فرق بین عقیدۂ توحیدِ شیعہ اور مخالفین کے عقیدۂ الٰہ

شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نگاہوں سے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ وہ جسم نہیں ہے۔ وہ ہر قسم کی تشبیہ اور جسمانیت سے پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾، اس جیسا کوئی نہیں۔ وہ بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے، مگر قربِ مکانی کے معنی میں نہیں۔ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ جو شخص اللہ کے لیے جسم، اعضاء یا کسی چیز کی احتیاج ثابت کرے، وہ اللہ کو مخلوق کے مشابہ قرار دیتا ہے۔ اللہ کے لیے چہرہ، ہاتھ اور دیگر الفاظ سے جسمانی اعضاء مراد نہیں لیے جاتے، بلکہ ان کی وہی تفسیر کی جاتی ہے جو قرآن اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کے مطابق ہو۔
مراجع: کفایة الأثر، ص 66
نہج البلاغہ، خطبہ 186
الاعتقادات للشیخ الصدوق، ص 22 تا 26
اس کے برعکس مخالفین کی معتبر کتب میں ایسی روایات موجود ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنے، آدمؑ کی صورت پر ہونے، نوجوان کی شکل میں ہونے، آسمانِ دنیا پر نازل ہونے، بیٹھنے، چڑھنے، اترنے، حرکت کرنے اور دیگر جسمانی اوصاف کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
حوالہ جات: صحیح بخاری
سلسلة الأحاديث الصحيحة
الأربعون في دلائل التوحيد
مسائل ابن باز
الجامع الصحيح
قرآن مجید کا واضح اعلان ہے:
﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾
جب اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں، تو پھر اس کے لیے جسم، اعضاء، حرکت، نزول اور جلوس جیسے اوصاف ثابت کرنا کس طرح درست ہو سکتا ہے؟

شیعہ مکتبِ اہلِ بیتؑ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کسی کے احاطۂ بیان میں نہیں آ سکتی۔ انسان اللہ کی حقیقت کو مکمل طور پر بیان کرنے سے عاجز ہے، کیونکہ اس کی قدرت اور عظمت ہر بیان سے بلند تر ہے۔
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
“بے شک اللہ عزوجل کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آخر اسے کیسے بیان کیا جا سکتا ہے، جبکہ خود اللہ نے فرمایا ہے: ‘انہوں نے اللہ کی اس طرح قدر نہیں کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔’ لہٰذا اللہ کی قدرت کو بیان نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ وہ اس سے کہیں عظیم تر ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ اہلِ بیتؑ نے اللہ تعالیٰ کو جسم، صورت، کیفیت، حد اور تشبیہ سے منزہ قرار دیا ہے۔ انسان صرف اتنا جان سکتا ہے جتنا اللہ اور اس کے رسولؐ و اہلِ بیتؑ نے بیان فرمایا ہے، لیکن اللہ کی حقیقت اور اس کی کامل قدرت کا احاطہ کسی کے بس میں نہیں۔
حوالہ:
شرح توحید الصدوق، ج 2، ص 407-408، باب القدرۃ، حدیث 6۔

قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ﴾
“جس دن ساق کھولی جائے گی۔”
بعض لوگوں نے اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی “ساق” (پنڈلی) ثابت کرنے کی کوشش کی، جبکہ مکتبِ اہلِ بیتؑ اس تفسیر کو درست نہیں مانتا۔
امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے اس آیت کی تفسیر میں روایت ہے:
“اللہ تعالیٰ نور کے حجاب کو آشکار کرے گا، پھر مؤمن سجدے میں گر جائیں گے، جبکہ منافقین کی کمر اکڑ جائے گی اور وہ سجدہ نہیں کر سکیں گے۔”
عربی زبان میں “کشف عن ساق” ایک معروف محاورہ ہے، جس سے مراد کسی معاملے کی شدت، سختی اور حقیقت کا ظاہر ہونا ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانی پنڈلی ثابت کرنا۔
لہٰذا مکتبِ اہلِ بیتؑ کے نزدیک اس آیت کا تعلق قیامت کے دن کی ہولناکی اور عظمت سے ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کے لیے جسمانی اعضا ثابت کرنے سے۔
حوالہ:
شرح توحید الصدوق، ج 2، ص 573، باب تفسیر قولہ تعالیٰ: ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ﴾۔