Recommended articles
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
حضرت امام حسن علیہ السلام کی حیات طیبہ کا اجمالی جائزہ
July 31, 2026
0
0
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
حضرت امام حسن علیہ السلام کی پرورش اور آپ کا صلح کرنا
July 31, 2026
0
0
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
سیرت امام حسنِ مجتبیٰ علیہ السلام
July 31, 2026
0
0
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
امام حسن علیہ السلام کی سیرت کی کچھ جھلکیاں
July 31, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
علوم قرآن

قرآن کی شناخت قرآن کی روشنی میں

July 23, 2026
0
0

قرآن کریم کے متعلق سب سے پہلا سوال جو انسان کے ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا قرآن کی شناخت اور پہچان ممکن ہے یا نہیں؟
بے شک قرآن کریم کی آیات میں غور فکر اس وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب ہمیں اس مقد س کتاب کی معرفت اور شناخت حاصل ہو، چونکہ جب کسی چیز کے فائدے کے متعلق یقین حاصل نہ ہو اسکے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ لہٰذا ہمیں جب تک قرآن کریم کی صحیح پہچان نہ ہو تواسکی آیات میں غور فکر نہیں کیا جا سکتا۔ اب قرآن کی معرفت کے لیے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ قرآن ہے کیا؟اب اس سوال کا جواب ہم نكات میں یوں بیان کر سکتے ہیں:
1۔ قرآن عربی لغت میں:
عربی لغت میں قرآن ، قرائت کے مترادف اور ہم معنی ہے لہٰذا قرآن سے مراد پڑھنے کی کتاب ہے اور قرآن مجید میں بھی لفظ قرآن اسی معنی میں آیا ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے پس جب ہم اسے پڑھ چکیں تو پھر آپ (بھی) اسی طرح پڑھاکریں
(فِاذا قرءناه فاتبِع قرآنه )۔(1)
پس جب ہم اسے پڑھ چکے تو پھر آپ (بھی) اسی طرح پڑھاکریں۔
لیکن شریعت کی نگاہ میں قرآن اللہ تعالیٰ کا وہ معجزہ ہے جسے جبرائیل کے واسطے پیغمبر اکرم (ص)پر اتارا ہے اور ہمیں اس کو پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
چنانچہ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتاہے:
(فاقروا ما تیسر مِن القران)۔(2)
ترجمہ: تم جتنا آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو
(او زِد علیہِ و رتِلِ القران ترتِیلاً)۔(3)
یا اس پر کچھ بڑھا دیجئے اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کیجیے ۔
پس ان قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پردگار عالم نے ہمیں اس کتاب کو باربار پڑھنے کا حکم دیا ہے۔
٢۔ قرآن تمام لوگوں کو ہدایت کرتا ہے:
جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسلام کو تمام لوگوں کے لیے پسندیدہ دین قرار دیا اور ہمارے نبی حضرت محمد (ص) کو دونوں جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا اسی طرح قرآن مجید کو تمام لوگوں کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے لہٰذا قرآن مجید کی پاکیزہ تعلیمات کسی خاص گروہ یا فرد کے ساتھ مختص نہیں کیا گیا ہے۔اور اس بات پربہترین دلیل خود قرآنی آیت ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:
( و ما هو ا ِلا ذِکر لِلعالمِین)۔ (4)
حالانکہ یہ قرآن عالمین کے لئے نصیحت ہے اور بس۔
(قل ای شئی اکبر شهاد ة قلِ اللّٰه شهید بینیِ و بینکم۔ و اوحِی ا ِلی هذا القران لیِنذِرکم بِه و من بلغ)۔ (5)
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ گواہی کے لئے سب سے بڑی چیز کیا ہے اور بتادیجئے کہ خدا ہمارے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف اس قرآن کی وحی کی گئی ہے تاکہ اس کے ذریعہ میں تمہیں اور جہاں تک یہ پیغام پہنچے سب کو ڈرائیں۔

پس ان آیات سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن ان تمام لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے جن جن تک قرآن کا پیغام پہنچ جائے۔
٣۔ قرآن میں ہر چیز کا علم پایا جاتا ہے ۔
البتہ اس بات کو سمجھنے اور اس پر یقین حاصل کرنے کے لیے ہمیں سب سے پہلے قرآن مجید کے مختلف درجات اور مراتب کو سمجھنے کی ضرورت ہے لہٰذا ہمیں اس بات پر غور کرنے سے پہلے قرآن کے مختلف مراتب اور درجات سے آشنا ہونے اور اسے پہچاننے کی ضرورت ہے اور قرآن مجید کے مختلف درجات سے آشنائی حاصل کرنے کا بہترین راہ خود قرآنی آیات میں غور فکر کرنا ہے اور قرآن کریم نے اپنے مختلف آیتوں میں قرآن کے مختلف درجات کی طرف واضح اشار ہ دیا ہے لہٰذا ہم اس بات کو چند نکات کے ضمن میں یوں بیان کرتے ہیں۔
پہلا نکتہ: سب سے پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اور اسی طرح اہل بیت اطہار علیہم السلام کے نورانی فرامین میں بھی اسی نکتے پر تاکید کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں ہر چیز کا علم پایا جاتا ہے چنانچہ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے:
( و نزلنا علیک الِکتاب تِبینا لکِلِ شی ۔۔۔۔)۔(6)
ترجمہ ۔اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس میں ہر شی کی وضاحت موجود ہے۔
(ا ِنا نحن نحیِ الموتیٰ و نکتب ما قدموا و آثارهم و کل شی احصیناه فی ِامام مبین)۔ (7)
ترجمہ ۔ ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو کچھ وہ آگے بھیج چکے ہیں اور جو آثار پیچھے چھوڑ جاتے ہیں سب کو ہم لکھتے ہیں اور ہر چیز کو ہم نے ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔
(اس آیت مبارکہ میں امام مبین سے مراد تمام مفسرین کی متفقہ رائے کے مطابق قرآن کریم ہے )اسی طرح پیغمبر گرامی اسلام کا ارشاد گرامی ہے:
من اراد علم الاولین والآخرین فلیقراء القرآن۔ (8)
اگر کوئی شخص اولین وآخرین کے علم سے آشنا ہونا چاہتا ہے تو قرآن پڑھو ۔
البتہ اولین وآخرین سے مراد پورے کائنات کا علم مراد ہے اور پورے کائنات کے علم سے اس وقت آشنائی حاصل کرسکتا ہے کہ جب قرآن میں پوری کائنات کے ہر چیز کے متعلق علم موجود ہو۔
پس ان نورانی آیات اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں ہر چیز یا ہر چیز کا علم پایا جاتا ہے۔
دوسرا نکتہ: لیکن اس بات کو سمجھنے اور اس پر ایمان لے آنے کے لیے ہمیں قرآن مجید کے متعدد ناموں میں سے دو ناموں (قرآن)،( کتاب)کے درمیان فرق معلوم کرنے کی ضرورت ہے ۔چونکہ قرآن مجید کی بعض آیات مبارکہ میں اپنے آپ کو قرآن کے نام سے پکارا ہے تو بعض دیگر نورانی آیات میں کتاب کہا گیا ہے۔
تیسرا نکتہ: لفظ قرآن کا مطلب۔
قرآن مجید کےجس آیت میں لفظ قرآن آیا ہے تو کلمہ قرآن سے قرآن مجید کے الفاظ؛ حروف؛ کلمات؛ جملات اور عربی عبارات مراد ہوتی ہے جسے ہر شخص جو عربی لغت سے آشنا ہوخواہ وہ مومنین ہویا کافر؛ بچہ ہو یا عمر رسیدہ شخص، ہر ایک اسے پڑھ سکتا ہے؛ لکھ سکتا ہے؛ سن سکتا ہے؛ سمجھ سکتا ہے اور چھو بھی سکتاہے۔ جسے روایات میں ظاہر قرآن سے تعبیبر کیا جاتا ہے جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ سے روایت ہے آنحضرت(ص) فرماتے ہیں :
ماانزل اللّٰه عزّوجل آیة لاّ ولها ظهرُ وبطن ۔۔۔۔(9)
ترجمہ: پروردگار عالم نے کوئی آیت نہیں اتاری سوائے اسکے کہ اسکے لیے کچھ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ۔۔۔۔۔۔

جبکہ باطن قرآن سے مراد قرآن کریم کا وہ مرتبہ ہے وہ معارف قرآنی او حقائق اورلطائف مراد ہے ؛ جسے سوائے پاکیزہ لوگو ں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا( لا یمسه اِلا المطهرون)۔ (10)
ترجمہ: جسے صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں یعنی ان حقائق کو سوائے انبیاء او ر اولیاء کے کوئی عام شخص نہیں سمجھ سکتا یا درک نہیں کرسکتا۔البتہ بہت ساری احادیث میں قرآن کریم کے مختلف درجات اور مراتب کی طرف اشارے پائے جاتے ہیں ؛جیسا کہ امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
( کتابُ اللّٰه ِعزّوجل علی اربعةِ اشیاء علی العبارةِ والاشارةِواللطائف والحقائق فالعبارةُ للعوام ؛والاشارة للخواص ؛واللطائف للاولیاء والحقائق للانبیاء)۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی لا ریب کتاب کو چار چیزوں پر مشتمل اتارا ہے؛ ظاہری عبارت، اشارے، لطائف اور حقائق۔ ان میں سے(ظاہری عربی)عبارت عام لوگوں کے لیے اور اشارے خواص یعنی چیدہ چیدہ بندوں کے لیے اور دقیق نکات اولیاء کے ساتھ مختص جبکہ حقائق تک رسائی صرف انبیاء و آئمہ کے لیے ممکن ہے اورلطائف اور حقائق سے مراد باطن قرآن ہے ۔
نکتہ چہارم: لفظ کتاب سے مراد
گذشتہ روایات اور بعض قرآنی آیات سے معلوم ہوا کہ قرآن ایک ہے لیکن اسکے چند متفاوت درجات اور مراتب ہیں؛ ہر شخص اپنی استعداد ؛قابلیت اور ظرفیت کے اعتبار سے قرآن کریم کو سمجھ سکتا ہے اور قرآنی معارف سے آشنا ہوسکتا ہے اور قرآن کا آخری مرتبہ وہ حقائق اور لطائف ہیں جسے صرف اللہ کے مقرب ترین بندے یعنی اولیاء اور انبیاء چھو سکتے ہیں اور اس حقیقت کو قرآن مجیدسورہ واقعہ کی آیت نمبر ٧٧ ،٧٨ اور ٧٩ میں اس طرح بیان کرتا ہے :
( ِانه لقران کرِیم)ترجمہ: کہ یہ قرآن یقینا ًبڑی تکریم والا ہے۔
یعنی دنیا و آخرت دونوں کی سعادت دینے والی کتاب ہے ۔
(فِی کِتاب مکنون)ترجمہ: جو ایک محفوظ کتاب میں ہے۔
یعنی یہ قرآن لوح محفوظ میں ہر قسم کی تبدیلی اور تغیر سے محفوظ ہے چنانچہ کسی دوسری آیت میں کتاب مکنون کو لوح محفوظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
(بل هو قرآن مجِید فِی لوح محفوظ)۔(11)
ترجمہ: یقیناً یہ بزرگ و برتر قرآن ہے جسے لوح محفوظ میں محفوظ کیا گیا ہے۔
(لا یمسہ ا ِلا المطہرون)۔(12)
ترجمہ : جسے صرف پاکیزہ لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔یہ صفت ہے کتاب مکنون کی جسے مطہرون کے کوئی اور نہیں چھو سکتااور مطہرون سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے نفسوں کو پروردگار عالم نے ہر قسم کے رجس اور برائیوں سے پاک رکھا ہے جیسے ملائکہ اور بشر میں وہ لوگ جن کی شان میں آیت تطہیر نازل ہوئی۔
نکتہ پنجم: کتاب کی خصوصیات
قرآن مجید کی متعدد آیات میں اس کتاب کی مختلف خصوصیات کی طرف اشارہ ہواہے۔
(1)۔ہر چیز کا علم اس میں موجود ہے ۔
قرآن کریم کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پاکیزہ کتاب میں ،اس کائنات میں موجود ہر شئی خواہ وہ چھوٹے سے چھوٹے ذرات کی شکل میں ہو یا بڑے سے بڑے کہکشانوں کی شکل میں ،وجود مادی یا مجرد ،انسان کے ساتھ اسکا ارتباط ہو یا دیگر کسی اور مخلوقات کے ساتھ اسکا تعلق ہو۔
غرض یہ جو کچھ اس کائنات میں آیا ہے اور ابھی موجود ہے یا مستقبل میں وجود میں آنے والا ہے ہر چیز اس کتاب میں پایا جاتا ہے :چنانچہ اس بارے ارشاد ہوتا ہے:
( و ما مِن دابة فِی الارضِ و لا طٰئیرِ یطِیر بجِناحیه اِلا اممٌ ا مثالکم ما فرطنا فِی الکِتابِ مِن شی ثم ِ الی ربهم یحشرون)۔ ( 13)
اور زمین میں کوئی بھی رینگنے والا یا دونوں پروں سے پرواز کرنے والا طائر ایسا نہیں ہے جو اپنی جگہ پر تمہاری طرح کی جماعت نہ رکھتا ہو -ہم نے کتاب میں کسی شے کے بیان میں کوئی کمی نہیں کی ہے۔ اس کے بعد سب اپنے پروردگار کی بارگاہ میں پیش ہوں گے۔
(لا یعزب عنه مِثقال ذرة فِی السماواتِ و لا فِی الارضِ و لاا صغر مِن ذالِک و لااکبر اِلا فِی کِتاب مبِین)۔(14)
ترجمہ : آسمانوں اور زمین میں ذرہ برابر بھی (کوئی چیز) اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور نہ ذرے سے چھوٹی چیز اور نہ اس سے بڑی مگر یہ کہ سب کچھ کتاب مبین میں ثبت ہے۔
(2)۔اسکا مرتبہ بہت بلند ہے:
کتاب کی دوسری خصوصیت یہ ہے کا اسکا مرتبہ انتہای بلند وبالا ہے :چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے :
(و ِانه فی امِ الِکتابِ لدینا لعلِی حکیم )اور بلاشبہ یہ مرکزی کتاب (لوح محفوظ)میں ہمارے پاس برتر، پرحکمت ہے۔
اسی طرح ایک اور مقام پر قرآن کریم کے ان دونو ں مرتبے کو بیان کیا گیاہے :
(انا جعلناه قرآنا عربِیا لعلکم تعقِلون و ِانه فِی امِ الِکتابِ لدینا لعلِی حِکیم)۔ (15)
ترجمہ : بیشک ہم نے اسے عربی قرآن قرار دیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو اور یہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں نہایت درجہ بلند اورپراز حکمت کتاب ہے۔
پس ان تمام قرآنی آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کو پہچاننے کا لازمہ یہ کہ ہم قرآن کے مراتب اور درجات کو مان لیں اور اس پر ایمان لے آئے اور یہ بھی جان لے کہ اللہ کے مقرب بندے انبیاء اور اولیاء جنہیں حقائق قرآن سے آشنائی ہے وہ حقائق عالم سے باخبر ہوتے ہیں، چنانچہ صادق آل محمد (ع)سے روایت ہے آپؑ فرماتے ہیں :
(اعلم ما کان وما هو کائن ،ای یوم القیامة کل ذلک من کتاب اللّٰه)۔(16)
ترجمہ : جو کچھ اس کائنات میں واقع ہوا ہے اور آئندہ قیامت تک جو کچھ واقع ہونے والا ہے میں ان سب کو اللہ کی کتاب سے جانتا ہوں ۔
چونکہ خود قرآن نے کہا ہے 🙁و لو ان قرآنا سیرِت بِه الجِبال و قطِعت بِه الارض و کلِم بِہِ الموتی، بل لِلّٰه الامر جمِیعا )۔(17)
ترجمہ: اور اگر کوئی قرآن ایسا ہو جس سے پہاڑوں کو اپنی جگہ سے چلایا جاسکے یا زمین طے کی جاسکے یا مردوں سے کلام کیا جاسکے تو وہ یہی قرآن ہے۔
اسی طرح قرآن کہتا ہے:
(و کل شی احصیناه فی ِامام مبین)۔ (18)
ترجمہ : اور ہر چیز کو ہم نے ایک امام مبین میں جمع کر دیا ہے۔
پس معلوم ہوا کہ قرآن میں ہر چیز کا علم موجود ہے اور جسے کُل قرآن (قرآن کے تمام مراتب ) کا علم حاصل ہو اسکے علم کی مقدار بھی اتنا ہی ہوگا ۔،

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
حضرت امام حسن علیہ السلام کی پرورش اور آپ کا صلح کرنا
July 31, 2026
0
0
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
سیرت امام حسنِ مجتبیٰ علیہ السلام
July 31, 2026
0
0
الإمام الحسن بن علي المجتبى عليه السلام
امام حسن علیہ السلام کی سیرت کی کچھ جھلکیاں
July 31, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
علوم قرآن
قرآن مجید، مکمل نظام زندگی
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions