“إنَّ اللهَ يضحك” والی روایت کا صحیح مفہوم

بعض افراد شیعہ کتب میں موجود روایت “إنَّ اللهَ يضحك” پیش کر کے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ شیعہ اللہ تعالیٰ کے لیے ہنسنے کی صفت مانتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس روایت کے شارح نے واضح طور پر لکھا ہے کہ:
اوّلًا: یہ روایت ضعیف ہے، لہٰذا عقیدہ اس پر قائم نہیں کیا جا سکتا۔
ثانیاً: اگر روایت کے معنی کو قبول بھی کیا جائے تو یہاں “يضحك الله” سے حقیقی ہنسنا مراد نہیں، بلکہ اللہ کی عنایت، لطف، رحمت اور بندے پر رضا مراد ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جسم، اعضاء اور انسانی کیفیات سے منزہ ہے۔
شارح لکھتے ہیں:
“يضحك الله، أي: انضحك كناية عن الإبانة واللطف، فمنه ضحك إلى الرجل بمحبته ولطفه وكرمه.”
یعنی: “اللہ کے ہنسنے سے مراد حقیقی ہنسنا نہیں، بلکہ بندے پر اس کی عنایت، لطف، محبت اور کرم کا اظہار ہے۔”
لہٰذا مکتبِ اہلِ بیتؑ میں ایسی تعبیرات کو ظاہری معنی پر محمول نہیں کیا جاتا، بلکہ قرآن کے محکم اصول ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ کی روشنی میں ان کی صحیح تاویل کی جاتی ہے۔
حوالہ:
شرح أخبار الرسول، علامہ مجلسیؒ، جلد 18، ص 398، کتاب الجهاد، باب 1۔ (حدیث اول: ضعیف)
ردِ شبہ:”اللہ اپنے ہاتھ کو بندوں کے سروں پر رکھے گا”
بعض لوگ اس روایت کو پیش کر کے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیعہ اللہ تعالیٰ کے لیے حقیقی ہاتھ ثابت کرتے ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
روایت میں آیا ہے:
“إذا قام قائمنا وضع الله يده على رؤوس العباد، فجمع بها عقولهم وكملت به أحلامهم.”
یعنی: “جب ہمارے قائمؑ ظہور کریں گے تو اللہ اپنے ہاتھ کو بندوں کے سروں پر رکھے گا، جس کے نتیجے میں ان کی عقلیں کامل اور ان کی سمجھ پختہ ہو جائے گی۔”
لیکن خود اس روایت کے شارح نے واضح کیا ہے کہ یہاں “يد الله” سے حقیقی ہاتھ مراد نہیں ہے۔
شرح میں لکھا ہے:
“الضمير في قوله (يده) إما راجع إلى أولياء الله القائم عليه السلام، وعلى التقديرين كناية عن الرحمة والشفقة أو القدرة والاستيلاء.”
ترجمہ: “لفظ ‘يده’ کی ضمیر یا تو حضرت قائمؑ کی طرف راجع ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع بھی مانی جائے تو اس سے حقیقی ہاتھ مراد نہیں، بلکہ یہ رحمت، شفقت، قدرت اور تسلط سے کنایہ ہے۔”
مزید یہ کہ اسی شرح میں اس روایت کو مشہور قول کے مطابق ضعیف قرار دیا گیا ہے۔
لہٰذا مکتبِ اہلِ بیتؑ میں ایسی روایات سے اللہ تعالیٰ کے لیے جسم یا اعضاء ثابت نہیں کیے جاتے، بلکہ انہیں قرآن کے محکم اصول ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ کی روشنی میں سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ:
شرح أخبار الرسول، علامہ مجلسیؒ، جلد 1، کتاب العقل والجهل، ص 80۔ (حدیث 21: مشہور کے مطابق ضعیف)