Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

جناب زینب سلام اللہ علیھا کی بیٹی کی شادی یزید ملعون سے ہوئی کیا؟

July 22, 2026
0
0

 اولا بیٹی کا نام نہیں
دوسرا عبد اللہ بن جعفر بھی نہیں لکھا

عبداللہ تو بہت ہیں
تاریخ میں ملتا یہ راس والی روایت ھند بنت عبداللہ ہے
ھند بنت عبداللہ کون ہے؟

 عبداللہ بن عامر
ناکہ عبد اللہ بن جعفر

ہمارے نزدیک بنت عبداللہ بن جعفر سے شادی ثابت نہیں

مگر اھل سنت نے لکھا ہے

 ام محمد بنت عبد اللہ بن جعفر
سند سے ہٹ کر
دیکھے
یہ جناب زینب کی بیٹی نہیں
بلکہ لیلیٰ بنت مسعود بن خالد کی بیٹی تھی
یہ ہند دراصل فاختہ بنت عبد اللہ بن عامر ہیں، جن کی کنیت امِ کلثوم تھی۔
​ابنِ عساکر کہتے ہیں:
​”فاختہ بنت عبد اللہ بن عامر بن کریز، ام کلثوم العبشمیہ، یزید بن معاویہ کی زوجہ تھیں۔ وہ دمشق میں اس کے پاس تھیں اور یزید نے ان کے بارے میں اشعار بھی کہے۔ جب حسین بن علی (ع) شہید ہوئے تو انہوں نے اس قتل کو بہت بڑا گناہ جانا اور ان پر ماتم برپا کیا۔” (تاریخ دمشق: 70/ 4)
​انہوں نے یہ بھی لکھا:
​”ہند بنت عبد اللہ بن عامر بن کریز، یزید بن معاویہ کی زوجہ، مقتلِ حسین کے حديث میں ان کا ذکر آیا ہے۔” (تاریخ دمشق: 70/ 166)
​اور مزید لکھا:
​”ام کلثوم بنت عبد اللہ بن عامر، یزید بن معاویہ کی زوجہ، ایک عقل مند خاتون تھیں اور ان کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔” (تاریخ دمشق: 70/ 259)
حاصلِ کلام یہ ہے کہ: عبد اللہ بن عامر بن کریز کی بیٹی، جو یزید کی بیوی تھیں، ان کا نام ہند بھی تھا، فاختہ بھی، اور کنیت امِ کلثوم تھی۔ وہی اس تاریخی موقف کی مالکہ ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کے سامنے ریحانہ رسول (ص) کے قتل پر شدید احتجاج اور انکار کیا تھا۔
اور یہ بھی اگر مان بھی لی جائے تو اس سے یزید کا کیا دفاع

کیونکہ یہ ثابت شدہ ہیں یزید کی بیوی نے یزید کے سامنے احتجاج کیا

لہذا اس. ازدواج سے یزید کو کیا فائدہ

یا جناب آسیہ سے ازدواج فرعون کو کیا فائدہ
یہ طے کرلے اسلام رشتہ داریوں کا نام ہیں

یہ پھر طے کرلے اسلام کردار کا نام ہے
یا دوسرے انبیاء کی مخالفت کرنے والی زوجات کا

اہل سنت (عامہ) کے مصادر سے
​ابن سعد اور بلاذری نے سند کے ساتھ ام بکر بنت مسور سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ
​معاویہ نے مدینہ کے گورنر مروان کو لکھا کہ وہ عبد اللہ بن جعفر کی بیٹی ام کلثوم — جن کی والدہ زینب بنت علی اور نانی فاطمہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہیں — کا ہاتھ اس کے بیٹے یزید کے لیے مانگے۔ (اور شرط رکھی کہ) وہ عبد اللہ کا تمام قرض (جو پچاس ہزار دینار تھا) ادا کر دے گا انہیں مزید دس ہزار دینار دے گا چار سو درہم مہر مقرر کرے گا اور دس ہزار دینار سے ام کلثوم کا اکرام کرے گا۔ مروان نے ابن جعفر کے پاس پیغام بھیجا، تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس میں حسین بن علی کی رضامندی شامل ہو۔
​پھر وہ امام حسین (ع) کے پاس آئے تو ابن جعفر نے ان سے کہا ماموں باپ کی جگہ ہوتا ہے اس لڑکی کا معاملہ آپ کے ہاتھ میں ہے اور امام حسین (ع) کو اس پر گواہ بنایا۔ پھر امام حسین (ع) نے لڑکی سے فرمایا: بیٹی! ہم نے اپنے خاندان سے باہر کبھی کسی لڑکی کو نہیں دیا کیا تم اپنا معاملہ میرے ہاتھ میں دیتی ہو انہوں نے کہا جی ہاں۔
​تب امام حسین (ع) نے قاسم بن محمد بن جعفر بن ابی طالب کا ہاتھ پکڑا اور انہیں مسجد میں لے آئے جہاں بنو ہاشم بنو امیہ اور دیگر لوگ جمع تھے۔ مروان نے اللہ کی حمد و ثناء کی اور کہا امیر المؤمنین نے چاہا ہے کہ یزید کے اس رشتے سے قرابت داری میں لطف اور عظمت پیدا ہو اور بنو ہاشم پر اپنے احسان و کرم کے ذریعے ان دو خاندانوں کی کشیدگی کو ختم کیا جائے۔ عبد اللہ نے اپنی بیٹی کے معاملے میں حسنِ نظر کا مظاہرہ کیا اور اس کا اختیار اس کے ماموں حسین کو دے دیا اور حسین امیر المؤمنین کی مخالفت نہیں کریں گے۔
​تب امام حسین (ع) نے کلام فرمایا، اللہ کی حمد و ثناء کی اور ارشاد فرمایا اسلام نے پستی کو دور کیا، کمی کو پورا کیا اور ملامت کو ختم کر دیا لہٰذا کسی مسلمان پر گناہ کے سوا کوئی ملامت نہیں۔ اور وہ قرابت داری جس کے حق کو اللہ نے عظیم بنایا اور اس کی پاسداری کا حکم دیا — اور اپنے نبی سے اس کے بدلے اہل بیت کی محبت کا اجر مانگنے کو کہا — وہ ہماری اہل بیت کی قرابت داری ہے۔ اب میری رائے یہ ہے کہ میں اس لڑکی کا نکاح اس شخص سے کروں جو نسب کے لحاظ سے اس کے سب سے زیادہ قریب اور سبب کے اعتبار سے سب سے زیادہ شائستہ ہے اور وہ یہ جوان ہے۔

اور آپ نے قاسم بن محمد سے اس کا نکاح کر دیا۔

 شیعہ مصادر سے
​ابن شہر آشوب نے روایت کی ہے کہ
​معاویہ نے حجاز میں اپنے عامل مروان کو خط لکھا کہ وہ عبد اللہ بن جعفر کی بیٹی ام کلثوم کا رشتہ اس کے بیٹے یزید کے لیے مانگے۔ عبد اللہ بن جعفر نے انکار کیا اور جب مروان نے اصرار کیا تو عبد اللہ نے کہا اس کا معاملہ میرے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہمارے سید و سردار حسین کے ہاتھ میں ہے جو اس کے ماموں ہیں۔
​مروان نے امام حسین (ع) کو خبر دی تو امام (ع) نے فرمایا میں اللہ سے خیر کا طلب گار ہوں اے اللہ! اس لڑکی کے لیے آلِ محمد کی خوشنودی کا فیصلہ فرما۔
​جب لوگ مسجدِ نبوی میں جمع ہوئےتو مروان آ کر امام حسین (ع) کے پاس بیٹھ گیا جہاں اکابرین موجود تھے اور کہنے لگا امیر المؤمنین نے مجھے اس کا حکم دیا ہے اور یہ کہ اس کا مہر اس کے باپ کی مرضی کے مطابق جتنا بھی ہو ادا کیا جائے گا ان دونوں خاندانوں میں صلح کرائی جائے گی اور اس کے باپ کا قرض ادا کیا جائے گا۔ اور یاد رکھیں یزید پر رشک کرنے والے ان لوگوں سے کہیں زیادہ ہیں جو آپ پر رشک کرتے ہیں اور تعجب ہے کہ یزید جیسا شخص مہر ادا کر رہا ہے حالانکہ وہ ان لوگوں کا بھی ہمسر (کفو) ہے جن کا کوئی ہمسر نہیں اور اس کے چہرے کے صدقے بارش مانگی جاتی ہے۔ پس اے ابا عبد اللہ اچھا جواب دیجیے.

​اس پر امام حسین (ع) نے فرمایا تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے لیے چنا اپنے دین کے لیے پسند کیا اور اپنی مخلوق پر مصطفیٰ بنایا (خطبے کے بعد) آپ (ع) نے فرمایا اے مروان تو نے جو کہا ہم نے سن لیا۔ رہا تیرا یہ کہنا کہ مہر باپ کی مرضی کے مطابق ہوگا تو قسم ہے میری جان کی اگر ہم ایسا چاہتے تو رسول اللہ (ص) کی بیٹیوں بیویوں اور اہل بیت کی سنت (۴۸۰ درہم) سے تجاوز نہ کرتے۔ تیرا یہ کہنا کہ باپ کا قرض ادا کیا جائے گا تو ہماری عورتیں کب سے ہمارے مردوں کے قرض اتارنے لگی ہیں تیرا یہ کہنا کہ دو خاندانوں میں صلح ہو جائے گی تو ہم وہ قوم ہیں جنہوں نے اللہ کی خاطر تم سے دشمنی کی ہے ہم دنیا کے لیے تم سے صلح نہیں کر سکتے قسم ہے میری جان کی جب نسبی رشتہ قائم نہ ہو سکا تو سببی رشتہ کیسے ہو سکتا ہے تیرا یہ کہنا کہ تعجب ہے یزید رشتہ مانگ رہا ہے تو اس سے رشتہ مانگنے والے یزید، اس کے باپ اور اس کے دادا سے کہیں بہتر تھے۔ تیرا یہ کہنا کہ یزید ان کا کفو ہے جن کا کوئی کفو نہیں تو جو شخص آج سے پہلے اس کا کفو تھا وہ آج بھی ہے اس کی حکومت و اقتدار نے اس کی کفاءت میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ تیرا یہ کہنا کہ اس کے چہرے سے بارش مانگی جاتی ہے تو یہ خصوصیت صرف رسول اللہ (ص) کے رخِ انور کے لیے تھی۔ اور تیرا یہ کہنا کہ اس پر رشک کرنے والے زیادہ ہیں تو اس پر صرف جاہل لوگ رشک کرتے ہیں اور ہم پر عقل مند لوگ رشک کرتے ہیں۔
​پھر آپ (ع) نے فرمایا تم سب گواہ رہو کہ میں نے عبد اللہ بن جعفر کی بیٹی ام کلثوم کا نکاح ان کے چچازاد بھائی قاسم بن محمد بن جعفر سے چار سو اسی (۴۸۰) درہم مہر پر کر دیا ہے اور میں نے مدینہ میں اپنی زمین (یا عقیق میں اپنی زمین) ان کے نام کر دی ہے جس کی سالانہ آمدنی آٹھ ہزار دینار ہے اور انشاء اللہ یہ ان کے لیے کافی ہے.

​راوی کہتا ہے مروان کا چہرہ فق ہو گیا اور وہ بولا: اے بنو ہاشم کیا دھوکا دیتے ہو تم دشمنی کے سوا کچھ قبول نہیں کرتے
(مناقب آل ابی طالب ج۳ ص۲۰۰)
جہاں تک اس نتیجے کا تعلق ہے کہ اگر یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ یہ شادی ہوئی تھی تو اس سے یزید کا امام حسین ع کے خون سے بری ہونا ثابت ہوتا ہے تو یہ استدلال کئی وجوہات سے بالکل ساقط اور باطل ہے

پہلی وجہ اصل رشتے اور شادی کا دعوی ہی سرے سے غیر ثابت شدہ اور جھوٹا ہے جیسا کہ واضح ہو چکا

دوسری وجہ بالفرض محال اگر اس رشتہ داری کو مان بھی لیا جائے تو بھی اس سے عقیدے کی صحت یا سیرت و کردار کی پاکیزگی ثابت نہیں ہوتی تاریخ اسلام میں ایسے متعدد نکاح اور رشتہ داریاں ہوئی ہیں جو سیاسی و عقائدی طور پر مخالف گھرانوں کے درمیان تھیں لیکن وہ کبھی بھی مطلق تزکیہ یا بے گناہی کی سند نہیں بنیں

تیسری وجہ بے شمار تاریخی نصوص واقعہ کربلا کے بعد یزید کے مواقف اور صریح بیانات کو نقل کرتی ہیں جن میں اس کا ابن الزبعری کے ان مشہور اشعار کو پڑھنا بھی شامل ہے لعبت ہاشم بالملک فلا خبر جاء ولا وحی نزل بنو ہاشم نے حکومت کے ساتھ ایک کھیل کھیلا تھا نہ کوئی خبر آئی تھی اور نہ ہی کوئی وحی نازل ہوئی تھی یہ ایسے الفاظ ہیں جو اصل رسالت اور وحی پر براہ راست اور خطرناک حملہ ہیں چہ جائیکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے نواسے کے قتل پر اس کی صریح رضامندی اور خوشی کا اظہار

یہ شبہہ اور پروپیگنڈا اسماء و انساب میں مغالطہ دینے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور سانحہ کربلا کے عظیم اور ہولناک جرم کی پردہ پوشی کی ایک ناکام کوشش پر مبنی ہے حالانکہ امت مسلمہ کا اس بات پر اجماع ہے کہ کربلا کا واقعہ ایک عظیم فاجعہ تھا اور عترت طاہرہ ع پر ڈھائے گئے مظالم انتہائی دردناک اور ناقابل معافی جرم تھے

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
علوم قرآن
فہم قرآن کی روش سے آشنائی
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions