نہج البلاغہ کے آئینہ میں معرفت خداوند عالم حصہ اول
کلام علیؑ میں روح نبوی:
اس لیے کے:دونوں حضرات کا حسب و نسب ایک ہے اور دونوں ہی کی رگوں میں ہاشمی خون دوڑ رہا ہے۔
۔ ذريتهم بعضهم من بعض۔۔ ۔ (آل عمران /34)
ترجمہ: یہ ایک نسل ہے جس میں ایک کا سلسلہ ایک سے ہے۔
اور علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میرا رشتہ رسول اکرم ﷺ سے وہی ہے جو نور کا رشتہ نور سے ہوتا ہے یا ہاتھ کا رشتہ بازوؤں سے ہوتا ہے۔۔۔ [2] اور دونوں ایک ہی نور کے ٹکڑے ہیں۔ كنت أنا و علي بن ابي طالب نورا بين يدي اللّٰه
میرا اور علیؑ کا نور خدا کے سامنے تھا جبکہ یہ نور خداوند کی تسبیح و تقدیس میں مشغول تھا یہاں تک کہ صلب آدمؑ میں قرار پایا اور پھر صلب عبدالمطلب میں پہنچا ہمیں نبوت ملی اور علیؑ کے سلسلے میں امامت رکھی گئی۔ [3] علیؑ جانشین رسول اللہ ﷺ اور ان کے وصی ہیں فرمایا: ہارون کو جو موسیٰ سے نسبت تھی وہی نسبت علی کو مجھ سے ہے۔ [4] انت مني بمنزلة هارون من موسي الا انه لا نبي بعدي رسول خدا ﷺ نے یہ فرما کر خود اور علیؑ کو ایک جان دو قالب بتایا ہے۔
بقول شاعر:
ها علي بشر كيف بشر ربه فيه تجلی و ظهر
آگاہ ہو جاؤ علی ایک ایسے انسان ہیں جو اپنے رب کے صفات کا آئینہ ہیں۔
من كنت مولاه فعلي مولاه۔۔۔ [5] وغیرہ جیسی حدیثیں تواتر سے نقل ہوئی ہیں اس طرح رسول اللہ ﷺ کے علم کا سلسلہ علیؑ کے ذریعے بلا فصل ہے۔
عباس ابن عبدالمطلب کا بیان:
فضل بن عباس رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اپنے باپ (یعنی رسول اللہ کے چچا عباس) سے پوچھتے ہیں بابا یہ بتائیے کہ رسول خدا سب سے زیادہ اپنے بچوں میں کس کو چاہتے تھے تو عباس بن عبدالمطلب نے جواب دیا: علی کو سب سے زیادہ چاہتے تھے!
فضل نے کہا میں تو ان کے بچوں کی بات کر رہا ہوں اور آپ علی کا نام لے رہے ہیں؟ عباس نے جواب دیا پیغمبر جس قدر علی کو چاہتے تھے کسی اور کو نہیں چاہتے تھے۔ [6] رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولہ وسلم اور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام میں روحی مماثلت تھی اور دونوں حضرات میں معنوی و روحانی شباہتیں تھیں چنانچہ جو باتیں اور علمی دھارے کلام رسول میں پائے جاتے ہیں وہی کلام علی از جملہ نہج البلاغہ کے خطبات خطوط اور مواعظ و حکمت میں بھی پیوست ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام اسی بات کو یوں فرماتے ہیں: و قد علمتم موضعي من رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه و أله وسلم بالقرابة القريبة۔ وضعني في حجره و أنا ولد يضمني الي صدره۔ و لقد قرن اللّٰه به (صلي اللّٰه عليه و أله) من لدن أن كان فطيما اعظم ملك من ملايكته۔ يرفع لي في كل يوم من اخلاقه علما۔[7] ترجمہ: تم جانتے ہو کہ رسول اللہ سے مجھے کس قدر قریبی قرابت حاصل ہے۔ انہوں نے بچپنے میں مجھے اپنی گود میں اس طرح جگہ دی ہے کہ مجھے اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔ اپنے بستر پر لٹاتے تھے اپنے کلیجے سے لگا کر رکھتے تھے اور مجھے جسم رسالت کی خوشبو سے مسلسل سرفراز فرمایا کرتے تھے اور غذا کو اپنے دانتوں سے چبا کر مجھے کھلاتے تھے نہ انہوں نے میرے کسی بیان میں جھوٹ پایا اور نہ میرے کسی عمل میں غلطی دیکھی اور اللہ نے دودھ بڑھائی کے دور ہی سے ان کے ساتھ ایک عظیم ترین فرشتے کو مامور کر دیا تھا۔ جو شب و روز بزرگیوں اور بہترین اخلاق و مکارم کے راستے پر انہیں چلاتا رہے اور میں بھی ان کے ساتھ ساتھ اسی طرح تھا جیسے بچہ ماں کے پیچھے پیچھے چلتا ہے وہ روزانہ میرے سامنے اپنے اخلاق کریمانہ کا ایک نشانہ پیش کرتے تھے اور پھر مجھے اس کی اقتدا کا حکم دیا کرتے تھے میں نور وحی رسالت کا مشاہدہ کیا کرتا تھا اور خوشبو رسالت سے دماغ کو معطر رکھتا تھا میں نے نزول وحی کے وقت شیطان کی چیخ کی آواز سنی تھی اور دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کیسی آواز ہے تو فرمایا: یہ شیطان ہے جو آج اپنی عبادت سے مایوس ہو گیا ہے تم وہ سب دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں اور وہ سب سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں صرف فرق یہ ہے کہ تم نبی نہیں ہو لیکن تم میرے وزیر ہو اور منزل خیر پر ہو۔ [8] چنانچہ اسی بات کو لیکر جامع نہج البلاغہ جناب شریف رضی علیہ الرحمہ مقدمہ نہج البلاغہ میں خود فرماتے ہیں:عليه مسحة من العلم الالهي و فيه عبقة من الكلام النبوي
علی کے کلام میں علم الہی کا رنگ ہے تو دوسری جانب رسول خدا ﷺ کے کلام کی خوشبو بسی ہوئی ہے چنانچہ جو کچھ علی علیہ السلام کے کلام میں فصاحت و بلاغت ہے رسول اللہ ﷺ کے کلام سے ہماہنگ ہے اور ایک ہی سر چشمے سے ابلتے ہوئے علم و حکمت کے سوتے ہیں جو تشنگان علم و معرفت کو سیراب کرتے ہیں۔
بنیاد دین معرفت خدا ہے:
اس دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں دین کو ماننے والے دین کو نہ ماننے والے خدا کو نہ ماننے والے اپنے عقیدے پر کوئی دلیل نہیں رکھتے صرف وہم و گمان کی بناء پر دین داروں سے جدال کرتے آئیں ہیں اور خدا کا انکار کرتے ہیں اگر ہم تھوڑی دیر کے لیے انکار خدا کے عقیدے کو تسلیم کر لیں اور مان لیں کہ خدا نہیں ہے تو پھر کچھ ایسے سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کے جوابات کے بغیر ایک سلیم الطبع انسان مطمئن نہیں ہو سکتا۔
مثال کے طور پر انکار خدا کرنے والے (لادین و مذہب) کہتے ہیں: جو کچھ ہے یہی زندگانی دنیا ہے اور یہی زمانہ ہمیں مارتا اور جلاتا ہے۔
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ ۚ وَمَا لَهُمْ بِذَٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ(سورہ جاثیہ، آیت24)
ترجمہ: اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ صرف زندگانی دنیا ہے اسی میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کر دیتا ہے اور انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ہے یہ صرف ان کے خیالات و گمان ہیں اور بس۔
اب اگر اسی خیال کو تسلیم کر لیں تو کچھ سوالات ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کے جوابات کے بغیر انسان مطمئن نہیں ہو سکتا اور وہ سوالات مندرجہ ذیل ہیں:
نمبر 1: کیا انسان کی زندگی بس یہی کم و بیش 60، 70 سال یا سو سال ہے؟ اور پھر ملک عدم کا سناٹا چھایا ہوا ہے؟
نمبر 2: تو کیا ہم سب جانور ہیں اور جانوروں جیسی زندگی گزارنے کے لیے دنیا میں آئے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنی طبعی عمر گزارتا ہے اور کھا پی کر نسل بڑھا کر مٹی میں مل جاتا ہے تو کیا ہم بھی اسی کی نقل ہیں؟
نمبر 3: اور اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں عقل کیوں دی گئی اس جوہر انسانیت کا فائدہ کیا ہے؟
چنانچہ ہم بھی انہی جانوروں کی طرح ہوکر رہ جائیں گے اور آخر آخر دونوں ایک ہی سطح زندگی کے مالک ہوں گے اور عقل رکھتے ہوئے بھی انسان کی کل ترقی حیوانیت ہوگی اس طرح دونوں برابر ہو گئے فرق کیا رہا؟
نمبر 4: اگر خدا نہیں ہے دین و آئین نہیں ہے اور انسان کو کسی کی بارگاہ میں جواب نہیں دینا ہے تو پھر یہ بھی سوال اٹھتا ہے کہ دنیا میں کسی قانون کی پابندی کا فائدہ کیا ہے؟ کیونکہ خدا کا انکار کرنے کے بعد کسی کے سامنے جواب دینا ہی نہیں ہے اور خدا کے تصور کے بغیر قیامت حساب و کتاب سب بیکار ہے۔
قانون کی پابندی تو اس وقت ہوگی جب پابندی کرنے والے خلاف ورزی کرنے والوں کے بالمقابل انعام و اکرام سے نوازے جائیں اور پابندی کرنے والے فائدہ اٹھائیں!! حالانکہ انکار خدا کرنے کی بنا پر مرنے کے بعد خدا کی بات ماننے اور نہ ماننے والے دونوں برابر ہو جاتے ہیں۔ اس طرح دنیا میں بھی کسی نیکی یا کار خیر کرنے کا کوئی مطلب باقی نہیں رہتا کیونکہ اس طرح انسان بھی ایک حیوانی زندگی کے برابر ہو گیا۔ حالانکہ خدا پر ایمان رکھنے والے اس کے قانون پر چلنے والے دین کو لے کر ان سارے سوالات کا تشفی بخش جواب رکھتے ہیں نہ گمان کی بنا پر گفتگو کرتے ہیں نہ ہی خدا کو ماننے کے سلسلے میں کسی شک و شبہ کا شکار ہیں۔
قرآن کا مطالعہ، کائنات میں غور و فکر اور انفس و آفاق کی سیر کرنے کے علاوہ معصوم اماموں کی سیرت اور ان کی رہنمائیاں صاحبان ایمان کے دل و دماغ کو روشن کرتیں اور زندگی کو راہ مستقیم سے بھٹکنے سے بچاتی ہیں۔
لہذا اس کے جواب میں پہلے یہ جان لینا ضروری ہے کہ قرآن کریم انکار خدا کی نفی کرتا ہے اور رب العالمین کا عقیدہ پیش کرتے ہوئے الحمدللّٰہ رب العالمین اور مالک یوم الدین کی تلقین کرتا ہے۔
یعنی خدا ہے بھی اور وہی سب کا پروردگار بھی ہے اور یہی نہیں بلکہ آخرت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے ارشاد ہوتا ہے:
جو لوگ بظاہر ایمان لائے ”یا یہود ی، نصاری اور ستارہ پرست ہیں“ ان میں سے جو واقعی اللہ اور آخرت پر ایمان رکھے گا اور نیک عمل انجام دے گا اس کے لیے اللہ کے ہاں اجر ہے اور کوئی حزن و خوف نہیں ہے۔ (بقرہ آیت نمبر 62)
چنانچہ نگاہ دین میں ایمان باللہ، خدا کی معرفت، روز جزا و آخرت یعنی قیامت پر یقین ایک دوسرے سے مرتبط اور نہ ٹوٹنے والا ایسا دھاگہ ہے جو آپس میں پیوست ہے۔
نہج البلاغہ ایک ایسی کتاب ہے جو مختلف انداز، مختلف الفاظ، مختلف پیرائے میں نہایت سادہ اور سلیس زبان و بیان میں خدا کے وجود اور اس کی معرفت کی طرف پوری انسانیت کی رہنمائی کرتی ہے۔ جیسا کے علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اول الدین معرفتہ، ترجمہ: دین کی ابتدا خدا کی معرفت سے ہے۔
دین کی اساس:
یعنی عقیدہ توحید کے بغیر دین ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا اور دین کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ہی غلط ہے اس لیے کہ انسانی زندگی کی اصل و اساس خدا اور اس کا قانون یعنی دین ہے جب خدا ہی نہیں آیا تو دین بھی نہیں آیا نتیجے میں انسان کی زندگی حیوانیت، درندگی، مفاد پرستی، سود جوئی اور منفعت طلبی کے علاوہ کچھ نہیں رہ جاتی اور اگر معرفت الہی حاصل ہو جائے تو چیزیں بدل جاتی ہیں اور زندگی میں مقصدیت پیدا ہوتی ہے۔لہذا خدا کی معرفت زندگی کا اصل مقصد اور اسی مقصد کی راہ میں زندگی گزارنا انسانی زندگی ہے۔
انسانی طبیعت:
انسان فطرتاً ترقی اور کمال کو پسند کرتا ہے فضائل و کمالات سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہے کار خیر او ر نیکیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتا ہے۔ کسی مافوق کی نظر عنایت کا آرزو مند ہے۔ اپنے ہر چھوٹے بڑے کام اسے دکھانا چاہتا ہے اور اس پر واہ واہی چاہتا ہے اور پھر اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل پر اجر و ثواب کا خواہش مند رہتا ہے یہ اس کی فطرت ہے یہی اس کی طبیعت ہے اور یہ سب انسانی طینت اور اس کے مزاج کا حصہ ہے چنانچہ دین کے علاوہ اس کے اس جذبے کو کوئی پورا کر سکا ہے نہ ہی اس کے ان مطالبات کا درست انداز میں جواب دینے کا دعوی کرتا ہے۔ دین ہی اس فطری طلب کو سمجھتا ہے اور اسے پورا کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے چنانچہ یہ تمام خواہشیں صرف عقیدہ توحید کے اقرار و ایقان اور دامن دین سے وابستگی سے پوری ہوتی ہیں۔ اس لیے خدائے واحد کا عقیدہ عالی ترین عقیدہ ہے اور یہ تسلیم کرنا کہ وہ سب سے بزرگ و برتر ہے وہ فضائل و کمالات کا خالق اور حسن و جمال کا سرچشمہ ہے۔ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے نیکیوں کا خریدار اور تمام نیکیوں اور خوبیوں کا خود سرچشمہ فیاض ہے وہ انسان کے ہر عمل کو دیکھتا بھی ہے اسے محفوظ بھی رکھتا ہے وہ حاضر و ناظر ہے اس لیے اس کی نگاہ کرم سے چھوٹے سے چھوٹا عمل نیک و کار خیر پوشیدہ ہے نہ ضائع و برباد ہوتا ہے لہذا خداوند عالم کی شناخت اس کی معرفت اس کے دین کی پیروی دنیا کی تمام نیکیوں کی جڑ اور تمام خیر و کمال کا سرچشمہ ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں دنیا و آخرت کو ہمیشہ ایک دوسرے سے جوڑ کر پیش کیا گیا ہے:
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيا حَسَنةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ (سورہ بقرہ ، آیت 201)
علی علیہ السلام نے دین کے آغاز کو معرفت خدا اور اللہ تعالی کی شناخت کو بتا کر پورے نہج البلاغہ میں اسے جگہ جگہ بشریت کو سمجھایا ہے اور یہ وہی بات ہے جسے رسول مقبول نے روز اول اسلام کو پہچنواتے وقت ارشاد فرمایا:
قولوا لا الہ الا اللّٰہ تفلحوا۔
کہو کہ کوئی لائق عبادت نہیں سوائے خدائے واحد کے، کامیاب ہو جاؤ گے۔
پھر امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:
الدنیا دار ممر لا دار مقر والناس فیہا رجلان رجل باع فیہا نفسہ فاو بقھا و رجل ابتاع نفسہ فاعتقہا۔۔۔ [9] یہ دنیا ایک وقتی جائے قیام ہے جہاں سے آگے بڑھ جانا ہے اور دنیا میں لوگ دو طرح کے ہیں ایک وہ ہےجس نے اپنے کو بیچ ڈالا اور غلام ہو گیا یعنی خدا نشناس و بے معرفت خواہشات نفس کا غلام انسان، اور ایک وہ ہے جس نے اپنے نفس کو خرید لیا اور خود کو آزاد کر لیا (یعنی معرفت خدا حاصل کر کے اس کی اطاعت کرنے والا۔
لوگ اپنی لاعلمی ، جہالت اور مادیات میں صبح و شام زندگی گزارنے کی وجہ سے خواہش رکھتے ہیں کہ جیسے ہر چیز آنکھوں سے دیکھتے ہیں اسی طرح اللہ تعالی کو بھی آنکھوں سے دیکھیں! چنانچہ یہی بے بصیرتی ہے۔
یاد رکھیے اللہ نے ہمیں دو طرح کی آنکھیں دی ہیں:
1۔ سر کی آنکھیں
2۔ دل کی آنکھیں
سر کی آنکھیں اس لیے ہیں تاکہ محدود دائرے کی چیزیں دیکھیں، مادیات کو دیکھ سکیں، دنیا کی ہر چھوٹی بڑی، مادی اشیا کو دیکھ کر اسے مانیں مگر اسی کے ساتھ جو غیر مادی چیزیں ہیں، آنکھیں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں، مگر دل کی نگاہیں اسے دیکھتی ہیں اور عقل اسے سمجھتی ہے اس میں غور و فکر کرتی ہے اور پھر اس کی تصدیق کرتی ہے۔
ذعلب یمانی خدمت امیر المومنین علی علیہ السلام میں پہنچ کر دریافت کرتے ہیں: یا امیر المومنین کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا بھی ہے جو اس کی عبادت کرتے ہیں!؟
هل رأيت ربك يا أمير المومنين تو فرمایا: لم أعبد ربا لم أره لم تره العيون بمشاهدة العيان و لكن رأته القلوب بحقائق الايمان
فرمایا: میں ایسے پروردگار کی عبادت نہیں کرتا جسے نہ دیکھا ہو ہاں البتہ اسے آنکھیں دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں بلکہ دل کی نگاہیں حقیقت ایمانی سے اسے درک کرتیں ہیں۔ [10] خداوند عالم کا ارشاد ہے: ”لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ“ (سوره انعام آیت 103)
ترجمہ: نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے کہ وہ لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے۔
متفکر اسلام شہید مرتضی مطہری اسی ضمن میں بڑی عجیب بات کہتے ہیں: کہ ہر شے کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، جب تک روح باطن محفوظ ہے اگر ظاہری شکل و صورت میں کوئی عیب بھی آ جائے تو اس کی بھر پائی ممکن ہے لیکن اگر روح چلی جائے تو اس کی اصلیت و حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔
چنانچہ دین بھی اپنا ایک ظاہر رکھتا ہے اور باطن بھی، دین کا ظاہر، یہی اعمال ہیں جسے ہم سب انجام دیتے ہیں لیکن باطن اور اس کی روح، ایمان ہے جب تک قلب انسان نور ایمان سے آشنا نہیں ہوتا اس کے دل میں نور توحید نہیں چمکتا وہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی تاریک بڑے سے ہال میں بھٹک رہا ہو، لیکن جیسے ہی اس کے اندر نور ایمان آتا ہے وہ ایک ایسے ہال میں وارد ہوتا ہے جہاں ہر چیز روشن ہے۔ [11] لہذا ایک مرد با ایمان، خدا پر یقین رکھنے والا انسان خوشی و غم دونوں حالات میں روشن و منور میدانوں میں قدم رکھتا ہے اس کے لیے دنیا کی خوشی بھی معنی رکھتی ہے اور رنج و مصائب بھی، نہ وہ خوشیوں میں بہکتا ہے نہ ہی رنج و مصائب میں گمراہی کا شکار ہوتا ہے، چنانچہ قرآن اسے ”الذين يؤمنون بالغيب“ سے تعبیر کرتا ہے اور حضرت علی علیہ السلام خدا کی معرفت کو حاصل دین قرار دیتے ہیں جیسا کہ پہلے گذر چکا ہے۔ کہ دین کی ابتدا ہی عرفان الہی ہے اور اسی کی معرفت سب کچھ ہے۔
حقوق بشر کو توحید کا سہارا چاہیے:
دنیا مانے یا نہ مانے، اس دنیا میں کسی نہ کسی عنوان سے ایک خدا سب کے دل کی گہرائیوں میں بسا ہوا ہے اور خدائے واحد کا انکار کرنے والے اپنے انکار پر نہ کوئی دلیل دے پاتے ہیں نہ ہی عقل و خرد کو مطمئن کرپاتے ہیں مگر توحید پرست، خدائے واحد پر یقین رکھنے والے ہزار دلیلوں سے اپنے وجود پر اور لوگوں کے باطل و بیہودہ خیالات کی دنیا پر آج بھی راج کر رہے ہیں خود بھی مطمئن ہیں اور لا دین و لا مذہب، دہریت کو بھی دلائل و برہان کی روشنی میں چیلنج کرتے آئے ہیں، جو لوگ انسانیت کا دم بھرتے ہیں اور اپنے کاموں کو انسانیت کے نام پر ختم کرنا چاہتے ہیں وہ بھی ”حقوق بشر“، ”انسانی حقوق“ جیسے نعروں کے پیچھے سکون دل تلاشنے کے باوجود، اصل توحید کی چمک سے آنکھیں نہیں بند کر پاتے، راز کیا ہے؟ تو سنئے حقیقتا، خدا کی معرفت تنہا دین کی اساس ہی نہیں بلکہ انسانیت کی آبرو اور عزت بھی ہے کیونکہ یہ بلند بانگ نعرہ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب تک کہ توحید و یکتا پرستی اور ایک اللہ کی شناخت پر اسے کھڑا نہ کیا جائے، یہاں سوال ہے کہ انسانیت کیا ہے؟ اور حقوق انسانی کسے کہتے ہیں؟ جواب ملتا ہے۔
حقوق انسانی کی فہرست:
خلوص، مروت، نیکی و رحم دلی، صلح و امن، جنگ سے نفرت اور دوری، محرومین، بیماروں، زخمیوں اور پسماندہ افراد کی امداد، عفت و پاکدامنی، دوسروں کو تکلیف نہ پہنچانا، راہ زندگی میں تلاش و کوشش کرنا، ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کرنا، کسی کے حق پر ڈاکہ نہ ڈالنا اور تجاوز نہ کرنا ”حقوق انسانی“ کی طویل فہرست کا ایک حصہ ہے یہانتکہ اسی راہ میں جان و مال اور عزت بھی کام آجائے تو بڑی بات ہے۔
لیکن اگر اس مقام پر رک کر کوئی پوچھے کہ بتائیے ہم آخر کیوں یہ قربانیاں دیں؟ کیوں ہم اپنے ذاتی مفادات کو دوسرے پر قربان کر دیں؟ کیوں دوسروں کے فائدے کو اپنے مفادات پر مقدم کریں؟ ہم سختیوں اور مصیبتوں میں کیوں اپنے کو ڈال کر دوسروں کے لیے آسائش و آرام فراہم کریں؟ آخر اس کے پیچھے کیا فلسفہ ہے؟ کون سی منطق ہمیں مطمئن کر سکتی ہے؟ تو اگر اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے دل کو سکون ملتا ہے ہم اسے اچھا سمجھتے ہیں یہ سب معنوی چیزیں ہیں جس کا تعلق ہماری روح و جان سے ہے تو یہ جواب تشفی و تسلی کے لیے کافی نہیں ہو سکتا! جب تک درمیان میں خدا نہ آجائے کیونکہ زندگی میں خدا کی شناخت اس کی معرفت انسان کو ہر قسم کی قربانی کے لیے اپنے پیروں پر کھڑا کرتی ہے۔
دل کہتا ہے یہ محرومیت کیوں؟ اس لیے کہ خدا دیکھ رہا ہے وہ بدلہ دینے والا ہے وہ حاضر و ناظر ہے اس کی نگاہ میں بشر کی عزت ہے خدمت خلق کو وہ عبادت قرار دیتا ہے اس کا اجر دوگنا بلکہ دس گنا ہے لہذا انسانیت یا حقوق انسانی کی بنا و اساس بھی خدا شناسی ہے ۔انسانیت، خدا شناسی یعنی توحید سے جدا نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اگر جدا ہو جائے تو یہ انسان یا اپنی خواہشات کا غلام ہے یا پھر خدا کا بندہ ہے ان دو حالتوں سے خالی نہیں ہو سکتا اب اگر خدا کا بندہ نہیں ہے تو دنیا کا بڑے سے بڑا کام انسانیت کی ہر خدمت اس کی شہوت و خواہشات نفس کی راہ میں قربان ہوگی اور اگر توحید پرست ہے تو انسانیت کا بھرم باقی رہے گا اور یہی حقوق انسانی کا اعتبار ہے۔
یہاں کوئی تیسری راہ نہیں ہے۔ انسان یا بندہ نفس ہے یا پھر بندہ خدا ہے۔ اگر وہ بندہ نفس ہے تو پھر حیوانیت و درندگی ابھر کر سامنے آئے گی اور پھر کسی اخلاقی شرافت و عظمت کا کوئی بھرم باقی نہ رہے گا اور نہ ہی اس کا دعوی سچا مانا جائے گا لہذا خدا کی معرفت اور اس پر ایمان رکھے بغیر انسانیت کی خدمت محض ایک کھوکھلا نعرہ ہے جس کی روح (اسپرٹ) معدوم و ناموجود ہے۔
علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
الدنيا دار ممر لا دار مقر والناس فيها رجلان رجل باع نفسه فاوبقها و رجل ابتاع نفسه فاعتقها
یہ دنیا ایک وقتی گزرگاہ ہے اور یہاں بسنے والے دو طرح کےلوگ ہیں ایک وہ جس نے اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر لیا ایک وہ جس نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر لیا۔ [12] چنانچہ اپنے نفس کو خدا کے حوالے کر کے آزادی حاصل کر لینا ہی اصل انسانی زندگی ہے جس کی طرف امیر المومنین علی علیہ السلام اشارہ فرما رہے ہیں۔