Recommended articles
مقالات قرآنی
خدا جوئی فطرت انسان کا تقاضا ہے۔
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا محور و مرکز عصمت و طہارت
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
محمد و آل محمد علیھم السلام پر صلوات کی بابت حکم قرآنی
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
قرآنی طرز زندگی کے تحت مطلوبہ اجتماعی روابط
August 26, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
مقالات قرآنی

قرآنی طرز زندگی کے تحت مطلوبہ اجتماعی روابط

August 26, 2026
0
0

مقدمہ: قرآن مجید اللہ تعالی کی لاریب کتاب اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر خداکا ایسا معجزۂ خالدہ ہے کہ جو رہتی دنیا تک ہدایت بشر کی تمام ضروریات پر پورا اترنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یہ کتاب معارف کا سب سے بڑا خزانہ اور افضل ترین کلام ہے۔ قرآن کے ذریعے معاشرے کے تمام ابعاد کی شناخت جامع الاطراف، عمیق و دقیق اور حقیقت پر مبنی ہے۔ در حقیقت معاشرے کے تمام انحرافات کی صحیح شناخت کا بہترین ذریعہ قرآن ہے ، چونکہ معارف اور علوم الہٰی کسی خاص مکان ، زمان اورزبان سے مخصوص نہیں ہیں اسی لئے تمام عالم امکان اور بنی نوع انسانیت کو شامل ہونے والے ہیں۔ قرآن کريم بشريت کے موردِ نياز تمام علوم و معارف کا سر چشمہ ہے، بالخصوص معاشرے کے مختلف فردی،اجتماعی،اورمعاشرتی موضوعات سے لے کر فرد اورمعاشرہ کی متقابل تاثیرات ، اجتماعی دگرگونیوں، آئیڈیل معاشرہ ، اجتماعی گروپ بندیوں ، اجتماعی اہمیتوں، معاشروں کی قوانین مندیوں، معاشرے کی ترقی میں مؤثر عوامل ، اجتماعی طبقات، فردی اوراجتماعی ضرورتوں ، الہٰی جہان بینی کے اعتبار سے مسلم معاشرہ کا مستقبل، اجتماعی تہذیب کی سلامتی، عمومی لغزشوں ، معاشروں کی مدیریت کی نئی تدابیر، جوامع انسانی کے بنیادی تفاوت اوراشترکات ،معاشرے کے انحرافات کی شناخت کا بہترین راہ حل پیش کرتا ہے۔اس بنا پر تمام موارد خصوصاً اجتماعی روابط کی ترویج میں اصيل ترين، بہترين اور کامل ترين نظريات قرآن سے اخذ کئے جاسکتے ہيں۔
قرآن کي نظر ميں معاشرے اجتماعی روابط کی معرفت و شناخت کی عظمت و اہميت، در حقیقت قرآن کے نظریات اور اس کے اصلاحی و عملی اعتقادات و نظریات کے حقیقت پر مبنی اور واقع بین ہونے میں ہے، یعنی قرآن میں معاشرے کے حقائق کی شناخت، نفسانی پہچان ، زندگی گذارنے کے آداب کی پہچان اور اسی طرح انسان کے مختلف فردی و اجتماعی پہلوؤں کی شناخت واقع کے مطابق اورتفکر بشری کی حدود سے بالاتر مورد تحقیق و جستجو قرار پاتے ہیں۔قرآنی کے آفاقی پیغام میں فکر و تدبر سے حاصل ہونے والی معلومات جہاں معاشرے میں انسانوں کے اجتماعی تعلقات کی ضرورت و اہمیت سے آشائی فراہم کرتی ہیں وہاں ان تعلقات کے فروغ میں کمال مطلوب تک رسائی کے لیے واضح اور روشن راہوں کی طرف رہنمائی بھی فراہم کرتی ہیں۔ معاشرہ پر قرآن کی حاکمیت ہونے کی صورت میں کسی کے لئے کوئی ایسی نیاز و احتیاج باقی نہیں رہ جاتی جو کہ پوری نہ ہو، اس لئے کہ قرآن کریم موحدین کی زندگی کے لئے سب سے زیادہ بلند و عالی، الٰہی دستور العمل ہے اور خداوند متعال نے اس آسمانی کتاب کے پیرؤوں کی دنیا و آخرت کی عزت و کامیابی کی ضمانت لی ہے۔ اس بنا پر جب ہمارا اسلامی معاشرہ قرآن کے حیات بخش احکام و فرامین پر عمل کرے او راس کے وعدوں کی سچائی پر ایمان رکھتے ہوئے اس کو اپنے عمل کا نمونہ قراردے، تو قرآن معاشرہ کی تمام فردی، اجتماعی، مادی اور معنوی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور اسلامی معاشرہ کو ہر چیز اور ہر شخص سے بے نیاز کردیتا ہے۔قرآن ہمیں معاشرے میں قرآنی طرز زندگی کے تحت امن و امان, بھائی چارہ, رواداری, عدل و انصاف کے قیام, صلح پسندانہ اقدامات, مساوات, اور قومی,ملی ,مذہبی, فردی و اجتماعی آزادی کے مناسب و منظم طریقوں کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ جو مطلوبہ اجتماعی روابط کی بحالی سے لے کر نفاذ تک ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس مقالہ میں ایک بہترین قرآنی طرز زندگی کے تحت مطلوبہ اجتماعی روابط کی نشاندہی کرتے ہوئے قرآن کے پیغام کی روشنی میں ان روابط کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے نیز ان اجتماعی روابط کے معاشرے میں عملی نفاذ کے لیے قرآنی راہ حل پیش کیا گیا ہے۔
اجتماعی روابط کا فروغ
صحیح و سالم اجتماعی زندگی وہی ہے کہ افراد ایک دوسرے کے لئے قوانین حدود اور حقوق کا احترام کریں۔ عدل و انصاف کو ایک مقدس امر جانیں ایک دوسرے سے مہر و محبت سے پیش آئیں جو اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں جسے خود نہیں چاہتے اسے دوسروں کے لئے بھی نہ چاہیں ایک دوسرے پر اعتماد کریں اور اطمینان رکھیں دوسروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا کر ان کے لئے روحانی تکلیف کا باعث نہ بنیں۔ ہر شخص اپنے کو معاشرے کا ذمہ دار اور معقول فرد سمجھے۔ کھلے بندوں جس تقویٰ و پاکدامنی کا مظاہرہ کرتا ہے اپنی انتہائی خلوت میں بھی اسی تقویٰ و پاکدامنی کو تھامے رکھے۔ سب لوگ بغیر کسی لالچ کے ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کریں۔ ظلم و ستم کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں ظالم اور فاسد لوگوں کو من مانی نہ کرنے دیں اخلاقی قدروں کا احترام کریں ہمیشہ ایک جسم کے اعضاء کی مانند متحد و متفق رہیں۔
یہ مذہبی ایمان ہی ہے جو ہر چیز سے بڑھ کر حقوق کا احترام کرتا ہے عدالت کو مقدس سمجھتا ہے دلوں میں الفت و مہربانی ڈالتا ہے۔ ایک دوسرے کے دل میں اعتماد پیدا کرتا ہے انسان کے قلب و روح پر تقویٰ و پرہیزگاری کی حکومت قائم کر دیتا ہے۔ اخلاقی قدروں کو معتبر اور قابل قدر بناتا ہے ظلم و زیادتی کے مقابلے کے لئے شجاعت بخشتا ہے۔ تمام افراد کو ایک جسم کی مانند قرار دے کر متحد رکھتا ہے۔حوادث سے انسانی تاریخ میں آسمانی ستاروں کی مانند انسان کی جو انسانی تجلیاں دکھائی دیتی ہیں یہ درحقیقت مذہبی احساسات کی کوکھ سے ہی جنم لئے ہوئے ہیں۔
انسان بعض دوسرے جانداروں کی طرح اجتماعی طبیعت پر پیدا کیا گیا ہے۔ فرد اکیلا اپنی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ زندگی ایک کمپنی یا سوسائٹی کی صورت میں ہونی چاہئے جس میں حقوق و فرائض کے اعتبار سے ہر ایک حصہ دار ہو افراد میں ایک طرح کی تقسیم کار ہو۔ شہد کی مکھیوں میں ذمہ داریوں اور کام کی تقسیم ان کی سرشت اور فطرت کے حکم پر ہوتی ہے ان میں کام سے انکار یا نافرمانی کی طاقت نہیں ہوتی۔ ان کے برعکس انسان ایک آزاد اور خود مختار جاندار ہے اپنے کام کو ذمہ داری اور مسئولیت کے عنوان سے انجام دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیں کہ اگرچہ دوسرے جانداروں کی ضروریات اجتماعی ہیں لیکن یہ اپنے جبلی و طبیعی امور کی انجام دہی پر مجبور ہیں۔ انسان کی ضرورتیں بھی اجتماعی ہیں۔ بغیر اس کے کہ ویسے جبلی تقاضے اس پر حکم فرما ہوں۔ انسان کی جبلی و فطری اجتماعی خواہشات اس کے اندر ایک “تقاضے” کی صورت میں ہوتی ہیں جنہیں تعلیم اور تربیت کے سائے میں پروان چڑھنا چاہئے۔
قرآنی طرز زندگی کے چند اہم اور بنیادی محرکات پر نظر ڈالنے کے بعد اب ہم دیکھتے ہیں کے ان محرکات کے تحت ہم کس طرح اجتماعی روابط کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ہم پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کس طرح کے اختلاف پائے جاتے ہیں اور وہ کون سے اختلافات ہیں جو اجتماعی روابط میں رخنہ انداز ہوتے ہیں۔ اور پھر ان اختلافات کا قرآنی راہ حل تلاش کریں گے تاکہ قرآنی طرز زندگی کے تحت مطلوبہ اجتماعی روابط کی شناخت کرکے انہیں فروغ دینے کی راہ تلاش کی جا سکے۔انسانوں میں دو قسم کے امتیازات و اختلافات پائے جاتے ہیں۔
1_فطری امتیازات 2_غیر فطری امتیازات
سب سے پہلے ان امتیازات و اختلافات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
1_فطری امتیازات:۔
انسان کی خلقت میں بہت سے فطری امتیازات موجود ہیں جو رنگ و نسل, زبان و علاقہ اور صلاحیت و استعداد کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ خدا نے انسان کے اندر یہ فطری امتیازات رکھ دینے کے باوجود اسے اجتماعی روابط کو مضبوطی سے بحال رکھنے کی تاکید کی ہے کیونکہ اللہ کے نزدیک یہ
فطری امتیازات لوگوں کی ایک دوسرے پر برتری کا سبب نہیں ہیں اسی لیے فرمایا:
“يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُم ْ ُشعُوبا َوقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ”
“اے لوگو ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا یے اور تمہیں قوموں و قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم پہچانے جاؤ, بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ پرہیزگار ہے,بے شک اللہ علیم و خبیر ہے”[ا لحجرات 13]۔پس ان فطری امتیازات کو سامنے رکھ کر اجتماعی روابط کی اہمیت کم نہیں ہوسکتی اس لیے یہ برتری کا معیار نہیں ہے۔ اسی طرح ایک اور مقام پہ ارشاد ہوا:
“وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ”
“اور خدا کی نشانیوں میں سے ہے زمین و آسمان کی تخلیق اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا مختلف ہونا,بے شک اس میں جاننے والوں کے لیے نشانیاں ہیں”۔[ الروم: 22] اسی طرح سورہ نوح میں ارشاد ہوا
“وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا”
بتحقیق خدا نے تمہیں مختلف انداز میں پیدا فرمایا ہے”[ نوح : 14] اور پھر سورہ زخرف میں درجات کے اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
“أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ”
“کیا وہ تیرے رب کی رحمت کو تقسیم کرتے ہیں, ہم ان کے درمیان دنیوی زندگی کی معیشیت کو تقسیم کرتے ہیں۔ اور ہم نے ان میں سے بعض کے درجات کو بعض سمے بلند رکھا ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں۔ اور تیرے رب کی رحمت اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے جو یہ جمع کرتےہیں”۔[ا لزخرف : 32 ] پس ان چند آیات کے معانی میں دقت کرنے سے ہتا چلتا ہے کہ خدا نے انسانوں میں زات, رنگ, نسل,زبان, قوم, قبیلہ, اور دنیوی درجات کے لحاظ سے امتیاز رکھا ہے لیکن ان میں سے کوئی ایک مورد بھی انسان کی عزت, سربلندی اور برتری کا معیار نہیں قرار دیا۔ لہذا ان امتیازات کے بوجود بھی اجتماعی روابط بحال رکھنے کی ضرورت بہر حال موجود رہتی ہے۔
انسان بعض میلانات کے لحاظ سے غیر انسان سے امتیاز رکھتا ہے۔ ان میلانات کو ایک لحاظ سے ”مقدس میلانات“کہا جاسکتا ہے۔ دوسرے لحاظ سے یہ ایسے میلانات ہیں کہ ”خود محوری“ کے مفہوم سے خارج ہیں۔ یہ ”خود محوری“ پر مبنی نہیں ہیں۔ یعنی انسان ایسے میلانات رکھتا ہے کہ جو”خود محوری“ کے مفہوم سے خارج ہیں۔ یہ ”خود محوری“ کیا ہے؟ یعنی ایسے میلانات کہ جو انجامِ کار صرف انفرادی ہوں۔ ایسے میلانات حیوان میں بھی ہیں اور انسان میں بھی ہوتے ہیں، حیوان بھی غذا کی خواہش رکھتا ہے لیکن غذا کی اس خواہش کا رجحان اور تعلق خود اسی سے ہوتا ہے یعنی اس کا میلان خود اپنے لئے حصول غذا کی خاطر ہے۔ انسان میں بھی خود محوری پرمبنی بعض میلانات ہیں چونکہ انسان انسان ہونے کے ساتھ ساتھ حیوان بھی ہے بلکہ پہلے حیوان ہے بعد میں انسان ہے لہٰذا ایسے میلانات انسان میں بھی ہیں۔حیوانات کی بھی اجتماعی زندگی ہوتی ہے لیکن ان کا عمل آزادی انتخاب کے ذریعے نہیں ہے بلکہ انتسابی ہے یعنی طبیعت کی طرف سے وہ اس کام کے لئے منتخب ہوئے ہیں اور وہ اپنا کام جبری طور پر انجام دیتے ہیں اس طرح سے اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ مثلاً شہید کی مکھیاں یا بعض چیونٹیاں اجتماعی زندگی رکھنے والے جانوروں میں شمار ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہرن بھی کسی حد تک اجتماعی زندگی بسر کرتا ہے ۔ البتہ ان کا عمل بھی جبلی ہوتاہے یعنی خود بخود اور نیم آگاہی کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے نہ کہ ان کے اپنے انتخاب کے ذریعے ۔ شروع ہی سے ان کی طبیعت میں یہ سب کچھ موجود ہے اور یہ اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ حیوانات کے میلانات کی یہ کیفیت ہے۔
2_غیرفطری امتیازات: ۔
اس دنیا کی روز بروز ترقی سے جہاں بہت سے فوائد حاصل ہوئے ہیں وہیں انسانوں میں بہت سے نئے اختلافات نے بھی جنم لیا ہے۔ اختلافات و امتیازات خاندان سے شروع ہوتے ہوئے معاشرے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ اولاد کے دلوں سے والدین کا احترام ختم ہوتا جارہا ہے۔ اور کئ ایسے والدین دیکھنے کو ملتے ہیں جو اولاد کو خود سے عاق کرنے حتی معصوم بچوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے جیسے انتہائی اقدام سے بھی دریغ نہیں کرتے۔اسی طرح زوجین کے درمیان اختلافات بھی دور حاضر کا ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ طلاق کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ ک یں شوہر بیوی پہ تیزاب پھینک رہا ہے کہیں بیوی کو زلیل کیا جارہا ہے تو کہیں بیوی شوہر سے طلاق لے کر جان چھڑانے کی حسرت لیے بیٹھی ہے۔
اسی طرح چار دیواری سے باہر کے معاشرے میں بھی کئی قسم کے اختلافات نمودار ہورہے ہیں۔ زمینوں اور جائیدادوں کے اختلافات جہاں کئی افراد کی جان لیتے ہوئے پورا خاندان برباد کردیتے ہیں وہاں کئی سالوں کی دشمنی کا باعث بن آنے والی نسل کی بربادی کا پیش خیمہ ثابت ہو رہے ہیں۔سب سے بڑا مسئلہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات ہیں جن کی آڑ میں ہزاروں خاندان تباہ ہوگئے اور پورا معاشرہ فساد اور بدامنی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔
اجتماعی روابط میں حائل رکاوٹیں:
مسلم فرقوں میں اتحاد اور بھائي چارے کے مقدس ہدف جسے ہم تحریک تقریب کہتےہیں اسے علمی شکل دینے کے لئے ہمیں اپنے اندرونی مسائل کا جائزہ لینا پڑے گا کہ وہ کونسے مسائل ہیں جو تقریب و اتحادکی راہ میں رکاوٹ بنےہوئے ہیں اور ان کا موثر طریقوں سے علاج کرنا ہوگا۔ آیت اللہ شہید مرتضی مطہری نے مسلمانوں کے اتحاد کی راہ میں موجود رکاوٹوں کےبارےمیں تحقیق کی ہے اور ان کا راہ حل بھی پیش کیا ہے ۔ وہ مسلمانوں کو دعوت دیتےہیں کہ ان مسائل پرغور کریں اور انہیں دورکرنے کی کوشش کریں۔ شہید مطہری کہتےہیں کہ “غلط فہمیاں”مسلمانوں کے اتحادمیں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ شہید مطہری سب سے پہلے غلط فہمی کی تعریف کرتےہوئے کہتےہیں کہ غلط فہمی ایک دوسرے کا غلط ادراک ہے اور اس کے مقابل حسن تفاہم یا ایک دوسرے کو اچھی طرح سے سمجھناہے ۔ وہ کہتےہیں اچھی طرح سے ایک دوسرے کا ادارک کرنا یہ ہےکہ ہم اپنے مدمقابل کو اسطرح سمجھیں جیسا کہ وہ ہے اور غلط فہمی بھی اسی طرح ہےیعنی اپنے مدمقابل کو اس طرح سے نہ سمجھاجائے جیسے وہ ہے ۔ بلکہ اسکے بارےمیں بدگمانی اور توھمات کا شکار ہواجائے ۔ غلط فہمی ہرشخص اور ہرمسئلہ کے بارےمیں ایک انتھائي منفی چیزہے کیونکہ یہ گمراہی کا سبب بنتی ہے ۔
انسان کے اجتماعی روابط میں اس کے غیر فطری اختلافات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ قرآنی طرز زندگی میں قرآن نے ان غیر فطری اختلافات کی مذمت کی ہے۔ لہذا اب دیکھتے ہیں کہ وہ کون سے اسباب ہیں جن کی وجہ سے قرآن نے ان غیر فطری اختلافات کی مذمت کی ہے۔
غیرفطری اختلافات کے اسباب:۔
بعض اوقات لوگ اس لیے بھی اختلاف پیدا کرتے ہیں تاکہ وہ بزعم خود پانی کو گدلا کرکے اس میں سے مچھلیاں پکڑ سکیں۔ جیسے وہ لوگ جو کتاب آسمانی میں اختلاف پیدا کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کے بارے قرآن میں ارشاد ہوا:
“وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ”
“اور جو لوگ اس کتاب میں اختلاف کرتے ہیں وہ گہرے شگاف اور پراگندگی میں پڑے ہوئے ہیں”[ البقرۃ : 176] قرآن نے ان لوگوں کو حقیقت سے دور قرار دیتے ہوئے شقاق بعید کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس تعبیر کی وضاحت میں صاحب تفسیر نمونہ کچھ یوں رقمطراز ہوتے ہیں:لفظ شقاق کا معنی ہے شگاف اور جدائی۔ یہ تعبیر شاید اس طرف اشارہ ہو کہ ایمان و تقوی اور اظہار حق انسانی معاشرے میں وحدت و اتحاد کی رمز ہے جب کہ کفر و خیانت اور اخفائے حق پراگندگی, جدائی اور شگافتگی کا سبب ہے اور اس سے مراد سطحی جدائی اور شگاف نہیں کہ جس سے صرف نظر کیا جا سکے بلکہ ایسی جدائی, پراگندگی اور شگاف ہے جس میں جدائی ہو۔” [تفسیر نمونہ ج1 ص417] قرآن نے غیر فطری اختلاف کا ایک سبب ظلم و زیادتی و سرکشی بتایا ہے۔ارشاد ہوا:
“إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ “اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جنھیں کتاب دی گئی انھوں نے علم آ جانے کے بعد آپس کی زیادتی کی وجہ سے اختلاف کیا”۔[ آل عمران : 19 ] اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے صاحب تفسیر الکوثر لکھتے ہیں:
“واضح رہے کہ اہل کتاب نے اس دین واحد میں اختلاف پیدا کیا۔ اس کی وجہ ان کی لاعلمی نہیں تھی بلکہ وہ جانتے تھے کہ دین میں اختلاف کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ جانتے ہوئے آپس کی ضد بازی میں اور ایک دوسرے پر زیادتی کی توجیہ کرنے کے لیے اختلاف کرتے تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف قتال کرتے نیز دین میں تصرف و تحریف کرتے اور اپنے زاتی مفادات کو دین پر مقدم رکھتے تھے۔”۔ پس ان کا اب اس دین واحد میں یوں اختلاف کرنا دراصل ظلم و زیادتی کی وجہ سے تھا۔”[ الکوثر فی تفسیر القرآن ج2 ص32] مذہبی اختلافات کا سرچشمہ:۔
مذکورہ آیت میں دقت کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ زیادہ تر مذہبی اختلافات جہالت و لا علمی کی وجہ سے نہیں ہوتے بلکہ ان کی بنیادی وجہ یہی ظلم و زیادتی اور حق سے انحراف ہے۔ پس جب علم ہونے کے باوجود اختلاف ہے تو اس کا سدباب صرف اسی وقت ممکن ہے جب لوگ زاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے, تعصب کی عینک اتارتے ہوئے حق شناسی اور عدل و مساوات سے کام لینے لگیں تو یہ تمام اختلافات رفو چکر ہوجائیں گے۔آج بھی جب کوئی تفرقہ پیدا ہوتا ہے تو دنیاوی حرص، اپنی بڑائی یا انا اور اپنی ایک الگ پہچان و شہرت کے لئے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بناتا ہے۔ یعنی آج بھی اس تفرقے کی ایک بڑی وجہ یہی “بغیاً” یعنی ضد ہے ۔
تفرقے کا دوسرا سبب “غلو” یعنی حد سے آگے بڑھ جانا ہے۔ اللہ تعالٰی نے قران حکیم میں فرمایا ہے “لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ“(سورۃ النساء:177)ترجمہ:”دین میں غلو نہ کرو”۔ اصل میں موجودہ دور میں جو غلو تفرقہ بازی کا سبب ہے وہ غیر شعوری ہے اور غلو کرنے والے اسے دین کی خدمت سمجھتے ہوئے کرتے ہیں، جبکہ وہ دین کا نقصان کر رہے ہوتے ہیں۔ فروعی اور اجتہادی امور میں تعصب برتنا اور اپنی اختیار کردہ رائے کے علاوہ دوسری رائے کے حاملین کو مخطی یعنی اجتہادی غلطی کرنے والا ہی نہیں بلکہ باطل اور گنہگار قرار دینا اور ان سے ایسا رویہ رکھنا کہ جیسا اہل باطل سے رکھا جاتا ہے، آج کے دور میں غلو کی واضح مثالیں ہیں۔ بعض لوگ تو غلو میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ اپنے مسلک کی دعوت اس طرح دیتے ہیں کہ جیسے کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دی جاتی ہے۔ اکثر یہ غلو علماءِ سوء میں پایا جاتا ہے جو بغیر اہلیت و تدبر کے دوسروں پر فتوٰے جڑتےہیں اور اس طرح سلفِ صالحین کےمنہج سے انحراف کرتے ہیں۔ نبی اکرم ؐ کا فرمان ہے ((أَنَا زَعِیمٌ بِبَیْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَآئَ وَإِن کَانَ مُحِقًّا) ترجمہ: میں اس شخص کو پہلے جنت کی ضمانت دیتا ہوں جو حق پر ہوتے ہوئے بھی جھگڑا چھوڑ دے۔
کیا ہم نبی اکرم ؐکے اس فرمان کو ان فروعی معاملات میں تفرقے سے بچنے کا ذریعہ نہیں بنا سکتے؟ یہ ایک غور طلب سوال ہے۔
تفرقے کا تیسرا اور سب سے اہم سبب قرآن سے دوری ہے۔ بقولِ اقبال:
؎ خوار از مہجورئِ قرآں شدی
شکوہ سنج ِگردشِ دوراں شدی
قرآن وہ واحد شے ہے جس پر مسلمانوں کے علاوہ غیرمسلموں کا بھی اتفاق ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جوحضرت محمد ؐنے اپنی امت کو دی۔ مسلمانوں کا ایمان ایک قدم اور آگے ہے کہ یہ وہی کتاب ہے جو اللہ نے جبرائیلؑ کے ذریعے حضرت محمدؐ کو عطا فرمائی۔ مگر آج مسلمانوں کا حال ہے کہ “إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ( (سورۃ بنی اسرئیل:9)ترجمہ:”بےشک یہ قرآن ہدایت دیتا ہے اس راہ کی طرف جو بالکل سیدھی ہے” کے باوجود ہم نے اس ہدایت کے سرچشمے کو چھوڑ رکھا ہے۔ وہ” حبل اللہ” جسے تھام کر تفرقے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ہم نے اسے پسِ پشت ڈالا ہوا ہے۔ وعظ ہو یا خطاب وہاں بھی قرآن کا کوئی ذکر نہیں، کوئی اصلاحی درس ہو تو وہاں بھی” فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ( (سورۃ ق:45)ترجمہ:”پس تزکیر کیجئے اس قرآن کے ذریعے”کے حکم پر عمل نہیں اور عموماً بیانات اور دروس میں قرآن کے علاوہ دیگرغیر منصوص کتب سے تذکیر کرائی جاتی ہے۔ وہ قرآن جو دلوں کو جوڑنے کے لئے نازل ہوا تھا وہ آج دوسروں کے خلاف گواہیاں دینے کے لئے کام آتا ہے۔ وہ کتاب جس پر عمل کرنے کی وجہ سے یہ قرآن بروزِ قیامت ہماری شفاعت کرتا، آج ہم “وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا( (سورۃ الفرقان:30)ترجمہ:”اور کہیں گے رسول، اے رب! میری قوم نے اس قرآن کو پسِ پشت ڈال دیا”کے مطابق اپنے آپ کو نبی ؐکی بددعا کامستحق بنا رہے ہیں ۔
اختلافِ رائے ایک فطری اور طبعی امر ہے جس کو نہ مٹایا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کو مٹانا اسلام کا منشاء ہے۔ قرآن میں بھی اللہ نے فرمایا ہے ” وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ( (سورۃ ھود:118)ترجمہ:”اگر آپ کا رب چاہتا تو بنا دیتا لوگوں کو ایک ہی امت، مگر وہ اختلاف میں ہی رہیں گے”۔کا مل اتفاقِ رائے صرف دو صورتوں میں ممکن ہے، یا تو ان لوگوں میں کوئی سوجھ بوجھ والا شخص ہی نہ ہو یا پھر اس مجمعے میں تمام انسان ایسے ضمیر فروش اور خائن ہوں کہ ایک بات کو غلط جانتے ہوئے بھی غلط نہ کہیں اور ” إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا( (سورۃ النساء:58)ترجمہ: بیشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں(مشوروں) کو لوٹادو ان کے اہل کی طرف”۔ پر بھی عمل نہ کریں۔ اسلام چونکہ فطری دین ہے اس لئے اس نے فطری جذبے کو دبایا نہیں ہے بلکہ صحیح رخ دیا ہے۔ اسلام میں شورائیت کا نظام قائم کیا گیا تاکہ مختلف آراء کی موجودگی میں بصیرت کے ساتھ فیصلہ کیا جاسکے۔
نبی اکرم ؐکے دورِ مبارک میں بھی انتظامی اور تجرباتی معاملات میں اختلاف کیا گیا۔ نبی اکرم ؐکی وفات کے بعد صحابہ کے دور میں پیش آمدہ نئے دینی امور ، اجتہادی مسائل اور تعارض ِ آیات و احادیث کے فہم میں اختلاف ہوا۔ یہاں تک کہ روز مرہ کے اعمال جیسے نماز و روزہ کے فروعی و جزئی امور پر بھی اختلافات ہوئے اور ان مباحث کا ذکر بھی ملتا ہے۔پھر یہ اختلاف تابعین اور تبع تابعین میں بھی جاری رہا۔ یہاں تک کہ بعض امورمیں تو حلال حرام تک میں اختلاف ہوا۔ مگر قابلِ تقلید بات یہ ہے کہ یہ اختلاف مخالفت میں نہ بدلا۔ نہ کسی شخص یا گروہ نے مخالفین کو باطل کہا نہ سب و شتم کا نشانہ بنایا۔ بلکہ تمام ایک دوسرے کے تنوع علم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔
مذہب خود اختلاف کا سبب نہیں:۔
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مذہب لوگوں میں اختلاف پیدا کرتا ہے اور اسی کی ہی وجہ سے تاریخ میں کئی خون ریزیاں ہوچکی ہیں۔
دراصل یہ لوگ کسی شبہ میں مبتلا ہیں ورنہ مذکورہ آیۃ اس اعتراض بھر جواب دیتے ہوئے اعلان کررہی ہے کہ اختلافات کا سبب مذہب نہیں لوگوں کے زاتی مفادات اور طغیانی و سرکشی اس کا بڑا سبب ہیں۔ ورنہ مذہب تو سعادت بشر کا خواہاں ہے اور تمام مذہبی قوانین اس بات کا ببانگ دہل اعلان کررہے ہیں کہ مذہب اختلاف کا سرچشمہ نہیں امن و سلامتی کا پیامبر ہے۔
اجتماعی روابط کی قرآنی دعوت:۔
قرآن نے مختلف مقامات پر مختلف انداز میں اجتماعی روابط اور اتحاد و اتفاق کی دعوت دی ہے۔ اختلافات کا حل کرنا ،خاص طور سے دینی اختلافات کو حل کرنا، امن, بھائی چارہ, برادری اور محبت کی فضا بنانا ،حسد اور کینہ توزی کے اسباب کا ازالہ ،اور پیار ومحبت پھیلانا قرآنی طرز زندگی کے اہم امور ہیں۔ خداوند متعال نے قرآن میں تمام مومنین کو برادر قراردیا ہے اور انہیں امت واحدہ اور عظیم امت میں شامل کرتے ہوئے اپنا بندہ کہا ہے۔ارشاد ہوا:
“وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ”
“اور بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تم سب کا پروردگار ہوں لھذا میری ہی عبادت کیا کرو۔[ المومنون: 52 ]خدانےاتحاد کو نعمت قراردیے کر تمام انسانوں کو اتحاد کی دعوت دی ہے ارشاد ہوتاہے:
“واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا ۔واذکرونمعت اللہ علیکم اذکنتم اعداءفالف بین قلوبکم فاصبحتم بنعمتہ اخوانا۔”
“اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیداکرو اور اللہ کی نعمت کویاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیداکردی توتم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے ۔”[ آل عمران 103] قرآن کریم انسانوں سے مطالبہ کرتاہےکہ تقوی اختیارکرکے اپنےاختلافات حل کریں ۔ارشاد ہوتا ہے”فاتقواللہ وااصلحوا بینکم”تقوی اختیارکرو اور آپس کے اختلافات حل کرو۔”[ الانفال: 1 ] قرآنی طرز زندگی کا تقاضہ ہے کہ گھریلو اختلافات اور مسائل حل کرکے گھرانے میں چین و سکون کاماحول بنایا جائے۔ سورہ حجرات میں حکم خداوندی ہےکہ:
“وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَاَ”
اگر مومنین کے دوگروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کرا دو ۔”[ الحجرات : 9] قران نے اس طرح کے صلح پسندانہ اقدامات کو بھائیوں کے درمیان اصلاحی اقدامات سے تعبیر کیا ہے۔ اگلی آیت میں فرمایا
“إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ”
“بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں لہذا اپنے بھائیوں کے درمیان صلح و صفائی رکھو۔”[ الحجرات : 10] خدا نے قرآن میں خاص طورسے دین میں تفرقہ اندازی کی مذمت کی ہے اوراسے عذاب کا سبب قراردیا ہے۔ارشاد ہوا:
“وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ٌ”
“ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے تفرقہ کیا اور واضح نشانیاں آ جانے کے بعد اختلاف کیا”[ آل عمران: 105
] قرآن نے مذہب و دین میں تفرقہ ڈالنے والوں کو سنت وسیرت پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے دور اور آنحضرت کو ان سے بیزار بتایا ہے ۔
سورہ انعام میں ارشاد ہوتاہے:
“إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ إِنَّمَا أَمْرُهُمْ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ”
“جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیداکیا اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ان سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے پھر وہ انہیں ان کے اعمال کےبارےمیں باخبر کرے گا۔”[ الانعام : 159] قرآنی طرز زندگی میں مسلمانوں کے درمیان تنازعات اور تصادم ہرگز قابل قبول نہیں ہیں۔ کیونکہ اس سے مسلمان کمزورپڑجاتے ہیں اور ان کی عظمت و عزت میں کمی واقع ہو جاتی ہے, ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور دشمنوں پر سے ان کا رعب جاتا رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن کی نظر میں اتحاد وانسجام ایک طرح کی طاقت ہے جس کا حصول ضروری ہے تاکہ اس کے ذریعے دشمن پر اپنی ہیبت طاری کی جائے تاکہ وہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی طرح کا قدم اٹھانے کی جرات نہ کرسکے۔
سورہ انفال میں ارشاد فرمایا:
“وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُم”
“اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم بزدل پڑ جاؤ گے اور تمہارا رعب ختم ہوجائے گا۔”[ الانفال : 46 ] قرآن کریم نے حبل اللہ کو مضبوطی سے تھامنےاور خدا و رسول و اولی الامر کی اطاعت کو اتحاد کا مرکز و محور قراردیا ہے اسی طرح طاغوت کو حکم بنانے , جاہلیت کی پیروی کرنے نیز خداو رسول اور آپکی سنت سے روگردانی ،اور اپنے اختلافات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے کو عدم ایمان کی نشانی اور غیر حق کی پیروی نیز تفرقہ کا بنیادی سبب قراردیا ہے۔[ نساء59,احزاب36,نساء65] صدراسلام کی تاریخ شاہد ہے کہ مشیت الہی کے تحت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اقدامات کےسہارے دیرینہ اختلافات محوہوگئے تھے اور ایسی دوستی کی فضا قائم ہوئی تھی کہ جس کی مثال آج تک نہیں ملتی ،اوس وخزرج کے بڑے قبیلے جو کبھی ایک دوسرے کے خون کےپیاسے تھے آپس میں بھائی بھائی بن گئے ۔خداوند متعال نے نہ صرف اپنے نبی کو مسلمانوں اور مومنین کے درمیان اتحاد قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی تھی بلکہ انہیں خدا پرعقیدے کی روشنی میں اھل کتاب کوبھی مسلمانوں کے ساتھ متحد کرنے کا حکم دیتے فرمایا:
“قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ”
“کہہ دو کہ اے اہل کتاب آجاؤ اس کلمہ کی طرف جو تمہارے اور ہمارے بیچ ایک ہے”[ آل عمران : 64]۔
اجتماعی روابط کے لیے امام علی علیہ السلام کی قربانیاں
حضرت امام علی علیہ السلام جیسی با عظمت و باکمال شخصیت کا 25 سالہ خاموشی کا زمانہ دراصل اپنے اندر ایک بہت بڑا پیغام رکھتا ہے۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

مقالات قرآنی
خدا جوئی فطرت انسان کا تقاضا ہے۔
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا محور و مرکز عصمت و طہارت
August 26, 2026
0
0
مقالات قرآنی
محمد و آل محمد علیھم السلام پر صلوات کی بابت حکم قرآنی
August 26, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
مقالات قرآنی
محمد و آل محمد علیھم السلام پر صلوات کی بابت حکم قرآنی
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions