Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

جناب سیدہ سلام اللہ علیھا أبو بكر عمر سے راضی ہوگیی؟؟؟

June 30, 2026
0
0

اوّلًا: یہ خطبہ خود اہلِ سنت کی کتابوں میں موجود ہے جسے وہ خود بیان کرتے اور اس کا چرچا کرتے ہیں۔

 

شبہ کا جواب

حضرت سیدۂ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا شیخین (ابوبکر و عمر) پر غضب کرنا ان کی خلافت کی مشروعیت کو منہدم کر دیتا ہے

کیونکہ اہلِ سنت کی معتبر ترین کتابوں میں صحیح سند کے ساتھ یہ بات ثابت ہے کہ حضرت فاطمہؑ کا غضب اور رضا درحقیقت رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ کا غضب اور رضا ہے۔

اسی وجہ سے مخالفین کے علماء نے ایک ایسی روایت گھڑ لی جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ سیدۂ طاہرہؑ اپنی زندگی کے آخری ایام میں شیخین سے راضی ہو گئی تھیں، جب وہ دونوں ان کی عیادت کے لیے آئے۔

اوّلًا: یہ روایت مرسل ہے

کیونکہ “شعبی” تابعی ہے اور وہ اس واقعہ کے وقت موجود نہیں تھا۔ لہٰذا یہ روایت اسی علت کا شکار ہے جس کا ذکر بلاذری اور طبری کی روایات کے بارے میں خود ان کے علماء نے کیا ہے۔

ثانیًا: اگر بالفرض تابعی کی مرسل روایت کو حجت مان بھی لیا جائے، تب بھی یہاں یہ قابلِ قبول نہیں، کیونکہ “شعبی” ناصبی تھا اور امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا دشمن تھا، جیسا کہ ابو حامد غزالی اور بلاذری نے خود اس سے نقل کیا ہے

روایت

عن مجالد عن الشعبي قال: قدمنا علي الحجاج البصرة، وقدم عليه قراء من المدينة من أبناء المهاجرين والأنصار، فيهم أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنه… وجعل الحجاج يذاكرهم ويسألهم إذ ذكر علي بن أبي طالب فنال منه ونلنا مقاربة له وفرقاً منه ومن شره….

البلاذري، أحمد بن يحيي بن جابر (متوفاي279هـ) أنساب الأشراف، ج 4، ص 315

الغزالي، محمد بن محمد أبو حامد (متوفاي505هـ)، إحياء علوم الدين، ج 2، ص 346، ناشر: دار االمعرفة – بيروت.

ہم حجاج کے پاس بصرہ گئے…… جب حضرت علیؑ کا ذکر ہوا تو حجاج نے ان کی تنقیص کی اور ہم نے بھی اس کے خوف اور اس کے شر سے بچنے کے لیے اس کی موافقت کی۔

لہٰذا سوال یہ ہے کہ کیا ایک ناصبی کی روایت ہمارے لیے حجت ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے حساس مسئلے میں

حضرت فاطمہؑ کا ابوبکر پر غضب اہلِ سنت کی صحیح ترین کتابوں میں

ثانیًا

حضرت فاطمہؑ کا حضرت ابوبکر پر غضب آفتاب سے بھی زیادہ واضح ہے اور اس کا انکار ممکن نہیں، کیونکہ امام بخاری نے اپنی صحیح (جو اہلِ سنت کے نزدیک سب سے معتبر کتاب ہے) میں روایت کیا ہے کہ سیدۂ طاہرہؑ اپنی وفات تک ابوبکر سے ناراض رہیں.

قال في أبواب الخمس:

فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رسول اللَّهِ صلي الله عليه وسلم فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ فلم تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حتي تُوُفِّيَتْ.

پس فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ ناراض ہو گئیں اور ابوبکر سے ترکِ تعلق کر لیا، اور اپنی وفات تک ان سے بات نہ کی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)
، صحيح البخاري، ج 3، ص 1126، ح2926، باب فَرْضِ الْخُمُسِ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا،
ناشر: دار ابن كثير، اليمامة – بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987.

_______

قال في المغازي، باب غزوة خيبر، حديث 3998 :

فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ علي أبي بَكْرٍ في ذلك فَهَجَرَتْهُ فلم تُكَلِّمْهُ حتي تُوُفِّيَتْ

فاطمہؑ کو ابوبکر پر غصہ آیا، پس انہوں نے اس تعلق ختم کردیا اور وفات تک ان سے بات نہیں کی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)،
صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفي ديب البغا،
ناشر: دار ابن كثير، اليمامة – بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987.

_______

في كتاب الفرائض، بَاب قَوْلِ النبي (ص) لا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ حديث 6346 :

فَهَجَرَتْهُ فَاطِمَةُ فلم تُكَلِّمْهُ حتي مَاتَتْ.

فاطمہؑ نے ابوبکر سے کنارہ کشی اختیار کی اور وفات تک ان سے کلام نہیں کیا۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)،
صحيح البخاري، ج 6، ص 2474، ح6346، كتاب الفرائض، بَاب قَوْلِ النبي (ص) لا نُورَثُ ما تَرَكْنَا صَدَقَةٌ، تحقيق د. مصطفي ديب البغا،
ناشر: دار ابن كثير، اليمامة – بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987.

_______

وفيما رواه ابن قتيبة، أن الشيخين لما أتيا لعيادتها سلام الله عليها لم تأذن لهما، حتی أنهما توسلا بعلي عليه السلام فتوسط الإمام عليه السلام ، فقالت السيدة فاطمة عليها السلام البيت بيتك.
فأذن لهما امير المؤمنين عليه السلام إتماما للحجة، ولئلا يقولا إن عليا عليه السلام ما سمح لنا أن نكسب رضاية فاطمة سلام الله عليها، فلما دخلا عليها سلام الله عليها وحاولا كسب رضايتها، قالت لهما عليها السلام

نشدتكما الله ألم تسمعا رسول الله يقول «رضا فاطمة من رضاي وسخط فاطمة من سخطي فمن أحب فاطمة ابنتي فقد أحبني ومن أ رضي فاطمة فقد أرضاني ومن أسخط فاطمة فقد أسخطني »

نعم سمعناه من رسول الله صلي الله عليه وسلم.

فإني أشهد الله وملائكته أنكما أسخطتماني وما أرضيتماني ولئن لقيت النبي لأشكونكما إليه.

والله لأدعون الله عليك في كل صلاة أصليها.

جب شیخین حضرت فاطمہؑ کی عیادت کے لیے آئے تو آپؑ نے انہیں اجازت نہیں دی، یہاں تک کہ انہوں نے حضرت علیؑ کے ذریعے وساطت کروائی۔

جناب سیدہ سلام اللہ علیھا نے فرمایا یہ گھر آپ کا گھر ہے

پھر حضرت علیؑ نے حجت تمام کرنے کے لیے انہیں داخل ہونے کی اجازت دی تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں راضی ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔

جب وہ اندر آئے اور رضا حاصل کرنے کی کوشش کی تو حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
“میں تمہیں خدا کی قسم دیتی ہوں، کیا تم نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہیں سنا کہ:
فاطمہ کی رضا میری رضا ہے اور فاطمہ کا غضب میرا غضب ہے؟”
انہوں نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔
پس حضرت فاطمہؑ نے فرمایا:
“میں اللہ اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا ہے اور مجھے راضی نہیں کیا، اور جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ سے ملوں گی تو تمہاری شکایت کروں گی۔
خدا کی قسم! میں ہر نماز میں تمہارے خلاف دعا کروں گی۔”

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)،
الإمامة والسياسة، ج 1، ص 17، باب كيف كانت بيعة علي رضي الله عنه، تحقيق: خليل المنصور،

ناشر: دار الكتب العلمية – بيروت – 1418هـ – 1997م.
لہٰذا سوال یہ ہے

جب صحیح بخاری جیسی معتبر کتاب میں ان کا غضب ثابت ہے، تو ہم کیسے مان لیں کہ وہ راضی ہو گئیں؟
کیا بخاری کی روایت مقدم ہے یا بیہقی کی، خاص طور پر جب وہ روایت ایک ناصبی سے منقول ہو اور وہ واقعہ کا عینی شاہد بھی نہ ہو؟

ثالثًا
اگر مان لیا جائے کہ حضرت فاطمہؑ ابوبکر سے راضی ہو گئی تھیں، تو پھر انہوں نے وصیت کیوں کی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے؟
اور کیوں ان لوگوں کو اطلاع نہ دی جائے جنہوں نے ان پر ظلم کیا؟

جیسا کہ صحیح روایت میں آیا ہے

وَعَاشَتْ بَعْدَ النبي صلي الله عليه وسلم سِتَّةَ أَشْهُرٍ فلما تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيٌّ لَيْلًا ولم يُؤْذِنْ بها أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّي عليها

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کے بعد وہ چھ ماہ زندہ رہیں، پھر جب ان کا انتقال ہوا تو ان کے شوہر علیؑ نے انہیں رات کو دفن کیا اور ابوبکر کو اطلاع نہیں دی، اور خود ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔

البخاري الجعفي، محمد بن إسماعيل أبو عبدالله (متوفاي256هـ)
، صحيح البخاري، ج 4، ص 1549، ح3998، كتاب المغازي، باب غزوة خيبر، تحقيق د. مصطفي ديب البغا،

ناشر: دار ابن كثير، اليمامة – بيروت، الطبعة: الثالثة، 1407 – 1987
یقول ابن قتيبه:

وقد طالبت فاطمة رضي الله عنها أبا بكر رضي الله عنه بميراث أبيها رسول الله صلي الله عليه وسلم فلما لم يعطها إياه حلفت لا تكلمه أبدا وأوصت أن تدفن ليلا لئلا يحضرها فدفنت ليلا

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے اپنے والد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ کی میراث کا مطالبہ ابوبکر سے کیا، لیکن جب انہوں نے وہ انہیں نہ دی تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا نے قسم کھائی کہ وہ ان سے کبھی بات نہیں کریں گی، اور وصیت کی کہ انہیں رات کے وقت دفن کیا جائے تاکہ وہ (ابوبکر) ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں، چنانچہ انہیں رات ہی میں دفن کیا گیا۔

الدينوري، أبو محمد عبد الله بن مسلم ابن قتيبة (متوفاي276هـ)،
تأويل مختلف الحديث، ج 1، ص 300، تحقيق: محمد زهري النجار،
ناشر: دار الجيل، بيروت، 1393، 1972.

_______

قال عبد الرزاق صنعاني

عن بن جريج وعمرو بن دينار أن حسن بن محمد أخبره أن فاطمة بنت النبي صلي الله عليه وسلم دفنت بالليل قال فر بها علي من أبي بكر أن يصلي عليها كان بينهما شيء

و قال أیضا:

عن بن عيينة عن عمرو بن دينار عن حسن بن محمد مثله الا أنه قال اوصته بذلك.

ابن جریج اور عمرو بن دینار سے روایت ہے کہ حسن بن محمد نے خبر دی کہ حضرت فاطمہؑ کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؑ نے ابوبکر سے اس بات کو مخفی رکھا تاکہ وہ ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں، کیونکہ ان دونوں کے درمیان کچھ معاملہ تھا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
ابن عیینہ، عمرو بن دینار سے، وہ حسن بن محمد سے اسی طرح روایت کرتے ہیں، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت فاطمہؑ نے خود اس کی وصیت کی تھی۔

الصنعاني، أبو بكر عبد الرزاق بن همام (متوفاي211هـ)
، المصنف، ج 3، ص 521، ح 6554 و ح 6555، تحقيق حبيب الرحمن الأعظمي،
ناشر: المكتب الإسلامي – بيروت، الطبعة: الثانية، 1403هـ
ممکن ہے کہا جائے کہ ابوبکر نے اپنے اس فعل سے توبہ کر لی تھی،

تو اس کا جواب یہ ہے

کہ توبہ کے کچھ شرائط ہوتے ہیں، جب تک وہ پورے نہ ہوں توبہ قبول نہیں ہوتی۔
ان میں سے ایک حقیقی ندامت ہے،
اور دوسرا یہ کہ توبہ کرنے والا دوسروں کے حقوق واپس کرے۔
تو کیا ابوبکر نے سیدۂ طاہرہؑ کو فدک واپس کیا؟ تاکہ ان کی توبہ کو حقیقی (توبۂ نصوح) کہا جا سکے؟

_________

رہا یہ کہ صحیح بخاری کی اس حدیث (جس میں حضرت فاطمہؑ کا ابوبکر سے ناراض ہونا اور وفات تک بات نہ کرنا مذکور ہے) سے بچنے کے لیے ایک مرسل اور ضعیف روایت (بیہقی کی روایت) پیش کی جاتی ہے، تو یہ کسی بھی لحاظ سے انصاف نہیں۔

کیونکہ بیہقی کی روایت اگرچہ سند کے اعتبار سے “شعبی” تک صحیح ہو، لیکن خود “شعبی” کے لحاظ سے مرسل ہے،

کیونکہ عامر شعبی کی ولادت سن 19ھ میں ہوئی، جبکہ فدک کا واقعہ 11ھ میں پیش آیا،

یعنی ان کی پیدائش سے آٹھ سال پہلے۔

تو سوال یہ ہے کہ شعبی اس واقعہ میں کہاں موجود تھا؟ اس نے یہ بات کہاں سے سنی؟ اور اسے کیسے معلوم ہوا کہ حضرت فاطمہؑ نے بعد میں ابوبکر کو اجازت دی اور ان سے راضی ہو گئیں؟

اور پھر یہ علم بخاری اور مسلم سے کیوں مخفی رہا؟ انہوں نے اپنی صحیح روایات میں اس روایت کو کیوں شامل نہ کیا، حالانکہ یہ ایک بڑے اشکال کو حل کر سکتی تھی جس کے سامنے اہل سنت آج تک عاجز نظر آتے ہیں؟

پس مرسل روایات اصولاً حجت نہیں ہوتیں، تو جب وہ صحیح اور ثابت احادیث کے خلاف ہوں تو کیسے قابل قبول ہو سکتی ہیں؟

اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ ابن حجر نے فتح الباری میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بڑی تکلف سے کام لیا اور بیہقی کی روایت پر اعتماد کیا، یہاں تک کہ کہا:
اگر شعبی کی حدیث ثابت ہو جائے تو اشکال ختم ہو جائے گا۔
ہم کہتے ہیں: اگر ثابت نہ
ہو تو اشکال باقی رہے گا۔

اور ظاہر ہے کہ یہ حدیث ثابت نہیں، کیونکہ یہ مرسل ہے،

اور اس کے ثابت ہونے کا دعویٰ محض گمان ہے، جبکہ گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
حضرت فاطمہؑ کا شیخین پر غضب کرنا یہاں تک کہ آپؑ کی وفات ہو گئی، یہ اہل سنت کی سب سے معتبر کتاب (صحیح بخاری) سے ثابت ہے، لہٰذا اس کے مقابلے میں کسی اور کتاب (جیسے بیہقی) کی روایت کو ترجیح نہیں دی جا سکتی، خصوصاً جب اس روایت میں “شعبی” جیسے ناصبی راوی کا دخل ہو۔
حضرت فاطمہؑ کے ابوبکر سے راضی ہونے کے دعوے پر ایک مختصر توقف

بکریہ نے اپنی آخری دلیل کے طور پر یہ دعویٰ پیش کیا ہے کہ حضرت فاطمہؑ ابوبکر سے راضی ہو کر دنیا سے گئیں، اور اس کے لیے وہ شعبی کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں،
جو نصب (اہلِ بیتؑ سے دشمنی) کے حوالے سے معروف ہے۔ وہ روایت یوں نقل کرتے ہیں

لما مرضت فاطمة أتى أبو بكر فاستأذن فقال علي يا فاطمة هذا أبو بكر يستأذن عليك فقالت أتحب أن آذن له قال نعم قال فأذنت له فدخل عليها يترضاها ثم ترضاها حتى رضيت

(رواه البيهقي في سننه6/301 وقال مرسل بإسناد صحيح)

جب حضرت فاطمہؑ بیمار ہوئیں تو ابوبکر آئے اور اجازت طلب کی۔ حضرت علیؑ نے فرمایا: اے فاطمہ! یہ ابوبکر ہیں، آپ سے اجازت چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں انہیں اجازت دوں؟ فرمایا: ہاں۔ پس انہوں نے اجازت دی۔ وہ اندر آئے اور ان کو راضی کرنے …
مرسلِ شعبی کی حیثیت
شعبی کے بارے میں یہ نقل ہوا ہے کہ:
وہ “حارث” (جو کہ کذاب تھا) سے کثرت سے روایت کرتا تھا،
بلکہ حضرت علیؑ کے بارے میں اس کی اکثر روایات اسی حارث کے ذریعے ہیں۔
لہٰذا:
کیا ایسی روایت قابلِ اعتماد ہو سکتی ہے؟
کیا ایک مرسل اور مشکوک روایت کو صحیح اور متصل روایات پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟
ہرگز نہیں۔
خطیب بغدادی نے اپنی کتاب “الکفایة فی علم الروایة” (ص 89) میں خلاصہً کہا ہے

“یہ کیسے ممکن ہے کہ عادل اور ثقہ راویوں کی ایک جماعت نے بعض ایسے لوگوں سے احادیث روایت کی ہوں جن کے حالات کو وہ جانتے تھے مگر بعض مواقع پر ان کے حالات ذکر کرنے سے خاموش رہے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔ اور بعض جگہوں پر انہی راویوں پر جھوٹ بولنے، یا فاسد عقائد رکھنے کی گواہی بھی دی۔

جیسے:

– شعبی نے کہا: ہم سے حارث نے روایت کی، حالانکہ وہ کذاب تھا۔
– سفیان ثوری نے کہا: ہم سے ثویر بن ابی فاختہ نے روایت کی، اور وہ جھوٹ کے ستونوں میں سے تھا۔
– یزید بن ہارون نے کہا: ہم سے ابو روح نے روایت کی، اور وہ کذاب تھا۔
– احمد بن ملاعب نے کہا: ہم سے مخول بن ابراہیم نے روایت کی، اور وہ رافضی تھا۔
– ابو الازہر نے کہا: ہم سے بکر بن الشرود نے روایت کی، اور وہ قدری (بدعتی) اور داعی تھا۔”

ابن حجر نے کہا:
“یہ تمام راوی بعض دوسرے مقامات پر انہی افراد سے روایت کرتے ہیں، مگر ان کے عیوب کو بیان کیے بغیر خاموش رہتے ہیں۔”

_______

مرسل حدیث کے بارے میں

کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ مرسل حدیث سے دوسرے پر حجت قائم کرے۔

امام ابو عمر ابن عبد البر نے “التمہید” (1/6) میں کہا

“مرسل روایات کو رد کرنے کی دلیل یہ ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ خبر دینے والے کی عدالت معلوم ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا جب تابعی کسی ایسے شخص سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات ثابت نہ ہو، تو درمیان کے راوی کو جاننا ضروری ہے، کیونکہ تابعین (یا ان میں سے اکثر) نے ضعیف اور غیر ضعیف دونوں سے روایت کی ہے۔”

پھر مزید کہا:

“ایک اور دلیل یہ ہے کہ گواہی پر گواہی (شہادت) کے معاملے میں مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اس میں اتصال اور مشاہدہ ضروری ہے۔ اسی طرح حدیث میں بھی اتصال اور مشاہدہ ضروری ہے، کیونکہ دونوں کا مقصد حکم کو ثابت کرنا ہے۔”

پھر (ص 7) پر کہا:

“میں نے مناظرہ کرنے والوں اور فقہاء و محدثین کی کتابوں کا مطالعہ کیا، تو میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی بھی اپنے مخالف سے مرسل روایت پر قناعت کرے، یا اسے بطور دلیل قبول کرے۔ بلکہ مناظرہ میں ہر ایک اپنے مخالف سے متصل سند کا مطالبہ کرتا ہے۔”

______________

📚تہذیب التہذیب (ج 5، ص 58)

شعبی نے جن لوگوں سے روایت کی، ان میں سے بعض یہ ہیں:
حارث اعور، خارجہ بن الصلت، زر بن حبیش، ربیع بن خثیم، سفیان بن اللیل، سمعان بن مشنج، سوید بن غفلہ، اور شریح قاضی وغیرہ۔

حارث بن عبداللہ الاعور (ابو زہیر کوفی):

– طبقہ: بڑے تابعین میں سے
– وفات: ابن زبیر کے زمانے میں
– اس سے روایت لینے والے: ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ

اس کی حیثیت:

– ابن حجر کے نزدیک: اس کی حدیث میں ضعف ہے، شعبی نے اسے کذاب کہا، اور اس پر رفض کا الزام ہے
– ذہبی کے نزدیک: نرم (کمزور) شیعہ ہے، نسائی وغیرہ نے کہا: قوی نہیں

______________

ضعفاء العقیلی (ج 2، ص 175)
سفیان بن اللیل کوفی تھا، اور وہ رفض میں غلو کرتا تھا، اور اس کی حدیث صحیح نہیں

شریح قاضی:
یہ معروف شخصیت ہے، جو معاویہ، یزید اور حجاج کے دور میں قاضی رہا

__——-________

🔻اب سوال یہ ہے کہ اہل سنت کے علماء کے نزدیک مرسلِ شعبی کی حیثیت کیا ہے؟

بعض علماء نے کہا:

– عجلی: “مرسلِ شعبی صحیح ہے، وہ عموماً صحیح ہی روایت کرتا ہے”
– ذہبی: “اگر سند صحیح ہو تو شعبی کا مرسل اچھا ہے، بعض اسے قبول کرتے ہیں اور بعض رد کرتے ہیں”

______________

لیکن اس کے مقابلے میں دیگر علماء کی رائے

ابن عبد البر
“مرسلِ شعبی ان کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتا”

قسطلانی
“مرسلِ شعبی مطلقاً حجت نہیں، خصوصاً جب وہ صحیح حدیث کے خلاف ہو”

ابن حزم
انہوں نے ایک روایت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ شعبی سے منقول ہے، جبکہ شعبی حضرت عمرؓ کی وفات کے کئی سال بعد پیدا ہوا، لہٰذا روایت صحیح نہیں

بخاری، ابن حجر، حمیدی
انہوں نے واضح کیا کہ شعبی کی روایت مرسل ہے اور اسے بطور دلیل پیش نہیں کیا گیا، بلکہ اصل اعتماد دوسری متصل روایت (ابن عباسؓ) پر ہے

بیہقی
انہوں نے خود تصریح کی کہ بعض روایات میں شعبی اور صحابی کے درمیان انقطاع (سند کا ٹوٹنا) ہے

زیلعی
انہوں نے بھی سند کے اتصال پر اشکال کیا اور کہا کہ بعض روایات ضعیف ہیں

__-___________

نتیجہ

مرسلِ شعبی:
نہ متصل ہے
نہ قطعی حجت ہے
بلکہ اکثر ائمہ کے نزدیک ضعیف ہے

اور جب یہ صحیح و متصل احادیث کے مقابل آئے تو:

اسے ہرگز ترجیح نہیں دی جا سکتی

بلکہ رد کیا جائے گا
میں کہتا ہوں
اس میں امام دارقطنی اور امام حاکم کی طرف سے شعبی کی مرسل روایت کو علت (کمزوری) قرار دینے کی نقل موجود ہے

امام دارقطنی
کتاب: علل الدارقطنی (ج 5، ص 261-262)
حدیث نمبر (867)
میں مسروق کی ابن مسعود سے روایت کے بارے میں پوچھا گیا کہ:
*ہمیں نمازِ جنازہ میں کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا…
اور اسے عطاء بن السائب نے شعبی کے واسطے سے ابن مسعود سے مرفوعاً روایت کیا، مرسل طور پر — یعنی شعبی اور ابن مسعود کے درمیان کسی کا ذکر نہیں کیا۔

اسی طرح (ج 2، ص 69-70، حدیث 113):

ابن عمر سے عمر کے متعلق روایت میں شعبی نے عمر سے مرسل روایت کی، اور ابن عمر کا ذکر نہیں کیا۔

 جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، امام دارقطنی نے ان دونوں احادیث کو انقطاع (سند کے ٹوٹنے) کی وجہ سے معلول قرار دیا۔

محمد ناصر الدین الألبانی — إرواء الغلیل (ج 3، ص 121)

ابن مسعود سے اس کے خلاف بھی روایت ہے کہ شعبی نے کہا:
عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا: “جس کی عید فوت ہو جائے وہ چار رکعت پڑھ لے۔”
اور کہا: “اس کے رجال ثقہ ہیں”
میں کہتا ہوں
لیکن یہ روایت منقطع (ٹوٹے ہوئے سند والی) ہے، کیونکہ شعبی نے ابن مسعود سے سماع نہیں کیا، جیسا کہ امام دارقطنی اور امام حاکم نے کہا۔
میں کہتا ہوں
یہاں دو بڑے محدثین (دارقطنی اور حاکم) کی رائے نقل کی گئی ہے۔

المنذری — عون المعبود (ج 1، ص 284)

انہوں نے کہا:
یہ مرسل روایت ہے، کیونکہ شعبی نے عائشہ سے سماع نہیں کیا۔

انصاف کی خاطر
تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ بعض علماء نے مرسلِ شعبی کو قبول کیا ہے، ہم کہتے ہیں

اسے العجلي قبول کرتے ہیں لیکن عجلی کی توثیق میں خود کلام ہے۔
تو پھر کون ہے جو عجلی کی رائے کو ان عظیم محدثین پر ترجیح دے گا؟

سوائے اس کے جو جذبات میں آکر واضح حقائق کو رد کر دے!

❗ عجلی کی توثیق پر اعتماد نہ کرنے کے اقوال:
الألبانی — إرواء الغلیل (ج 5، ص 288-289)
“عجلی نے اسے ثقہ کہا”
میں کہتا ہوں:
عجلی توثیق میں تساہل (نرمی) کرنے والوں میں سے ہے، اسی لیے ابن حجر عسقلانی نے اس کی توثیق کو قبول نہیں کیا۔

الألبانی — تمام المنة (ص 400-401)
“عجلی کی توثیق، ابن حبان کی توثیق کے درجے کی ہے”

اسی لیے امام ذہبی اور دیگر محققین نے اسے قبول نہیں کیا۔

عبد الرحمن المعلمي اليماني کا قول

ابن حبان بعض مجہول راویوں کو بھی ثقہ کہہ دیتے ہیں
عجلی بھی قدیم مجہول راویوں کی توثیق میں ان کے قریب ہے
بلکہ عجلی، ابن حبان سے بھی زیادہ توسع (نرمی) کرتا ہے
وہ بعض ضعیف راویوں کو بھی بلند درجہ دے دیتا ہے

ماخذ: معرفة الثقات (ج 1، ص 124-130)

لہٰذا:
جب یہ لوگ خود ابن حبان کی توثیق کو مجہول راویوں میں قبول نہیں کرتے تو عجلی جو ان کے نزدیک اس سے بھی زیادہ متساہل ہے
اس کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

ترمذی کے کلام سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ مرسلِ شعبی کمزور ہے

انہوں نے ذکر کیا:
حسن بصری نے معبد کو ضعیف کہا، پھر اسی سے روایت کی
شعبی نے جابر جعفی کو جھوٹا کہا، پھر اسی سے روایت کی

لہٰذا ان دونوں کی مرسل روایات ضعیف ہو جاتی ہیں۔

حتیٰ کہ عجلی بھی ہر مرسلِ شعبی کو صحیح نہیں کہتے
اگرچہ اکثر کو صحیح کہتے ہیں، لیکن:
یہ کہنا کہ “وہ صرف ثقہ سے روایت کرتا ہے” اکثریت کی حد تک ہے، مطلق نہیں

دلیل:
خود شعبی کہتے ہیں:
“ہم نے حارث روایت کی اور وہ کذاب تھا”
➡️ یعنی انہوں نے خود ایک کذاب سے روایت کی

ابن حجر عسقلانی نے بھی کہا
شعبی اکثر حارث سے روایت کرتے ہیں بغیر یہ بتائے کہ وہ کذاب ہے
(فتح الباری 12/238)

➡️ اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں (بیہقی، ابن ابی شیبہ وغیرہ میں)

🔻حضرت علی سے سماع:
شعبی نے حضرت علی سے صرف ایک یا دو حدیثیں سنی ہیں
باقی سب مرسل ہیں
اور ان کی اکثر روایات میں واسطہ حارث کذاب ہے

القاضي أبو بكر الباقلاني کا قول
محدثین ہمیشہ صرف عادل لوگوں سے روایت نہیں کرتے تھے
بلکہ
بعض راویوں سے روایت کرتے
پھر کہتے: ہمیں نہیں معلوم وہ ثقہ ہے یا نہیں
بلکہ کبھی اسے کذاب بھی قرار دیتے
جیسے:
“شعبی نے کہا: مجھ سے حارث الاعور نے روایت کی اور وہ کذاب تھا”

تو پھر کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ مرسل روایت ہمیشہ ثقہ ہی سے ہو؟

شعبی نے حضرت علی سے سماع نہیں کیا (یا بہت کم کیا)
ان کی مرسل روایات اکثر ضعیف ہیں
خاص طور پر حضرت علی سے روایت میں
کیونکہ اکثر واسطہ حارث (جسے وہ خود کذاب کہتے ہیں) ہوتا ہے
جب فاطمہ بیمار ہوئیں تو ابو بکر آئے اور اجازت طلب کی۔
علی نے کہا: اے فاطمہ! یہ ابو بکر ہیں، آپ سے اجازت مانگ رہے ہیں۔

فاطمہ سلام اللہ علیھا نے کہا: کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ میں انہیں اجازت دوں؟
علی علیہ السلام نے کہا: ہاں۔

تو انہوں نے اجازت دے دی۔

وہ اندر داخل ہوئے اور ان کو راضی کرنے لگے، اور کہا:
اللہ کی قسم! میں نے گھر، مال، اہل اور قبیلہ سب کچھ نہیں چھوڑا مگر اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ اور تم اہلِ بیت کی رضا حاصل کرنے کے لیے۔

پھر وہ مسلسل انہیں راضی کرتے رہے یہاں تک کہ وہ راضی ہو گئیں۔

– متن کے بارے میں دعویٰ:

یہ متن ہمارے خلاف نہیں بلکہ ہمارے حق میں ہے، کیونکہ

ابو بکر کا فاطمہ سے رضا طلب کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ فاطمہ حق پر تھیں

مزید یہ کہ انہوں نے اہلِ بیت کی رضا کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ والہ کی رضا کے ساتھ جوڑا

اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ فاطمہ کے ناراض ہونے کی وجہ سے اللہ اور رسول بھی ناراض تھے (ان کے اپنے قول کے مطابق)

لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ابو بکر نے رسول صلی اللہ علیہ والہ کی بات کے خلاف کیا اور وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہوں گے، چاہے بعد میں فاطمہ نے معاف کیا ہو یا نہیں

2- روایت سے استدلال:

روایت میں واضح ہے کہ فاطمہ اہلِ بیت میں سے ہیں

اس سے یہ استدلال کیا گیا کہ وہ آیتِ تطہیر میں شامل ہیں

اور اس بنیاد پر ان کی عصمت (معصوم ہونا) ثابت کرنے کی کوشش کی گئی

3- ایک اور استدلال:

ابو بکر نے اللہ، رسول صلی اللہ علیہ والہ اور اہلِ بیت کی رضا کو ایک ساتھ ذکر کیا

اور کہا کہ انہوں نے ہجرت وغیرہ سب اسی مقصد کے لیے کی

اس سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اہلِ بیت کی ولایت (اطاعت) اللہ کی طرف سے واجب ہے

4- روایت کی حدود:

روایت یہ نہیں کہتی کہ فاطمہ عمر سے راضی ہوئیں

نہ یہ کہ وہ ابو بکر سے وفات کے وقت ہمیشہ کے لیے راضی تھیں

بلکہ

صرف یہ بتاتی ہے کہ کسی وقت ابو بکر سے راضی ہوئیں

یہ واضح نہیں کہ یہ رضا عارضی تھی یا دائمی

دعویٰ کیا گیا کہ:

یہ رضا عارضی تھی

کیونکہ انہوں نے ابو بکر کو اپنی نمازِ جنازہ پڑھانے کی اجازت نہیں دی

اور رات میں خفیہ طور پر دفن کی گئیں

مزید یہ کہا گیا:

اگر وہ مستقل راضی ہوتیں تو یہ بات ان کی اولاد میں مشہور ہوتی

نہ کہ ایک ایسی روایت سے ثابت ہوتی جس کی سند واضح نہ ہو

بلکہ اس کے لیے دو عادل صحابہ کی گواہی ہونی چاہیے تھی، نہ کہ مرسل روایت

⚫ نتیجہ

اس روایت سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے:

ابو بکر نے فاطمہ کا حق غصب کیا

اس سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ والہ ناراض ہوئے

فاطمہ سلام اللہ علیھا اہلِ بیت میں سے ہیں

پھر انہوں نے ابو بکر سے عارضی طور پر صلح کر لی

لیکن عمر سے راضی نہیں ہوئیں

مزید دعویٰ

اگر روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے

تب بھی عمر سے براءت لازم آتی ہے

اور ان لوگوں سے بھی جنہوں نے ابو بکر کے حق میں گواہی دی

کیونکہ دعویٰ کے مطابق فاطمہؓ ان سے کبھی راضی نہیں ہوئیں

آخری دعویٰ

یہ بھی کہا گیا کہ:

عثمان نے خود اعتراف کیا کہ اس کی مرسل روایات مشہور قول کے مطابق صحیح نہیں

اور اس نے امام علی سے سماع بھی نہیں کیا

اختتام

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
کیا اللہ عزوجل امامؑ کی زیارت کے لیے آتا ہے؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions