مولا علی علیہ السلام اپنے سے جنگ کرنے والوں کو اپنا بھائی کہتے تھے

شیخ حر عاملی علیہ الرحمہ نے ایسی معنی کی روایت کو تقیہ پر محمول کیا ہے
شیخ مفید نے کہا یہ خبر شاذ ہے نہ تو یہ متواتر ہے اور نہ ہی محدثین نے اس کی صحت پر اتفاق کیا ہے
حدیث کا ایک صحیح معنی بھی ہے
اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ حدیث معتبر ہے تو بھی اس کا ایک درست مفہوم موجود ہے
حدیث میں آیا ہے وہ ہمارے بھائی ہیں جنہوں نے ہم پر بغاوت کی اور بھائی چارہ دو قسم کا ہوتا ہے دینی بھائی چارہ اور نسبی یا قبیلہ کا بھائی چارہ
یہ ممکن ہے کہ یہاں بھائی چارہ سے مراد قبیلہ یا نسب کا تعلق ہو
روایات میں آیا ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اس حدیث میں مذکور بھائی چارہ کو نسبی بھائی چارہ قرار دیا اور قرآن سے اس پر استدلال کیا
ایک روایت میں ہے کہ ایک شامی شخص امام زین العابدین علیہ السلام کے پاس آیا اور کہا کیا آپ علی بن الحسین ہیں فرمایا ہاں اس نے کہا آپ کے والد نے مومنوں کو قتل کیا امام علیہ السلام نے فرمایا تم نے یہ کیسے فیصلہ کر لیا کہ انہوں نے مومنوں کو قتل کیا اس نے کہا کیونکہ وہ فرماتے تھے ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے اس نے کہا کیوں نہیں فرمایا اللہ نے فرمایا مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو کیا وہ دین میں بھائی تھے یا نسب میں اس نے کہا نسب میں تو امام نے فرمایا یہی معنی یہاں بھی ہے وہ نسبی بھائی تھے نہ کہ دینی
تفسير العياشيّ ج2 ص23
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص نے امام زین العابدین علیہ السلام سے کہا کہ آپ کے جد علی علیہ السلام نے مومنوں کو قتل کیا تو امام علیہ السلام نے فرمایا خدا کی قسم علی نے نہ کسی مومن کو قتل کیا نہ کسی مسلمان کو وہ لوگ ظاہراً اسلام لائے تھے مگر دل میں کفر چھپائے ہوئے تھے جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے اپنا کفر ظاہر کر دیا
پھر ایک شخص نے کہا کہ آپ کے جد فرماتے تھے ہمارے بھائیوں نے ہم پر بغاوت کی تو امام علیہ السلام نے فرمایا کیا تم قرآن نہیں پڑھتے اللہ فرماتا ہے عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا پس وہ بھی اسی طرح نسبی بھائی تھے
الاحتجاج ج2 ص40].
حدیث کا قوی روایات سے معارض ہونا
اگر ہم سابقہ باتوں کو بھی تسلیم کر لیں تو یہ حدیث ان روایات کے مقابلے میں ہے جو اس سے زیادہ قوی اور مشہور ہیں
شیخ مفید نے کہا یہ خبر شاذ ہے اور اس کے مقابلے میں وہ روایت ہے جو زیادہ مشہور ہے کہ ایک شخص نے امیر المؤمنین علیہ السلام سے پوچھا کہ ہم ان لوگوں سے کیوں جنگ کر رہے ہیں جبکہ وہ ہماری طرح کلمہ پڑھتے ہیں اور ہماری قبلہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں تو امام علیہ السلام نے بلند آواز سے یہ آیت تلاوت کی اگر وہ اپنے عہد کو توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو
الإفصاح ص125
اس کی ایک تائید یہ بھی ہے کہ اس کا راوی حسین بن علوان ہے جو اہل سنت میں سے ہے