Recommended articles
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حدیث (حب علی حسنۃ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ…) کا ایک جائزہ
July 29, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
علوم قرآن

عدم تحریف پر عقلی اور نقلی دلیلیں

July 23, 2026
0
0

ہمارے عقیدہ کے مطابق بہت سے عقلی اور نقلی دلائل موجود ہیں جو قرآن مجید کی عدم تحریف پر دلالت کرتے ہیں کیونکہ ایک تو خود قرآن مجید فرماتا ہے: ہم نے قرآن مجید کو نازل کیا اور اس کی حفاظت بھی ہمارے ذمہ ہے۔ ایک اور مقام پریوں ارشاد ہوتا ہے:
”یہ کتاب شکست ناپذیر ہے۔ اس میں باطل اصلاً سرایت نہیں کر سکتا ہے نہ سامنے سے ا ور نہ پیچھے کی طرف سے کیونکہ یہ حکیم و حمید خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہے ”۔
کیا اس قسم کی کتاب جس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے لی ہو اس میں کوئی تحریف کرسکتا ہے ؟
اور ویسے بھی قرآن مجید کوئی متروک اور بھلائی گئی کتاب نہیں تھی کہ کوئی اس میں کمی یا زیادتی کرسکے۔
کاتبان وحی کی تعداد چودہ سے لیکر تقریباً چار سو (400) تک نقل کی گئی ہے۔ جیسے ہی کوئی آیت نازل ہوتی یہ افراد فورا ًاسے لکھ لیتے تھے۔ علاوہ بر ایں سینکڑوں حافظان قرآن پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں تھے جو آیت کے نازل ہوتے ہی اس کو حفظ کر لیتے تھے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا اس زمانے میں انکی سب سے اہم عبادت شمار ہوتی تھی۔ اور دن رات قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی تھی۔
اس سے بڑھ کر قرآن مجید، اسلام کا بنیادی قانون اور مسلمانوں کی زندگی کا آئین و اصول تھا اور زندگی کے ہر شعبے میں قرآن مجید حاضر و موجود تھا۔
عقل یہ حکم لگاتی ہے کہ ایسی کتاب میں تحریف اور کسی کمی اور زیادتی کا امکان نہیں ہے۔
آئمہ معصومین علیہم السلام سے جو روایات ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی قرآن مجید کی عدم تحریف اور تمامیت پر تاکید کرتی ہیں۔
امیر المومنین علی (ع)، نہج البلاغہ میں واضح الفاظ میں فرماتے ہیں:
“اللہ تعالیٰ نے ایسا قرآن مجید نازل کیا جو ہر شے کو بیان کرتا ہے پھراس نے اپنے پیغمبر (ص) کو اتنی عمر عطا فرمائی کہ وہ اپنے دین کوتمہارے لیے قرآن مجید کے وسیلہ سے کامل کردیں “۔
نہج البلاغہ کے خطبوں میں بہت سے مقامات پر قرآن مجید کا تذکرہ ہوا ہے لیکن کہیں بھی قرآن مجید کی تحریف سے متعلق زرہ برابر اشارہ نہیں ملتا بلکہ قرآن مجید کے کامل ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔
نویں امام حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اپنے ایک صحابی کو لوگوں کے حق سے منحرف ہو جانے کے بارے میں فرماتے ہیں۔
(و کان من نبذهم الکتاب ان ا قامو حروفه و حرفو حدوده )۔
بعض لوگوں نے قرآن مجید کو چھوڑ دیا ہے، وہ اس طرح کہ اس کے الفاظ کو انہوں نے حفظ کرلیا ہے اور اس کے مفاہیم میں تحریف کی ہے۔
یہ اور اسکی مانند دیگر احادیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قرآن مجید کے الفاظ میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ اس کے معانی میں تحریف ہوئی ہے۔ بعض لوگ اپنی خواہشات اور ذاتی منافع کی خاطر آیات کی خلاف واقع تفسیر و تو جیہ کرتے ہیں۔ یہاں سے ایک اہم نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ اگر بعض روایات میں تحریف کی بات ہوئی بھی ہے تو اس سے تحریف معنوی اور تفسیر بالرائے مراد ہے نہ الفاظ و عبارات کی تحریف۔
دوسری طرف سے بہت سی معتبر روایات جو ائمہ معصومین (ع)سے ہم تک پہنچی ہیں میں بیان کیا گیا ہے کہ روایات کے صحیح و ناصحیح ہونے کی تشخیص کے لئے بالخصوص جب انکے در میان ظاہراً تضاد و اختلاف پایا جا رہا ہو تو معیار، قرآن مجید کے ساتھ تطبیق دینا ہے۔ جو حدیث قرآن مجید کے مطابق ہو وہ صحیح ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو حدیث قرآن مجید کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے۔
(اعرضوا هما علی کتاب اللّٰه فما وافق کتاب اللّٰه فخذوه و ما خالف کتاب اللّٰه فردّوه)۔
یہ بالکل واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید میں تحریف نہیں ہوئی ہے۔ کیونکہ اگر تحریف ہوجاتی تو قرآن مجید حق و باطل کی تشخیص کا معیار قرار نہیں پا سکتا تھا۔
ان تمام ادلہ سے بڑھ کر مشہور حدیث ”حدیث ثقلین” شیعہ و اہل سنت کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل ہوئی ہے
جس میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
(انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰه و عترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهما لن تضلو)۔
میں تمہارے در میان دو یادگارگرانبہا چیزیں چھوڑ کر جارہاہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت ہے اگر ان دونوں سے تمسک رکھا تو ہرگز گمراہ نہیں ہوں گے۔
یہ حدیث شریف بالکل واضح کررہی ہے کہ قرآن مجید، عترت پیغمبر(ص) کے ساتھ قیامت تک لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک انتہائی مطمئن پناہ گاہ ہے۔ اب اگر قرآن مجید خود تحریف کا شکار ہو جا تا تو وہ کس طرح لوگوں کے لئے ایک مطمئن پناہ گاہ بن سکتا تھا اور انہیں ہر قسم کی گمراہی سے نجات دلا سکتا تھا۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
علوم قرآن
زبان قرآن کی شناخت
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions