حضرت محسن بن علیؑ کا وجود اہلِ سنت کی کتب سے ثابت
اکثر یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ حضرت محسن بن علی علیہ السلام کا تاریخ میں کوئی وجود نہیں تھا، حالانکہ اہلِ سنت کی متعدد معتبر کتب اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔ ذیل میں چند اہم حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں:
1۔ الشجرة النبوية
حضرت فاطمہ زہراؑ کی اولاد میں درج ہیں:
– امام حسنؑ
– امام حسینؑ
– حضرت زینبؑ
– حضرت ام کلثومؑ
– حضرت محسنؑ
—
2۔ سيرة عبد البر
حضرت فاطمہؑ کی اولاد کے طور پر ذکر کیا ہے:
– حسنؑ
– حسینؑ
– محسنؑ
– ام کلثومؑ
– زینبؑ
—
3۔ الشجرة النبوية
حضرت محسنؑ کے بارے میں لکھا ہے:
«بعض نے کہا کہ وہ پیدائش کے بعد وفات پا گئے، جبکہ صحیح قول یہ ہے کہ حضرت فاطمہؑ کا حمل ساقط ہوگیا تھا۔»
—
4۔ كتاب الثقات
حضرت علیؑ کی اولاد کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
«حضرت فاطمہؑ سے حسنؑ، حسینؑ، محسنؑ، ام کلثوم کبریٰ اور زینب کبریٰ پیدا ہوئے۔»
—
5۔ صحيح ابن حبان
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«پہلے بیٹے کا نام حسن، دوسرے کا حسین اور تیسرے کا محسن رکھو، کیونکہ یہ ہارونؑ کے بیٹوں شبیر، شبیر اور مشبر کے ہم نام ہیں۔»
—
6۔ سير أعلام النبلاء
امام ذہبی نقل کرتے ہیں:
«محمد بن حماد قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے اتنا روتے تھے کہ حضرت فاطمہؑ کے حملِ محسن کے ساقط ہونے کا ذکر کرتے ہوئے بھی گریہ کرتے تھے۔»
—
7۔ نزهة المجالس
حضرت فاطمہؑ کی اولاد کے بارے میں لکھا:
«حسن، حسین، محسن (جو ساقط ہوئے)، زینب کبریٰ اور زینب صغریٰ۔»
—
8۔ فتح الباري
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
«حضرت فاطمہؑ سے حضرت علیؑ کی اولاد حسن، حسین اور محسن تھے۔»
—
9۔ تهذيب الأسماء واللغات
امام نووی لکھتے ہیں:
«حضرت فاطمہؑ سے حضرت علیؑ کی اولاد حسن، حسین، محسن، ام کلثوم اور زینب تھیں۔»
—
10۔ غاية الاختصار
امام نووی نے بھی حضرت فاطمہؑ کی اولاد میں حضرت محسنؑ کا ذکر کیا ہے۔
—
11۔ الشجرة النبوية
حضرت فاطمہؑ کی اولاد میں واضح طور پر حضرت محسنؑ کا نام درج کیا گیا ہے۔
—
12۔ أبو طالب والوفيات
مصنف لکھتے ہیں:
«حضرت علیؑ کی اولاد میں حضرت محسنؑ بھی تھے، اور “والمحسن طُرح” یعنی حضرت محسنؑ حمل ہی میں ساقط ہوگئے۔»
—
13۔ دلائل الإمامة
امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے:
«امام حسینؑ کے بعد نو ائمہ ہوں گے، جن میں نواں قائمؑ ہوگا۔»
اسی کتاب میں رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے:
«علیؑ، حسنؑ، حسینؑ اور حسینؑ کی نسل سے ائمہؑ کو منتخب فرمایا، جو دین کو تحریف کرنے والوں، باطل پرستوں اور جاہلوں کی تاویلات سے محفوظ رکھیں گے۔»
—
نتیجہ
یہ کہنا کہ حضرت محسن بن علیؑ کا تاریخ میں کوئی وجود نہیں تھا یا ان کا ذکر صرف شیعہ کتب میں ملتا ہے، درست نہیں۔
اہلِ سنت کی متعدد معتبر کتبِ تاریخ، انساب، رجال اور تراجم میں حضرت محسنؑ کا نام موجود ہے، بلکہ کئی کتب میں یہ بھی صراحت کی گئی ہے کہ حضرت محسنؑ حضرت فاطمہ زہراؑ کے حمل میں ساقط ہوئے تھے۔
حق کی تلاش کرنے والوں کے لیے اصل مصادر ہی بہترین فیصلہ کن دلیل ہیں۔

