہے جو عقلوں کے خلاف ہو اور عقل میں یہ جائز تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے مرتدین سے نکاح کو ان کی ارتداد کی مختلف اقسام کے باوجود مباح قرار دیتا اور یہ بھی جائز تھا کہ ہمیں یہود و نصاریٰ سے نکاح کی اجازت دیتا جیسا کہ زیادہ تر مسلمانوں کے نزدیک ہمیں ان میں سے نکاح کی اجازت دی گئی ہے اور یہ جب عقل میں جائز ہو تو اس کے حلال و حرام ہونے کا مرجع شریعت ہے اور امیر المومنین کا فعل ہمارے نزدیک شریعت میں حجت ہے لہذا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم اس فعل کو جو انہوں نے کیا

اصل میں اس شخص سے نکاح کے جواز کی دلیل بنائیں جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے اور ان کے لیے یہ لازمی نہیں آتا کہ وہ اس پر یہ اعتراض اور لزوم عائد کریں کہ پھر تو یہود و نصاریٰ اور بت پرستوں سے بھی نکاح جائز ہونا چاہیے کیونکہ اگر وہ اس کے جواز کے بارے میں عقل کے لحاظ سے سوال کریں تو یہ عقل میں جائز ہے اور اگر وہ اس کے بارے میں شرع کے لحاظ سے سوال کریں تو اجماع اسے ممنوع اور حرام قرار دیتا ہے (ان کا کلام ختم ہوا، اللہ ان کے مقام کو بلند فرمائے)
میں کہتا ہوں: عمر کے نص جلی کا انکار کرنے اور اہل بیت علیہ السلام سے ان کا نصب و عداوت ظاہر ہو جانے کے بعد بغیر کسی ضرورت اور تقیہ کے ان سے نکاح کے جواز کا قول کرنا مشکل ہے مگر یہ کہ تمام مرتدین عن الاسلام سے نکاح کے جواز کا قول کیا جائے اور ہمارے اصحاب میں سے کسی نے بھی یہ قول نہیں کیا ہے اور شاید ان دونوں فاضل علماء (شیخ مفید اور سید مرتضی) نے یہ بات صرف مخالف پر حجت تمام کرنے کے لیے بیان کی ہے اور اسی طرح شیخ مفید علیہ الرحمہ کا اصل واقعہ کا انکار کرنا صرف اس بات کو بیان کرنے کے لیے ہے کہ یہ ان کے اپنے طرق اور سندوں سے ثابت نہیں ہے ورنہ ان روایات کے وارد ہونے کے………..

ورنہ ان روایات کے وارد ہونے کے بعد اور جو آگے سندوں کے ساتھ آئے گا کہ علی علیہ السلام نے جب عمر کی وفات ہوئی تو ام کلثوم کے پاس آئے اور انہیں اپنے گھر لے گئے اور اس کے علاوہ جو میں نے بحار الانوار کتاب میں نقل کیا ہے اس تمام کے بعد اس کا انکار کرنا عجیب ہے اور جواب کا بنیادی اصل یہی ہے کہ “یہ واقعہ تقیہ اور اضطرار کی بنیاد پر واقع ہوا تھا” اور اس میں کوئی بعید بات اور تعجب نہیں ہے کیونکہ بہت سی حرام چیزیں ضرورت اور مجبوری کے وقت اپنے احکام بدل لیتی ہیں اور واجبات میں سے ہو جاتی ہیں علاوہ ازیں روایات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہ السلام کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان تمام مظالم سے آگاہ کر دیا تھا جو ان پر ڈھائے جانے والے تھے اور اس سے بھی کہ اس وقت ان پر کیا کرنا واجب ہے پس اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ اس معاملے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نص کی بنیاد پر مباح قرار دیا تھا اور یہ ایسی بات ہے جو وہم و گمان کی دوری اور استبعاد کو شانت اور دور کر دیتی ہے اور اللہ ہی اپنے احکام اور اپنی حجج کی حقائق کو بہتر جانتا ہے

اس روایت پر قبلہ غلام حسین نجفی صاحب کے 30 عدد جوابات موجود ہیں

 

کسی دلیل کو تب تسلیم کیا جاتا ہے جب دعوی کے مطابق ہو

اہل سنت کا دعویٰ ہے کہ جناب امیر نے ام کلثوم بنت فاطمہ کا نکاح عمر بن خطاب سے کیا تھا اور علم منطق کا قانون ہے کہ دلیل تب درست ہوتی ہے جبکہ وہ مدعی پر کسی قسم کی دلالت بھی کرے اور مذکورہ روایت کی اہل سنت کے مدعی پر نہ تو دلالت مطابقی ہے اور نہ ہی دلالت تضمینی والتزامی ہے۔ مذکورہ روایت میں نہ تو لفظ عمر ہے اور نہ لفظ نکاح ہے۔ نہ ہی جناب امیر کا ذکر ہے اور نہ ہی بنت فاطمہ ( ام کلثوم ) کا ذکر ہے۔ جناب عمر سے ہمیں کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے مگر انصاف بھی تو کوئی شے ہے۔ جس روایت سے عمر کا شرف ثابت کیا جاتا ہے اس میں جناب عمر کے ذکر کی کوئی بو تک نہیں ۔ پس ”کافی شریف ” سے ایک مجمل روایت پیش کر کے شور و غل مچانا بے فائدہ ہے۔ شیعوں کو عمر فاروق کی کسی فضیلت کا قائل کرنا آسان کام نہیں۔

کسی دلیل کو تب تسلیم کیا جاتا ہے جب دعویٰ پر اس کا منطوق یا مفہوم دلالت کرے اہل سنت دوستو! آخر آپ کو بھی مرنا ہے اور خدا کو حساب دینا ہے۔ اپنے دعوی کو بھی بنظر انصاف دیکھو اور اپنی دلیل کو بھی بنظرِ انصاف دیکھو۔ علم اصول کا مسلمہ فیصلہ ہے کہ اگر کسی کلام کا کسی دعوئی پر منطوق اور مفہوم دلالت نہیں کرتا تو اس کلام سے وہ دعوی ثابت نہیں ہو گا۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ بنت فاطمہ کا نکاحجناب امیر نے عمر سے کیا تھا۔ مذکورہ دعویٰ پر کافی شریف کی مذکورہ روایت کا نہ تو منطوق دلالت کرتا ہے اور نہ ہی مفہوم دلالت کرتا ہے۔

برہان کی اعلیٰ اقسام دو ہیں ؛ قیاس اقترانی اور قیاس استثنائی

مذکورہ روایت سے اہل سنت دوست نہ تو قیاس اقترانی بنا سکتے ہیں اور نہ ہی استثنائی ۔ پس ہماری گذارش پر غور فرمائیں کہ علم منطق کی روشنی میں ”کافی شریف کی مذکورہ روایت دلیل ہی نہیں بن سکتی تو اس سے آپ کا مدعی کیسے ثابت ہو گا ؟

اگر کسی شارح یا محشی نے اپنی طرف سے مذکورہ روایت میں لفظ ام کلثوم کے ساتھ بنت فاطمہ یا بنت علی لکھا ہے تو ان کے پاس دلیل اگر یہی روایت ہے تو اس روایت میں ام کلثوم کے ماں باپ کا نام مذکور نہیں ہے اور اگر کوئی اور ثبوت ہے تو وہ انہوں نے پیش نہیں کیا۔ اس واقعہ کو ہزار برس سے زیادہ وقت گزر چکا ہے لہذا اس واقعہ کو انہی لوگوں کے الفاظ میں دیکھا جائے گا جو ہزار برس پہلے موجود تھے اور ان کے الفاظ ہمارے سامنے ہیں۔
ان کے الفاظ میں روایت میں کل پانچ لفظ ہیں ؟

۱۔ فَقَالَ، ۲۔ اِنَّ، ۳۔ ذلِكَ ، ۴۔ فَرج، ۵۔ غصبنا۔

ہر شخص کو مرنا ہے اور خدا کو جواب دینا ہے ۔ ان مذکورہ پانچ عدد الفاظ میں نہ تو لفظ عمر کہیں آیا ہے نہ لفظ نکاح کہیں آیا ہے اور نہ ہی لفظ بنت فاطمہ و علی کہیں آیا ہے۔

اگر تسلی نہیں ہوئی تو مزید سینیئے

فَضْلُ إِنَّ النَّبِيِّ لَمْ يَنْضَ عَلَى أَحَدٍ – – – وَإِنَّمَا الْحُجَّةُ فِي رِوَايَتِهِمَا لَا فِي قَوْلِهِمَا

ترجمہ: (ابن تیمیہ کہتا ہے کہ جناب عمر اور عائشہ) کی روایت میں حجت ہے نہ کہ ان کے ذاتی رائے اور قول میں حجت ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ ”کافی شریف کی روایت ہمارے سامنے موجود ہے اور اس میں ام کلثوم کی ولدیت مذکور نہیں ۔ پس یہ احتمال قوی ہے کہ وہ ام کلثوم بنت ابی بکر ہو اور

إِذَا جَاءَ الْإِحْتِمَالُ بَطَلَ الْإِسْتِدْلَالُ

اور اہل سنت جب جناب عائشہ اور حضرت عمر جیسی بزرگ ہستیوں کی ذاتی رائے کو حجت نہیں مانتے تو ہمارے لئے بھی کسی محشی اور شارح کی ذاتی رائے بغیر دلیل قطعی حجت نہیں ہے اور ہمارے مخاطب تو اپنے دعوے پر پکے ہیں۔

اثْبَتْ مِنْ قُرَاء.
حالانکہ اگر وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اور مذکورہ روایت سے ام کلثوم بنت ابی بکر مراد لے لیں تو شیعہ سنی کا ایک مسئلہ پر تو اتحاد ہو جائے گا اگر ام کلثوم بنت ابی بکر زوجہ عمر ہے تو

چشم ما روشن و دل ما شاد

ذالك : اسم اشارہ ہے۔ ”شرح جامی، ذکر اسمائے اشارات ” ملاحظہ فرمائیے؟

ذَا لِلْقَرِيبِ وَذَالِكَ لِلْبَعِيدِ وَذَاكَ لِلْمُتَوَسِط –

جب کسی دورشی کی طرف اشارہ کرنا ہو تو اس کے لئے لفظ ذالک ہے۔ پس معلوم ہوا کہ مذکورہ روایت میں لفظ ذالک سے جس ام کلثوم کی طرف اشارہ ہے وہ خاندانِ رسالت سے بہت دور تھی ۔ اولاد رسول سے اس کو قریبی رشتہ نہ تھاور نہ اس کے لئے لفظ ذالک استعمال نہ ہوتا اور خاندانِ نبوت سے جس کا قریبی رشتہ نہیں تھا وہ ام کلثوم بنت ابی بکر ہے ۔ آٹھ عدد کتب اہل سنت گواہ ہیں کہ ام کلثوم بنت ابی بکر کا رشتہ عمر نے مانگا تھا اور بی بی عائشہ کا وظیفہ زیادہ کر کے اس کو بھی رضا مند کیا تھا۔ دونوں خاندان آپس میں شیر و شکر بھی تھے اور فاروق اعظم کو ٹھکرانے کی وجہ بھی نہ تھی اور لڑکی بھی کمسن نہ تھی اور چشم بد دور جوڑ بھی نرالا تھا پس ام کلثوم بنت ابی بکر ہی زوجہ عمر ہے ۔ البتہ اہل سنت راویوں نے چالاکی کی اور بنت ابی بکر کے نکاح کو مسخ کر کے بیان کیا جس سے کئی مؤرخ ٹھو کر کھا گئے۔

تَرَافَدُوا تَرَافُدَ الْحُمْرِ بِأَبْوَالِهَا
اعتراض

امام نے ” غُصِبْنَا ” کیوں فرمایا کہ وہ رشتہ ہم سے غصب کیا گیا ؟

جواب : ۹

اگر کافی شریف کی مذکورہ روایت میں لفظ ”عُصِبْناء ” کو اس کے معنی حقیقی پر حمل کیا جائے تو یہ چیز شرعا، عقلا اور عادتا ناممکن ہے اور اگر ام کلثوم سے مراد بنت فاطمہ لی جائے تو یہ بھی ناممکن ہے کیونکہ اس کا ثبوت نہیں ہے۔ ثبوت میں یہی روایت پیش کی گئی ہے اور اس میں ولدیت مذکور نہیں ہے۔ ام کلثوم کا عمر سے رشتہ محل اختلاف ہے اور ام کلثوم بنت ابی بکر کا رشتہ عمر سے محل اتفاق ہے۔ پس عقل مند کو چاہیے کہ جس میں اختلاف ہے ، اس کو چھوڑ دے اور جس میں اتفاق ہے ، اس کو زوجہ عمر تسلیم کرے۔ اور وہ جس پر تفاق ہے ، ابو بکر کی لڑکی تھی اور ذالک کا اشارہ بھی اس کا مؤید ہے۔ بنو ہاشم میں سے کسی کو ام کلثوم بنت ابی بکر کارشته در کار تھا مگر ارباب سقیفہ کی پر فریب چالوں سے اس ہاشمی کو محروم کر دیا گیا۔ پس اسی لئے امام نے مجازاً فرمایا: “غصبناه ” حقیقت مثل سورچ روشن ہو گئی ہے۔ ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں لیکن ہمارے مخاطب نے پکا ارادہ کر رکھا ہے کہ

جَعَلَ كَلَامِي دَبْرَا ذُنَيْهِ

اگر لفظ فرج کی کسی قبیلہ کی طرف اضافت ہوتی تو اس میں کچھ تعین ہو جاتی مگر یہ لفظ نکرہ ہے اور جس طرح لفظ ام کلثوم میں کئی احتمال ہیں مثلاً وہ بنت ابی بکر ہے یا غیر ؟

اسی طرح مذکورہ لفظ میں بھی کئی احتمال ہیں اور قوی احتمال بلکہ صحیح یہی ہے کہ اس فرج سے مراد فرج بنت ابی بکر ہے اور

الرَّوَايَةُ إِذَا وُجِدَ لَهَا مَحْمِلٌ صَحِيحٌ لَا تُرَدُّ
اگر کسی روایت کی درست اور صحیح تعبیر و توجیہ ممکن ہو تو اسے رد نہیں کیا جاتا۔

پس زوجہ عمر، ام کلثوم یار غار کی بیٹی ہے پس حقیقت روشن ہوگئی اور ضد کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ہمارے مخاطب پر ایک ہی بھوت سوار ہے اور وہ اس غلط گمان میں مبتلا ہے کہ عمر داماد علی ہے۔

تشنه در خواب آب می بیند
علم اصول کا مسلم قانون ہے کہ

إِذَا تَعَارَضَا تَسَاقطا

کتاب : الرسائل الفقهيّة جلد : 1 صفحه : 165 نویسنده : المازندراني الخاجوئي، محمد اسماعيل

مذکورہ روایت سے بفرض محال اگر ام کلثوم بنت علی مراد لی جائے تو اس روایت کا تعارض ہے ، مرآة العقول کی اس روایت سے
کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ رشتہ ہوا ہے ؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: جو لوگ اس کی صحت کا دعویٰ کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں۔

اور

وَالدَّلِيلُ إِنَّمَا يُتَمَسَّكُ بِهِ إِذَا سَلِمَ عَنِ الْمَعَارِضِ

پس ان دونوں حدیثوں کا تعارض ہو گیا اور تساقط ہو گیا اور اگر کسی واقعہ کے ہونے میں شک ہو تو اصل عدم وقوع ہے ہر حادث میں۔

امام صادق علیہ السلام کی روایت جو مراۃ العقول میں موجود ہیں

مذکورہ اعتراض شیعوں پر اہل سنت نے وارد کیا ہے اور اس کا جواب اگر وہ اپنے قانون مذہب کے مطابق طلب کرنا چاہتے ہیں تو یہ بے انصافی ہے کیونکہ ہر مذہب اپنے قانون کے مطابق جواب دیتا ہے مگر ہم اہل سنت کو ایسے قانون کی روشنی میں جواب دیتے ہیں جو شیعہ سنی دونوں کے ہاں مسلم ہے اور وہ یہ کہ جسے مولوی نافع جھنگوی نے اپنی کتاب میں اپنے بزرگوں کے ارشادات کی روشنی میں تسلیم کیا ہے

کہ جس روایت میں فتیح تعبیر پائی جائے
اور جو روایت متنا شاذ ہو وہ قابل قبول نہیں ہوتی

اور ”کافی شریف ” میں لکھا ہے ؟

يترَكُ الشَّاذ الَّذِي لَيْسَ بِمَشْهُورٍ .

کہ جو روایت شاذ ہو اس کو ترک کیا جائے۔

پس مذکورہ حدیث شیعہ سنی دونوں کے قانون کے مطابق حجت نہیں ہے کیونکہ مذکورہ روایت شاذ ہے اور بقول اہل سنت اس میں فتیح تعبیر پائی جاتی ہے۔

کافی شریف ” میں لکھا ہے کہ جب حدیثوں میں اختلاف ہو جائے تو

يُتْرَكُ مَا وَافَقَ الْعَامَّةَ . ()

جو روایت اہل سنت کے عقیدہ کے موافق ہو اس کو چھوڑ دیا جائے۔

پس مذکورہ روایت سے اگر دعویٰ اہل سنت ثابت ہے تو چونکہ وہ روایت اہل سنت کے عقیدہ کے موافق ہے پس اسے چھوڑ دیا جائے گا۔

اسلام میں صحت نکاح کے لئے مرد اور عورت کا ایک دوسرے کا کفو ہونا ضروری ہے

کتاب الفقہ کی عبارت

إِنَّ الْكَفَاءَةَ هِيَ مُسَاوَاةُ الرَّجُلِ لِلْمَرْأَةِ فِي أُمُورٍ مَخْصُوصَةٍ ، وَهِيَ سِتُ : النَّسَبُ، وَالْإِسْلَامُ، وَالْحِرْفَةُ، وَالْحُرِّيَّةُ، وَالدِّيَانَةُ، وَالْمَالُ

کتاب الفقه علی مذاہب الاربعہ ، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۵۴

ترجمہ: کفایت کا معنی ہے کہ مرد عورت کے ساتھ چند امور میں برابر ہو اور وہ چھ ہیں: ۱۔ نسب۔

۲۔ اسلام ۔ ۳۔ پیشہ – ۴- آزادی – ۵۔ پاکیزگی و شرافت و دیانت ۔ ۶۔ مال و دولت ۔

بحر الزخار کی عبارت

الْكَفَاءَةُ الْمُمَائِلَةُ ، قُلْتُ : وَفِي الْعُرْفِ الْمُمَاثَلَ فِ الشَّرَفِ وَالدَّنَاءَةِ وَهِيَ مُعْتَبِرَ فِي النِّكَاحِ اجْمَاعًا

( البحر الزخار ، کتاب النکاح، ج ۳، ص ۴۸

( کتاب ہذا کا مکمل نام البحر الزخار الجامع لمذاہب علماء الامصار ہے قاری کتاب سہم مسموم حوالہ کی تحقیق کے دوران علامہ ابو بکر ہزار کی کتاب البحر الزخار پہ اس کتاب کو قیاس نہ کریں۔ سید محبی )

مزید : الهدایہ مع الدارية، کتاب النکاح، فصل في الكفاءة، ج ۲، ص ۳۲۰،

شرح وقایہ ، کتاب النکاح، ج ۲، ص ۱۷،
کنز الدقائق ، کتاب النکاح، ص ۱۰۰،
الدر المختار، کتاب النکاح، ج ۲، ص ۷ ،
ازالۃ الخفاء رسالہ فقہ العمر، کتاب النکاح، ذکر کفو ، ج ۳، ص ۴۰۷،
فتاوی قاضی خان، کتاب النکاح، جا، ص ۱۶۱ ،
سنن دار قطنی ، کتاب النکاح

ترجمہ: کفایت کا معنی مماثلت ہے مرد و عورت شرف اور پستی میں برابر ہوں اور برابری اجماعا نکاح میں معتبر ہے۔

اہل سنت میں کفو ہونے کے لئے مذکورہ چھ امور ضروری ہیں اور اہل تشیع کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ مرد محنت نہ ہو، ناصبی نہ ہو، شرابی نہ ہو، حلال زادہ ہو ، حرام زادہ نہ ہو ورنہ وہ کسی پاکیزہ نسب والی عورت کا کفو نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمر فاروق ام کلثوم بنت علی کے کفو نہیں تھے کیونکہ بی بی کا نسب پاکیزہ تھا اور حضرت عمر صحیح النسب نہ تھے اور اس کی وضاحت کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ولید بن مغیرہ کے نسب سے بحث کی جائے کیونکہ ولید مغیرہ صحیح النسب نہ تھے اور رسول اللہ نے عمر فاروق کو ولید بن مغیرہ سے تشبیہ دی ہے۔

 

ولید بن مغیرہ کا نسب صحیح نہ تھا

ثبوت ملاحظہ ہو

وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلافٍ مَّهِينٍ * هَمَّازٍ مَشَاء بِنَمِيمٍ مَّنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ

ذلِكَ زَنِيم

ترجمہ: اس شخص کی اطاعت نہ کریں جس میں یہ نوصفتیں ہوں؟ ا۔ زیادہ قسمیں کھانے والا ۔ ۲۔ ذلیل۔ ۳۔ طعنے دینے والا۔ ۴۔ چغلی کرنے والا ۔ ۵۔ نیکی سے روکنے والا۔ ۶۔ حد سے گزر نے والا ۔۷۔ گناہگار ۔ ۸۔ متکبر ۔ ۹۔ حرام زادہ۔

مذکورہ آیت ولید بن مغیرہ کی شان میں نازل ہوئی ہے

تفسیر الفتوحات الالہیہ کی عبارت:

مَا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ الْوَلِيدُ لِأُمِّهِ : إِنَّ مُحَمَّدًا وَصَفَنِي بِتِسْعِ صَفَاتٍ أَعْرِفُهَا غَيْرَ التَّاسِعَ مِنْهَا ، فَإِنْ لَمْ تَصَدَّقِيْنِى الْخَبَرَ ضَرَبْتُ عُنْقَكِ ، فَقَالَتْ لَهُ : إِنَّ آبَاكَ عَنِينٌ فَخِفْتُ عَلَى الْمَالِ ، فَمَكَنْتُ الرَّاعِيَ مِنْ نَفْسِي، فَأَنْتَ مِنْهُ

ترجمہ: جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو ولید نے اپنی ماں سے کہا کہ محمد نے میری نو صفتیں بیان کی ہیں جن کو میں جانتا ہوں سوائے آخری صفت ( حرام زاد ہونے) کے اور اگر تو مجھ سے سچی بات نہیں بتائے گی تو تیری گردن اڑا دوں گا۔ پس ولید سے اس کی ماں نے کہا: تیرا باپ نامرد تھا اور مجھ کو مال و دولت کے ضائع ہونے کا ڈر ہوا۔ پس میں نے ایک چرواہے کو اپنے اوپر قدرت دی اور تو اس چرواہے کا بیٹا ہے۔

نوٹ

«تفسیر مظہری، تفسیر رازی، تفسیر خازن، تفسیر کشاف ” چاروں میں زنیم کا معنی یہی لکھا ہے کہ زنیم وہ ہے جو ولد الزنا ہو، حلالی نہ ہو، جو کسی قوم میں شمار ہو اور ان سے نہ ہو اور یہ ولید ایسا ہی تھا۔

جناب عمر اور ولید بن مغیرہ کا نسب پیغمبر کی نگاہوں میں ایک جیسا تھا صفوة الصفوۃ کی عبارت ملاحظہ ہو

فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى أَتَى عُمَرَ، فَأَخَذَ بِمَجَامِعِ ثَوْبِهِ وَحَمَائِلِ السَّيْفِ، فَقَالَ: مَا أَنْتَ مُنْتَهَبًا يَا عُمَرُ حَتَّى يُنْزِلَ اللهُ يَعْنِي بِكَ مِنَ الْخِزْيِ وَالنَّكَالِ مَا نَزَلَ بِالْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ) (1)

ترجمہ: (جب جناب عمر تلوار لے کر رسول اللہ کو قتل کرنے کے لئے آئے تھے اور نبی کریم کو اطلاع ملی تھی) پس حضور اٹھے حتی کہ گریبان عمر اور نیام عمر سے پکڑ کر فرمایا کہ تو باز نہیں آئے گا اے عمر احتی کہ اللہ تعالیٰ تیرے بارے میں اس رسوائی والی بات کی خبر دے جو ولید بن مغیرہ کے متعلق دی ہے۔

#اہلسنت_کے_جعلی_کارڈ

اہلسنت شیعوں کے خلاف ایسی باتوں سے استدلال کرتے ہیں جو ان کے مذہب میں خود حرام عمل ہوتے ہیں ۔ یا اس سے استدلال کرنا ہی جائز نہیں ہوتا۔

بیعت کا کارڈ ۔

بیعت کا کارڈ وہ اپنے منافقین و فاسقین حکمرانوں کو بچانے کے لئے ہمارے سامنے بیعت کا کارڈ کھیلتے ہیں جبکہ ان کے ہاں شیطان دل حکمران کی اطاعت کرنا واجب ہے اور جو نہ کرے گا وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔

صحیح مسلم ۔ حدیث۔ ۴۷۸۵
صحیح بخاری ۔حدیث ۔ ۷۰۵۳

یاد رہے شیعہ مکتب میں ہمارے کسی امام کا بالرضا بیعت کرنا ثابت ہی نہیں ۔

رشتے داری کا کارڈ ۔

پھر وہ اپنے فاسق و منافق حکمرانوں کو بچانے کے لیے رشتے داری کا کارڈ کھیلتے ہیں۔ دیکھتے ہیں قرآن اس بارے کیا اصول دیتا ہے؟

(سورہ التحریم آیت ۱۰)

ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ

اور اللہ کافروں کیلئے نوح(ع) اور لوط(ع) کی بیویوں کی مثال بیان کرتا ہے جو دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کی زوجیت میں تھیں پس انہوں نے ان کے ساتھ خیانت (غداری) کی تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے اور ان دونوں (بیویوں) سے کہا گیا کہ تم بھی دوزخ میں داخل ہو جاؤ اور داخل ہو نے والوں کے ساتھ۔

اس آیت میں ایک جملہ جو ہمارے موضوع سے مربوط ہے وہ یہ ہے

ان دونوں یعنی ازواج نوح و لوط کو (نبی کی بیویاں ہونے باجود) اللہ کے مقابلے میں انہیں کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے۔

یعنی نبی کی بیوی ہو یا نبی کا بیٹا جیسے نوح علیہ السلام کے بیٹے کا ذکر ہے انکو ان کی رشتہ داری کوئی بھی فائدہ نہ پہنچا سکی۔

تو ہمیں سمجھ نہیں آتی یہ لوگ عائشہ کو زوجہ رسول ہونے کیوجہ سے کیوں بچانے کی کوشش کرتے ہیں ؟
کیونکہ انکو علم ہے ان کے پاس ایمان اور اعمال پیش کرنے کو کچھ بھی نہیں۔

کیونکہ اسی قرآن نے اسکے دل ٹیڑھے ہونے کی گواہی دی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکو صواحب یوسف قرار دیا ہے۔

صحابی رسول ہونے کا تیسرا کارڈ ۔

جب نبی کی رشتہ داری ہونے کا کارڈ قرآن و سنت کے تحت خدا کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں تو نبی کی صحبت میں رہنے سے یہ کارڈ تو بالکل بھی اہمیت نہیں رکھتا۔
اور اسی قرآن نے سورہ منافقین اتاری ہے اور یہ کوئی اور نہیں نبی کی صحبت میں بیٹھنے والے صحابہ ہی تھے اس کےبعد آپ سورہ توبہ سورہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اور سورہ احزاب کا مطالعہ کریں تو آپکو علم ہوجائے گا نبی کے ارگرد بیٹھنے والے اور مکہ سے بھی اچھے خاصے منافق موجود تھے۔ جو منافقت میں بہت بڑے ڈرامے باز اور بہترین اداکار تھے۔

(سورہ توبہ آیت ۱۰۱)

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ ۚ سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَىٰ عَذَابٍ عَظِيمٍ

اور جو تمہارے اردگرد صحرائی عرب بستے ہیں ان میں کچھ منافق ہیں۔ اور خود مدینہ کے باشندوں میں بھی (منافق موجود ہیں) جو نفاق پر اڑ گئے ہیں (اس میں مشاق ہوگئے ہیں) (اے رسول(ص)) آپ انہیں نہیں جانتے لیکن ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو (دنیا میں) دوہری سزا دیں گے۔ پھر وہ بہت بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

یہ جو صحابہ کا کارڈ کھیلتے ہیں تو بتائیں یہ منافقین کون تھے ان کی لسٹ ہمیں بھیجیں ۔

ان کے پاس نہ ان بارہ منافقین کے نام ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عقبہ میں قتل کرنے کی کوشش کی تھی اور نہ اس آیت میں منافقین کے نام موجود ہیں تو پھر کس اصول سے یہ لوگ عدالت صحابہ کا کف ریہ کارڈ کھیلتے ہیں۔

تو یہ بات ثابت ہوئی یہ فراڈ اور جعلی جذباتی باتوں سے اپنی عوام کو دھوکہ دیتے ہیں ۔ اور انکو منافقین و فاسقین کی محبت کا شربت پلاتے رہتے ہیں۔ بالکل جیسے بنی اسرائیل کو گوسالہ و سامری کی محبت کا شربت پلا دیا گیا تھا۔

سید عمار حسینی

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
کیا آئمہ اہل بیت نے گالی دینے کا حکم دیا ہے؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions