Recommended articles
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حدیث (حب علی حسنۃ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ…) کا ایک جائزہ
July 29, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام الحسين بن علي الشهيد عليه السلام اہل سنت رجال معاویہ

امام حسنؑ کی شہادت سے متعلق ایک روایت جس نے ان کے ائمہ کو تخریج میں حیران کر دیا، چنانچہ اس میں بتر، تدلیس اور تحریف سے کام لیا گیا۔

July 13, 2026
0
0

امام حسنؑ کی شہادت سے متعلق ایک روایت جس نے ان کے ائمہ کو تخریج میں حیران کر دیا، چنانچہ اس میں بتر، تدلیس اور تحریف سے کام لیا گیا۔

سب سے پہلے آئیے دیکھتے ہیں کہ علم کے بڑے مدعی عثمان خمیس اس روایت کے بارے میں کیا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔

عثمان خمیس کا دعویٰ ہے کہ جب سنن ابی داؤد کی طرف رجوع کیا جائے تو “أتعدها مصيبة؟” کہنے والا معاویہ نہیں، بلکہ کوئی اور شخص ہے۔ اسی بنیاد پر وہ یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ معاویہ پر لگائے جانے والے اعتراضات بے بنیاد ہیں، بلکہ اس کے بقول معاویہ کی طرف منسوب کیے جانے والے اکثر، بلکہ تمام شبہات جھوٹ ہیں۔

اب آئیے اصل مصادر کی روشنی میں اس دعوے کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ روایت کے ساتھ مختلف کتب میں کیا سلوک کیا گیا۔

مقدام کا معاویہ کے پاس آنا اور امام حسنؑ کی وفات کی خبر دینا

پہلی دستاویز:

آپ کے سامنے موجود روایت میں واضح طور پر بیان ہوا ہے کہ مقدام، معاویہ کے پاس آیا اور اسے امام حسنؑ کی وفات کی خبر دی۔ یہ خبر سن کر مقدام نے “إنا لله وإنا إليه راجعون” پڑھا، جس پر معاویہ نے شماتت آمیز انداز میں کہا:

“کیا تم اسے مصیبت سمجھتے ہو؟”

اسی طرح اسدی، جو خود ایک صحابی تھا، امام حسنؑ کی وفات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے:

“ایک انگارہ تھا جو بجھ گیا۔”

پس ہمارے سامنے دو ایسے صحابی موجود ہیں جو امام حسنؑ کی وفات پر شماتت اور خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔ (لعنة الله عليهما)

یہاں یہ بات بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ذہبی نے اس روایت کی سند کو قوی قرار دیا ہے۔

اب جبکہ یہ حقیقت واضح ہو چکی، تو آئیے میرے ساتھ آگے بڑھیں اور دیکھیں کہ اس روایت کے متن کے ساتھ کس قدر تحریف، تدلیس اور بتر سے کام لیا گیا۔

تحریف: معاویہ کا نام بدل کر “فُلان” کر دیا گیا

دوسری دستاویز:

میں یہی روایت موجود ہے، اور نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جب روایت میں معاویہ کے اس جملے کی باری آتی ہے تو وہاں اس کا نام صراحت کے ساتھ ذکر کرنے کے بجائے “فُلان” لکھ دیا گیا ہے:

“فقال له فلان: أتعدها مصيبة؟”

سوال یہ ہے کہ آخر معاویہ کا نام کیوں مبہم کر دیا گیا؟

اسی روایت میں اسدی (لعنة الله عليه) امام حسنؑ کی وفات پر یہ کہتا ہے:

“اللہ تعالیٰ نے ایک انگارہ بجھا دیا۔”

قابلِ غور بات یہ بھی ہے کہ معاویہ اس جملے پر کوئی نکیر یا اعتراض نہیں کرتا، بلکہ خاموشی سے اسے قبول کرتا ہے، گویا دونوں ایک ہی سوچ کے حامل تھے۔

اسی روایت میں معاویہ کے گھر میں ریشم، سونے اور درندوں کی کھالوں کے استعمال کا بھی ذکر موجود ہے، اور معاویہ خود ان چیزوں کے استعمال کا اقرار کرتا ہے۔

معاویہ کے قول اور امام حسنؑ کی وفات پر اس کی شماتت کو نمایاں طور پر چھپانا

تیسری دستاویز:

میں یہی روایت نقل کی گئی ہے، لیکن یہاں معاویہ کے اس جملے اور امام حسنؑ کی وفات پر اس کی شماتت کو واضح طور پر چھپا دیا گیا ہے۔ اس کی جگہ صرف اتنا لکھ دیا گیا:

“فذكر قصته”
(یعنی: “پھر اس نے اپنا واقعہ بیان کیا۔”)

مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ محقق نے اس روایت کا حوالہ کی طرف دیا ہے، حالانکہ آپ دیکھ چکے ہیں کہ وہاں بھی روایت کے متن میں تدلیس کرتے ہوئے معاویہ کا نام صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا، بلکہ صرف یہ لکھا گیا:

“فقال له فلان: أتعدها مصيبة؟”

گویا ایک مقام پر معاویہ کا نام “فُلان” سے بدل دیا گیا، جبکہ دوسرے مقام پر اس کا پورا جملہ ہی حذف کر دیا گیا۔

امام حسنؑ کی وفات پر معاویہ کی شماتت

چوتھی دستاویز:

میں بھی یہی روایت موجود ہے، جس میں امام حسنؑ کی وفات پر معاویہ کی شماتت کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس روایت کے متن سے وہ حصہ حذف کر دیا گیا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ کے سونا، ریشم اور درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمانے کا ذکر ہے، جبکہ یہی چیزیں معاویہ کے گھر میں موجود تھیں اور اس نے خود ان کا اقرار بھی کیا تھا۔ یہ حصہ مسند احمد کے موجودہ متن میں نہیں ملتا۔

دوسری بات یہ کہ اس روایت پر تحقیق کرتے ہوئے نے ایک عجیب موقف اختیار کیا۔ انہوں نے روایت کو بقیہ کی وجہ سے ضعیف قرار دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ راوی نے عنعنہ کی ہے۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ بقیہ نے یہاں صراحت کے ساتھ “حدثنا” کہہ کر روایت بیان کی ہے، لہٰذا عنعنہ اور تدلیس کا اشکال خود بخود ختم ہو جاتا ہے، اور اس بنیاد پر روایت کو ضعیف قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔

ایک ہی سند سے مروی دو متون میں روایت کو کاٹ کر ناقص نقل کرنا

پانچویں دستاویز:

میں ایک اور حیرت انگیز صورت سامنے آتی ہے۔ ایک ہی سند سے مروی دو روایات میں متن کو مختلف مقامات سے کاٹ کر ناقص انداز میں نقل کیا گیا ہے۔

پہلی روایت میں رسول اللہ ﷺ کے سونا، ریشم اور درندوں کی کھالوں کے استعمال سے منع فرمانے کا ذکر تو موجود ہے، لیکن امام حسنؑ کی وفات پر معاویہ کی شماتت کا پورا حصہ حذف کر دیا گیا ہے۔

جبکہ دوسری روایت میں مقدام اور معاویہ کے درمیان انہی خلافِ سنت امور پر ہونے والا مکالمہ تو نقل کیا گیا ہے، لیکن اس میں بھی نہ امام حسنؑ کی وفات پر معاویہ کی شماتت کا ذکر موجود ہے اور نہ ہی معاویہ کے گھر میں سونا، ریشم اور درندوں کی کھالوں کی موجودگی اور خود اس کے اقرار کا حصہ بیان کیا گیا ہے۔

یوں ایک ہی سند سے مروی روایت کو دو مختلف مقامات پر تقسیم کر کے اس کے اہم حصوں کو الگ الگ حذف کر دیا گیا۔

سنن ابی داؤد کے شارح کا اعتراف کہ “أتعدها مصيبة؟” کہنے والا معاویہ ہی تھا

یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس روایت کے ساتھ مختلف کتب میں مختلف انداز سے تصرف کیا گیا۔ کہیں معاویہ کا نام “فُلان” سے بدل دیا گیا، کہیں اس کے الفاظ ہی حذف کر دیے گئے، اور کہیں روایت کو کاٹ کر ناقص صورت میں نقل کیا گیا۔

لیکن اس کے باوجود سنن ابی داؤد کے شارح نے واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ “أتعدها مصيبة؟” کہنے والا شخص معاویہ ہی تھا۔

یہ روایت ان کے لیے ایسی مشکل بن گئی کہ اسے اپنے موقف کے مطابق پیش کرنے کے لیے مختلف مقامات پر حذف، بتر اور تحریف کا سہارا لیا گیا۔ مگر حقیقت کو ہمیشہ کے لیے چھپایا نہیں جا سکتا۔ ہمارا مقصد یہی ہے کہ اصل مصادر کی روشنی میں ان تصرفات کو سامنے لایا جائے تاکہ قارئین خود فیصلہ کر سکیں کہ روایت کو اصل صورت میں نقل کیا گیا یا اس کے متن میں تبدیلی کی گئی۔

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
معاویہ
مـولا عَـلِي عَلیہِ السلام کی نَبِی کَریم ﷺ سے خواب میں اُمت کی دُشمنیوں کی شکایت کرنا
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions