معاویہ کے فضائل میں بیان ہونے والی روایات کی حقیقت سنی کتابوں میں۔
صحیح بخاری
بخاری دوسرے اصحاب کے فضائل بیان کرتا ہے تو اس کو فضائل سے تعبیر کرتا ہے مثلا فضائل علی ابن ابی طالب ع، مناقب فاطمہ زہراء ع لیکن جب معاویہ کی باری آتی ہے تو نہ فضائل کا لفظ لکھتا ہے نہ ہی منقبت کا بلکہ فقط ذکر سے تعبیر کرتا ہے۔
کیوں؟ کیوں کہ معاویہ کے فضائل ثابت ہی نہیں ہیں۔
جی ہاں یے ہم نہیں کہتے اہل سنت کے علماء نے اس طرح کہا ہے:
بدر الدین عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں اس کی علت یے لکھتا ہے:
مطابقته للتَّرْجَمَة من حَيْثُ إِن فِيهِ ذكر مُعَاوِيَة، وَلَا يدل هَذَا على فضيلته. فَإِن قلت: قد ورد فِي فضيلته أَحَادِيث كَثِيرَة. قلت: نعم، وَلَكِن لَيْسَ فِيهَا حَدِيث يَصح من طَرِيق الْإِسْنَاد نَص عَلَيْهِ إِسْحَاق بن رَاهَوَيْه وَالنَّسَائِيّ وَغَيرهمَا، فَلذَلِك قَالَ: بَاب ذكر مُعَاوِيَة، وَلم يقل: فَضِيلَة وَلَا منقبة.
اس حدیث کے باب کے عنوان سے مناسبت یہ ہے کہ اس میں حضرت معاویہ کا صرف ذکر آیا ہے، اور محض یہ ذکر ان کی کسی فضیلت پر دلالت نہیں کرتا۔
*اگر یہ کہا جائے کہ حضرت معاویہ کی فضیلت میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی
