Recommended articles
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
محبت علی علیہ السلام کے تقاضے “نہج البلاغہ کی روشنی میں”
July 30, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام پیکرِ عدالت
July 30, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سیرت امام علی میں آداب معاشرت کے چند اصول
July 30, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حضرت علی علیہ السلام کی عدالت
July 30, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام

حضرت علیؑ اور سیاست

July 29, 2026
0
0

تاریخی واقعات کی تحلیل کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
واقعات کے بعض اجزاء کی ایسی تحلیل، جن کی اہمیت فقط شخصی معلومات میں اضافے کا باعث ہو۔ اس طرح ان کا صحیح یا غلط ہو نا معاشر ے کیلئے منفعت بخش یا ضرر رسا ں نہیں ہو تا اور واقعہ کی حقیقت یا عدم حقیقت سے زیادہ اس کی اہمیت نہیں ہوتی۔
ایسے اہم واقعات کی تحلیل جن سے اجتماعی نتائج وابستہ ہوں۔اس قسم کے واقعات کی تحلیل آنکھیں بند کر کے نہیں کی جا سکتی۔ اس طرح شخصی مفاد کے تحت انکی تحریف کرنے والا، سماجی مجرم سمجھا جائیگا۔مثال کے طور پر سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والے واقعات جن سے عالمی معاشرہ متاثر ہوتا ہے،منادیان توحید یعنی پیغمبروں کے واقعات ہوتے ہیں۔ان بزرگوں کی تاریخ میں دھوکا فقط فردی نقصان کا باعث ہی نہیں ہوتا اور صحیح و غلط ہر طرح کے نتائج فقط اصل واقعہ کو ضرر نہیں پہنچاتے بلکہ کروڑوں انسان اس ایک ذرا سی غلطی کے باعث راہ حق سے بھٹک سکتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں اگر انسانی زندگی میں دین ومذہب کی اہمیت ہے تو اس سلسلے میں ان واقعات اور دینی رہبروں کی تاریخ میں اشتباہ یا دھوکا دھڑی ایک ایسا جرم ہے جس کے اثر ات کو ایک دوفرد پر قیاس نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس کے نقصانات لامحدود ہوتے ہیں۔مثلاً کوئی شخص ذاتی مفادات کے تحت یہ کہے کہ میں تاریخی تحلیل کی بنیاد پر کہ سکتا ہوں کہ حضرت موسیؑ وحضرت عیسیؑ کے درمیان بعض اختلافات تھے تو اس طرح اس شخص نے نہ صرف یہ کہ غلط بیانی سے کام لیتے ہو ئے ان بزرگ شخصیتوں پر الزام عائد کیا ہے بلکہ قوم یہودوقوم نصاری کے قابل احترام نبیوں پر تہمت لگا کر ان کے لاکھوں معتقد ین کی عقیدت سے کھلواڑ کیا ہے اور یوں اس نے انسانیت پر عظیم ترین ظلم کیاہے ۔
اسی طرح کا ایک اہم مسئلہ حضرت علی بن ابی طالبؑ  کی عادلانہ اور بے مثال سیاست کا ہے۔ بعض مسلمان اپنے روحانی مرض یا عقائد کی کھوٹ کی وجہ سے یہ کہ دیتے ہیں کہ حضرت علی (نعوذباللّٰہ)اچھے سیاستداں نہیں تھے اور اس نظر یے کے تحت ایک جعلی تاریخ گڑہ کر بعض صفحات سیاہ کرکے مغربی مورخین کے حوالے کردیتے ہیں۔ مغربی مورخین بھی بعض وجوہات کی بنا پر یا تو عدم علم کی وجہ سے یا جان بوجھ کر ایسے مزخرف صفحات کو دلیل بناکر تاریخ تیار کرلیتے ہیں اور پھر خودمسلمانوں کے درمیان واپس بھیج دیتے ہیں۔  نتیجے میں سادہ لوح مسلمان تحقیق و دقت نظری کے بغیر ان کو قبول بھی کرلیتے ہیں اور جب تاریخ بیان کر کے اس پر تبصرے کرنے لگیں تو سب سے پہلے یہی جھوٹ کا پلندہ پیش کردیتے ہیں کہ حضرت علیؑ بہادر اور متقی وپرہیزگار توتھے مگر(نعوذباللّٰہ ) ماہر سیاستداں نہیں تھے نیز یہ کہ اس سلسلے میں جو باتیں کہی گئی ہیں ان کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ان چند کلمات کے ذریعے اپنی اس گھٹیااور بے بنیاد تحقیق کو بیان کرتے ہیں اور پھر گوشہ نشیں ہو جاتے ہیں۔
اس قسم کے فیصلے اس وجہ سے سامنے آتے ہیں کہ حضرت علیؑ اور صدر اسلام کے واقعات وحادثات کا دقت نظری سے مطالعہ نہیں کیا گیا ہے نیز سیاست وسیاستداں ہونے کی حقیقت کو نہیں سمجھاگیا ہے۔
بہر حال اس قسم کی عمدی یا غیر عمدی غلطیوں کاازالہ کرنے کے لئے ان چند صفحات کو قید تحریر میں لا یا گیا ہے تاکہ ان کا مطالعہ کرنے والے ایک ایسی حقیقت سے آشنا ہو جائیں جس سے بشریت کی سرنوشت وابستہ ہے۔
سیاست کی تعریف
بہت سے دوسرے اہم ا لفاظ کی طرح سیاست کی تعریف بھی اختلاف نظرکا شکار ہے لیکن یہاں پر ان سب کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔فقط مندرجہ ذیل تین تعریفوں کا ذکر کافی ہے:
(1) ۔سیاست یعنی” انسان و حکومت اور معاشرے وحکومت کے درمیان رابطے سے آشنائی۔“ اس مختصر تعریف کو بعض مورخین اور اہل سیاست نے بیان کیا ہے لیکن جیسا کہ واضح ہے، یہ تعریف سیاست کی مکمل طور پر منظر کشی سے قاصر ہے کیونکہ اس میں دوسری قوموں اورحکومتوں نیز وہاں رہنے والے افراد سے تعلقات کا ذکر نہیں ہے۔ جبکہ اس قسم کے تعلقات وروابط بھی اچھی خاصی اہمیت کے حامل ہیں اور سیاست کا اہم حصہ ہیں، ان سب کے علاوہ اس تعریف کا سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں ایک خاص نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی گئی اور وہ یہ کہ اس تعریف میں قدرت وطاقت کا تذکرہ نہیں ہے۔ جب کہ یہ عنصر چونکہ مذکورہ روابط پر پوری طرح موٴثر ہوتا ہے لہذاسیاست کا جز ء لاینفک ہے۔
(2) ۔ارسطونے سیاست کی تعریف اس طرح کی ہے:
”ضروری ہے کہ ہر مجموعے کا اہم ترین موضوع سب سے اچھی نیکی قرارپائے اور اس کا نام حکومت وسیاست رکھاجائے۔ (السیاستہ لارسطو طا لیس ص /91 ک / اب / اف/ 1)
اسی طرح کا ایک جملہ صفحہ/ 212 ک/ 3ب/7ف/اپر بھی ملتاہے:
”تمام علوم وفنون کی غرض، خیر ونیکی ہے لہذا سب سے عمدہ نیکی کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کے در میا ن اہم ترین علم یعنی علم سیاست کا موضوع قرار پائے ۔“
یہ جملہ یونانی عبارت کا تیسرا ترجمہ ہے اور ممکن ہے کہ یونانی سے فرنچ زبان یافرنچ سے عربی زبان میں ترجمہ کئے جانے کی وجہ سے کچھ کمی بیشی ہوگئی ہو (اردو ترجمہ پانچواں شمار کیا جائیگا۔مترجم) لیکن پھر بھی جس مقدار میں ہمیں تعریف کی ضرورت ہے وہ یہاں پر واضح ہے۔ لہذا ارسطوکے نظریے کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:” سیاست سے مراد بہترین نیکی کی طرف قدم بڑھانے کے لئے مجموعوں اور گروہوں کے رابطے کی تائید ، تغییر یا پھر ان کا ایجاد کرناہے۔
(3)۔سیاست کی تیسری تعریف ایسی ہے جو عوام الناس کے درمیان غیر مانوس ہو نے کے ساتھ ساتھ مذہبی حلقے میں ناپسندیدہ اور قابل نفرت ہے۔اس کے مطابق سیاست کی تعریف یہ ہے:
” سیاسی افراد کے ذریعے ہدف کا معین کیا جا نا اور اسے ہر طرح سے حاصل کر نے کی سعی و کوشش“
اس تعریف میں نیکی وسعادت وغیرہ کا بالکل ذکر نہیں ہے بلکہ اس میں در اصل انسانیت ہی کا عمل دخل نہیں دکھائی دیتا۔اس تعریف کو بنیاد بنا کر کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح ایسے وحشی درندے جو حصو ل اقتدار کی خاطر ہر طرح کا فعل درست سمجھتے ہیں،سیا ستداں کھلائیں گے۔
حضرت علیؑ کی سیاست
گزشتہ وضاحت کے ذیل میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حقیقت کے متلاشی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر سیاست سے مراد وہ ہے جسکو تیسری تعریف کے طور پر بیان کیا گیا ہے نیز جس کی تشریح اوسولڈ اشپینگلرنے کی ہے تو یقین جانئے حضرت علی ایسی سیاست سے پوری طرح واقف تو تھے مگر اس پر عمل پیرا نہ تھے چونکہ حضرت علیؑ انسان کی حقیقت اورمقام و منزلت سے مکمل طور پر آگاہی رکھتے تھے لہذا یہ ممکن نہیں ہے کہ چند روزہ فتح وظفر کی خاطر ایسے غیر انسانی امور کو انجام دیتے۔ وہ علی جو ایک حقیر سی چیو نٹی کی بے ضرر اور محترم زند گی کو پو ری دنیا کی حکو مت پر مقد م قرا ردے۔ وہ علیؑ  جس کی توجہ جنگ میں تلواروں کی جھنکا ر کے در میان بھی اس با ت کی طرف ہو کہ کسی کا نا حق خو ن نہ بہہ جا ئے۔
بہت بڑی بھو ل ہو گی اگر ایسی ہستی کو خونخوا روں اور ظالمو ں کے گر وہ میں تلا ش کیا جائے۔ یہ شخص تو کا روا ن تو حید کے رہبروں میں ملے گا۔ ہا ں! بلا شبہ حضرت علیؑ  ، خلیل خدا ابر اہیم یا جنا ب مو سی وجنا ب عیسی علیہم السلام جیسے با و قا ر بند گا ن خدا، نمرو د، چنگیز خا ن اور نیپو لین وغیر ہ سے کو ئی شبا ہت نہیں رکھتے۔ یہ بز ر گا ن عا لم ایک عا م انسان پر بھی حکو مت نہ ر کھنے کے با و جو د پو ری دنیا کو اپنے حیطۂ اقتدا ر میں لا کر ہر طر ح کے مظا لم ڈھا نے وا لے چنگیز وں کے مقا بل زیا دہ با اقتدا ر و با اختیا ر نظر آتے ہیں۔
اگر حقیقی سیا ست کو مد نظر رکھا جا ئے تو حضرت علیؑ  اس میدا ن کے شہسو ار نظر آئیں گے بشر طیکہ اس نکتے کی طرف تو جہ رہے کہ چند روز ہ زند گی کی فتح وظفر اور جسمو ں پر حکو مت سے کہیں بہتر ایسی فتح وظفر اور دلوں کی حکمرا نی ہے جو ہمیشگی اور ابدیت رکھتی ہو کیو نکہ زور زبر دستی سے وقتی طو ر پر حا صل ہو نے وا لی سلطنت اس خو فنا ک خو اب کے ما نند ہو تی ہے جو کچہ دیر کے لئے سو نے وا لے کو ڈرا کر ختم ہو جا ئے اور انسا ن بھی بیدا ر ہو کر دو با رہ اپنے امور ز ند گی میں لگ جا ئے۔
آج تک وحد انیت کے علمبر دارو ں کا نو رانی وجو د لو گو ں کے ذہنو ں پر حکو مت کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ گمراہ تر ین آدمی بھی یہ کہنے کی جرا ٴت نہیں رکھتا کہ جنا ب ابرا ہیمؑ جناب عیسیؑ و جناب مو سیؑ(العیا ذباللّٰہ) اس روئے زمین پر تبا ہی پھیلا نے وا لو ں میں سے تھے۔ جبکہ صورت حا ل یہ ہے کہ اگر کسی سیاستداں کا خیال ذہن میں آجا ئے تو ایک دنیا پر ست اور نا پسند ید ہ آدمی کا تصور پیدا ہو جا تا ہے۔
سو لڈ اشپینگلر کے اس بیا ن کا بھی مطا لعہ کر لیں:
”سیا ست کا سب سے پہلا مسئلہ، شخصیت کو ثا بت کر نا ہو تا ہے۔ دو سر ا مسئلہ اگر چہ ظا ہر نہیں ہو تا لیکن بہت مشکل ہو تا ہے اور اس کے اثرات و نتا ئج بھی د یر پا ہو تےہیں۔ وہ روش اور طر یقہ ٴ کا رکوبروئے کارلا نے اور اسے ہمیشہ بر قرا ر رکھنے کا ہو تا ہے۔ ایک سیا ستد اں کے لئے ضرو ری ہو تا ہے کہ اس طر ح سے دو سروں پر تسلط اختیا ر کر ے کہ اس کی روش کو وہ لو گ بھی اختیا ر کر کے اسی کے حو صلو ں اور جذ بو ں کے سا تھ تما م کا م انجام د یں۔ اس کی ذ مہ داری ہے کہ بعض و ظا ئف کے لئے ایسے ما حو ل اور حا لات پیدا کر دے جن کی بقا کے لئے اس کی مو جو د گی ضرو ری نہ ہو ۔ عصر قد یم میں اگر اس مر حلے میں کو ئی سیاسی راہنما کا میاب ہو جا تا تھا تو اسے خدا کی خاص عنا یت شما ر کیا جا تا تھا۔ اس طرح وہ نئی زند گی کا مو جد اور جد ید تصورات کا با نی قرار پا تا تھا۔ یہ انسان، بشر ی پیکر میں ہو نے کی و جہ سے چند سا لو ں کے بعد اس کارگا ہ ہستی سے رخت سفر با ند ہ لیتا ہے لیکن اس کے مکتب کی پر وردہ کچھ شخصیتیں اس کی را ہ وروش کو جا ری رکھ کر اس کو ایک لمبے عر صے کی حیا ت عطا کر د یتے ہیں۔ معاشر ے کو ایک خاص قسم کی سیاسی نہج پر ہمیشہ کے لئے گا مزن کر دینا، صرف ایک ہی شخص کا تنہا کا م کہلا تا ہے اور اس کی نہج کے نقو ش، تا ر یخ بن کر اس معا شر ے پر چھا جا تے ہیں۔ اس وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ ایک اہم اور بڑ ا سیا ست دا ں، نادر ا لو جو د ہو تا ہے۔
( فلسفۂ سیا ست : او سو لڈ اشپینگلر ص/ 43 )
یہ بیان کسی قسم کی و ضا حت کا محتا ج نہیں ہے۔اچھی طرح سے اس کا مطا لعہ فر ما ئیے اور ہر طر ح کی تقلید یا ہو ا وہو س کے بغیر گز شتہ صفحا ت میں ذکر شد ہ دو طر ح کے سیا ستدا نو ں پر اسے تطبیق دیجئے۔ غو ر کیجئے کیا یہ حقا ئق ایک عا م قسم کے سیا ستدا ں پر منطبق ہوتے ہیں یا پھر حضرت علیؑ پر۔
میں یہاں پرگزشتہ جملوں میں سے بعض کی تشر یح کر تے ہو ئے چا ہو ں گا کہ قا ر ئین محتر م کے ا فکا ر سے مددحا صل کر و ں تا کہ مغا لطے اور دہو کہ دھڑی میں پھنسے ہو ئے بعض سا دہ لو ح افراد کو راہ نجات مل سکے اشپینگلرکے بیان میں یہ جملہ تھا کہ ”سیاست کا سب سے پہلا مسئلہ شخصیت کو ثابت کرنا ہوتا ہے“ یہاں پریہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ عمرو بن عاص کی شخصیت کے با رے میں کیا کہا جا ئے گا جو جا ن بچا نے کے چکر میں بر ہنہ ہو جا نے اور ایک مرد کے مقا بلے میں زنانہ اندا ز اختیا ر کر نے تک کو قبو ل کر لے! اسی طرح معا ویہ کا مسلما نو ں کے رئیس کو قتل کر نے کی خاطر ایک اجنبی شخص کا کا ند ھا استعما ل کرنا  کس طرح ایک اچھی شخصیت کو ثابت کر سکتا ہے۔کیا پانی پر پابندی، وہ بھی ایسے حالات میں جبکہ دشمن پیاس سے ہلاک ہو رہے ہوں ، شخصیت کو نکھارنے کا طریقہ سمجھا جائےگا؟
اس کے علا وہ ، اشپینگلرکا بیان ہے : ” حقیقی سیا ستد ا ں وہ ہے جو اپنی با طنی قو ت کو بر وئے کا ر لا کر غیر محدو د زمانے پر اپنے نقوش ثبت کر دے۔ “ ہر ایک جا نتا ہے کہ حضرت امیر المو منینؑ  اول ز ندگی اور رسا لت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد اقلیتی گر وہ میں شما ر کئے جا تے تھے۔ اس کا سبب عا م لو گو ں کا آپ کے نظر یا ت سے اختلاف وگر یز تھا لیکن اس کے با وجو د ر فتہ رفتہ آپ نے تمام د نیا کو اپنی رو حا نیت ، حکمت اور حکیما نہ روش کا گر وید ہ بنا لیاتھا۔
ہم جا نتے ہیں کہ عصر پیغمبر میں اسلام پوری طر ح سے عا لم شبا ب پر تھا اور اس دور کے مسلما نوں میں مکمل طو ر پر حرارت ایمانی پائی جا تی تھی لیکن یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ آنحضرت کے بعد ایسی باد خزاں چلی کہ جس نے اسلام کے سر سبز با غ کو و یر انہ بنا دیا اور ایسا سر دو یخ زدہ ما حول پیدا ہو ا جس سے پورے ما حول پر ایک قسم کا جمود سا طاری ہو گیا۔ یہی نہیں بلکہ ظلم وستم کی ایسی بجلی گر ی جس نے پو رے اسلام کے آشیا نے کو جلا کر خا کستر کر دیا اور پھر اس کے بعد ہر طرف ریا ست طلبی وشہو ت پر ستی کا ایسا بازار گر م ہو ا جس کے بیان سے قلم لرز تا ہے۔ ان سب کے با و جو د کیا یہ حضرت علیؑ کی سیاست کا طرئہ ا متیا ز نہ تھا کہ ایسے پر آشو ب ما حول میں بھی کچہ اس طرح اپنی شخصیت کو ثا بت کیا کہ کچھ ہی عر صے بعد مختصر سے پیرو کا رو ں کا گر وہ، کر وڑو ں جا نثا ر وعا شق افراد میں تبد یل ہو گیا۔  یہاں پر جو چیز سب سے ز یا دہ اہمیت کی حا مل ہے ، اس کی طرف اشپنیگلر نے یو ں تو جہ دلا ئی ہے:
”ایک با غباں کا کام یہ ہو تا ہے کہ وہ بیج بو کر اس کی پر ورش وا صلا ح کرے ۔اسی طرح وہ چا ہے تو پو دے ، درخت بننے سے پہلے ہی خشک ہو کر ضائع ہو جا ئیں۔اس کے اندر یہ صلا حیت ہو تی ہے کہ ایسی فضا مہیا کر ے جو پھل و پھول کی پو شیدہ خاصیتوں اور اس کی شکل ور نگت پر موٴثر ہو ۔ یہ سب کا م اور اس طرح کے تمام خصوصیات کمی وبیشی کے اعتبار سے با غباں کی بصیر ت اور سمجھ بو جہ پر منحصر ہو تے ہیں لیکن اصل شکل وصورت ، اس کا مستقبل ، اس کا ر شد ، پھل کی قسم و غیرہ با غبا ن کے د ست قدرت سے خا رج ہیں بلکہ یہ سب اس درخت کی طبیعت میں شا مل ہیں۔“
اگر شہو ت پرست اور مخا لف د ین افراد یہ نہ چا ہیں کہ آئین انسا نیت کو سمجھ کر اس کی رو شنی میں ز ند گی گزا ریں تو ایک سیاستداں کی غلطی کیا ہو سکتی ہے؟ اگر کو ئی حیو ان صفت انسا ن فقط ما ل ودو لت اور جاہ و مقا م ہی کو انسا نی اقدار شمار کرے تو ایک سیاسی رہبر کیا کر سکتا ہے جبکہ وہ عظیم شخص عوا م الناس کی ثر وت کا محا فظ ہو نے اور حسا ب وکتا ب میں پو ری دقت سے کام لینے کی وجہ سے ہر شخص کو اسی مقدار میں بیت المال سے عطا کر ے جس مقدار میں اس کی سما جی خدمات کا تقا ضاہو ۔
کیا کسی کو تاہ نظر کو حضرت علیؑ کے وہ د ستور ا لعمل، جو آپ نے ما لک اشتر کو حا کم مصر بنا کر بھیجتے وقت بیان فر مائے تھے اور جو آپ کی سیاست کا شا ہکا ر سمجھے جا تے ہیں، کے علاوہ بھی کسی اور دلیل کی ضرورت ہے ۔
وہ لو گ جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت علیؑ اچھے سیاستداں نہیں تھے، ان کا مقصود نظر ہمارے لئے پو ری طرح واضح ہے ، وضا حت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطا بق حضرت علیؑ کے بارے میں یہ کہنا تو ٹھیک ہے کہ آپ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے وز یر تھے اور عمرو بن عبد ود اور مر حب جیسے شقی القلب وخو نریز دشمنو ں کے مقا بلے میں ڈٹے رہے لیکن آپ کی سیا ست کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے سیا سی میدا ن میں ( العیا ذباللّٰہ ) احتیا ط سے کام نہیں لیا کیوں کہ آپ منجی بشریت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم کی ز ند گی کو بچا نے کے لئے آنحضرت کے بستر پر سوگئے۔ اگر دشمن کا میاب ہو جا تے اور شمشیر یں آپ کے ٹکڑے ٹکڑ ے کر دیتیں تو آپ اپنی جا ن سے ہا تھ دھو بیٹھتے۔ ان کے بقو ل یہ با ت سیاست کے خلا ف ہے کہ قدرت وطا قت اور جا نثارو ں کے با و جو د حضرت علیؑ نے اپنا حق حاصل کر نے کے لئے قیا م نہیں کیا۔ لو گو ں کا کیا ہے وہ تو آخر کا ر یا کفر اختیا ر کرتے یا پھر ایما ن پر با قی رہتے۔ اس کی کیا اہمیت ہے؟ اسلا م کی حفا ظت نیز مسلمانوں کے جہالت کی طرف پلٹ جا نے کے خو ف سے حضرت علی (ع) کا خانہ نشیں ہو جانا، (نعو ذباللّٰہ ) آپ کی غیر سیاسی بصیرت کا نتیجہ تھا۔ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ یہ سادہ لوحی ہے کہ انسان حصول ریا ست کی خاطر طاقتو ر اشخاص سے دست وگر یباں ہو جائے اور نتیجے میں اپنی کمزوری کو سب پر ثابت کر دے۔حضرت علیؑ کے لئے یہ ضروری تھا کہ معاویہ جیسے خونخوار و سفاک کواس کے منصب پر باقی رکھتے کیوں کہ چند سالوں کے لئے ظلم بر دا شت کر لینے اور اسلامی جا ہ و جلا ل کو گروی رکھ دینے سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہو تا۔ ان افراد کے مطا بق یہ حضرت علیؑ کی بد احتیاطی تھی کہ آپ نے اپنے جانی دشمنوں کو نہرسے پانی لینے کی اجازت دے دی اور کسی قسم کی پا بند ی نہیں لگائی۔ اگر آپ سیاستداں ہو تے تو ہزا رو ں انسا نو ں بلکہ خدا کے بندو ں کو پیاس سے ہلا ک کر دیتے تا کہ آپ کی حکو مت کا میدان فراہم ہو جا تا۔
حقیقت میں یہ وہ افراد ہیں جو امام علی علیہ السلام کی معرفت سے نا آشنا ہیں انہیں نہیں معلوم کہ امام منصوب من اللہ ہیں آپ وہ کام اور عمل کرتے ہیں جس میں مشیت و رضا الیی ہوتی ہے۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
محبت علی علیہ السلام کے تقاضے “نہج البلاغہ کی روشنی میں”
July 30, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام پیکرِ عدالت
July 30, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
سیرت امام علی میں آداب معاشرت کے چند اصول
July 30, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علیؑ کی شہادت کے پیچھے کار فرما عوامل
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)32
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions