Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

قرآن میں اللہ کے ہاتھ سے کیا مراد ہیں ؟

January 19, 2026
0
0

کیونکہ مجسمہ کے نزدیک اس سے جسم کا اثبات کیا جاتا ہے

آیت کا معنی
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قَالَ يَا إِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾
(سورہ ص: 75)
جواب:
یہاں “ید” سے مراد حقیقی ہاتھ نہیں، بلکہ قدرت، قوت یا نعمت ہے۔ عربی زبان میں “ید” کا استعمال مجازاً قدرت و نعمت کے معنی میں عام ہے، اور قرآنِ کریم میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔
قرآنی مثالیں:
﴿وَاذْكُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
(سورہ ص: 17)
یعنی: ہمارے بندے داؤد کو یاد کرو جو قوت/قدرت یا نعمتوں والے تھے۔
یہ درست ہے، کیونکہ حضرت داؤدؑ بادشاہ تھے، اللہ نے انہیں ملک، حکمت، قوت اور نعمتیں عطا کی تھیں۔
﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ﴾
(سورہ الذاریات: 47)
یعنی: ہم نے آسمان کو قوت کے ساتھ بنایا۔
﴿وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ﴾
(سورہ المجادلہ: 22)
یعنی: اللہ نے انہیں اپنی طرف سے ایک روح کے ذریعے قوت بخشی۔
حدیث کی روشنی میں:
شیخ صدوقؒ روایت کرتے ہیں کہ محمد بن مسلم نے امام محمد باقرؑ سے آیت
﴿لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ﴾
کے بارے میں سوال کیا تو امامؑ نے فرمایا:
“عرب کے کلام میں ‘ید’ سے مراد قوت اور نعمت ہوتی ہے۔”
پھر امامؑ نے یہی آیات بطور مثال ذکر فرمائیں اور بتایا کہ عرب کہتے ہیں:
“فلان کے مجھ پر بہت سے ‘ایادی’ ہیں”
یعنی اس کے مجھ پر بہت سے احسانات ہیں، اور
“اس کا میرے پاس سفید ہاتھ ہے”
یعنی اس کی مجھ پر بڑی نعمت ہے۔
(کتاب التوحید، ص 153)
شیخ مفیدؒ کا بیان:
شیخ مفیدؒ فرماتے ہیں کہ “ید” نعمت کے معنی میں آتی ہے۔ شاعر کا قول ہے:
لہ علیّ أیادٍ لستُ أكفرها
وإنما الكفر ألا تُشكرَ النِّعَمُ
یعنی: اس کے مجھ پر ایسے احسانات ہیں جن کا میں انکار نہیں کرتا،
اصل ناشکری یہ ہے کہ نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا جائے۔
اسی بنا پر آیت
﴿دَاوُودَ ذَا الْأَيْدِ﴾
سے مراد نعمتوں والا ہے، اور
﴿بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ﴾
سے مراد اللہ کی دنیا و آخرت کی عام اور وسیع نعمتیں ہیں۔
(تصحيح اعتقادات الإمامية، ص 30

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
اعتقادات
عقیدہ رجعت
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions