Recommended articles
عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی علیہ السلام کے مختصر فضائل اور کمالات
July 28, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

کیا آئمہ اہل بیت نے گالی دینے کا حکم دیا ہے؟

July 21, 2026
0
0

ایک مقام پر بعض افراد کی جانب سے ایک جملہ سننے کو ملا کہ روایت میں بدعتی کو گالی دینے کا حکم آیا ہے اور ان کا استدلال اس حدیث کی بنا پہ تھا:

عن أبي عبد الله (عليه السلام) قال: قال رسول الله (صلى الله عليه وآله): إذا رأيتم أهل الريب والبدع من بعدي فأظهر والبراءة منهم وأكثروا من سبهم والقول فيهم والوقيعة وباهتوهم كيلا يطمعوا في الفساد في الاسلام

“جب تم میرے بعد اہلِ شک و شبہ اور بدعتیوں کو دیکھو تو ان سے کھلم کھلا بیزاری کا اظہار کرو، ان پر زیادہ لعنت و ملامت کرو، ان کے خلاف سخت باتیں کہو، ان پر طعن و تشنیع کرو اور ان کے مقابلے میں ان کو لاجواب کرو، تاکہ وہ فساد پھیلانے کی لالچ میں نہ پڑیں

الكافي – الشيخ الكليني – ج ٢ – الصفحة ٣٧٥

اس حدیث میں موجود لفظ ” وأكثروا من سبهم ” کی تعبیر گالی دینے سے کی گئی یعنی انہیں خوب گالی دو
جبکہ سبھی پر واضح ہے کہ لفظ ” سّب ” کے مختلف معانی ہیں اور ہر مقام پہ گالی دینا مراد نہیں ہوتا بالخصوص جب اسلام میں گالی دینے سے منع کیا گیا ہو

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس عمل سے روک دیا ہے اور یہاں تک کہ دشمن، گناہگار اور بت پرست کو بھی گالی دینے کی اجازت نہیں دی:

“ولاتسبوا الذین یدعون من دون الله فیسبوا الله عدواً بغیر علم” (الانعام: 108)

“اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا پکارتے ہیں انہیں برا نہ کہو، ورنہ وہ بھی ظلم اور جہالت سے اللہ کو برا کہیں گے۔”

اسی طرح اللہ تعالیٰ بدزبانی کو دشمنوں کی صفت قرار دیتا ہے:

“اِن یثقفوکم یکونوا لکم اعداءَ و یبسطوا الیکم ایدیهم و السنتهم …” (الممتحنة: 2)

“اگر وہ تم پر قابو پا جائیں تو تمہارے دشمن بن جائیں گے اور تمہارے مقابلے میں اپنے ہاتھ اور اپنی زبان کو برائی کے ساتھ کھول دیں گے۔”

قرآن نے اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ وہ سب انسانوں کے ساتھ نیک بات کریں، نہ صرف مومنین کے ساتھ:
“وقولوا للناس حسناً” (البقرة: 83)

“اور لوگوں سے اچھی بات کرو۔”

یہاں “ناس” کا لفظ عام ہے جو مؤمن، کافر، مسلمان، غیر مسلم بلکہ بے دین سب کو شامل ہے۔ اس طرح قرآن حتیٰ کہ بے دین لوگوں کو بھی گالی دینے یا بدکلامی کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

مزید برآں قرآن نے ہمیں “قول کریم” (نرم اور شائستہ بات)، “قول معروف” (پسندیدہ بات)، “قول سدید” (درست اور محکم بات)، “قول بلیغ” (اثر انگیز بات)، “قول میسور” (حوصلہ افزا بات)، “قول سلیم” (صلح آمیز بات) اور “قول طیب” (شیریں اور سچی بات) کا حکم دیا ہے۔

رسول اللہ ص نے گالی دینے کو بدخلقی سے تعبیر کیا ہے
قال رسول اللہ ص:

إذا أتى أحدُكُم مَجلسا فلْيَجلِسْ حيثُ ما انتهى مَجلِسُهُ .

اپنی مجلس میں گالی نہ دیا کرو کہ تمہاری بد خلقی دیکھ کر لوگ تم سے دور نا رہنے لگیں،

بحار الانوار – ج ۸۴ – ص ۲۵۴

حضرت امیر المومنین ؑ نے ایک مقام پہ فرمایا:

’’میں تمہارے لیے پسند نہیں کرتا کہ تم گالیاں دینے لگو۔

نہج البلاغہ، خطبہ ۲۰۶

یہاں تک واضح ہوا کہ اسلام میں دشمن کو بھی گالی دینے کی اجازت نہیں ہے چونکہ اس سے بدخلقی اور بدزبانی ظاہر ہوتی ہے اور اسلام نے اسے قبیح فعل قرار دیا ہے

پھر اس حدیث کا معنی کیا ہے جس میں مخالفین کی برائی کی اجازت دی گئی ہے ؟

ملا صالح مازندرانی اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں

قوله: (قال رسول الله صلى الله عليه وآله: إذا رأيتم أهل الريب والبدع من بعدي فأظهروا البراءة منهم وأكثروا من سبهم والقول فيهم والوقيعة وباهتوهم).

رسول اللہ (صلى الله عليه وآله) کے اس فرمان کا مطلب یہ ہے کہ: “جب تم میرے بعد شک و شبہ اور بدعت کے پیروکاروں کو دیکھو تو ان سے بیزاری کا اعلان کرو، ان پر زیادہ لعنت و ملامت کرو، ان کے خلاف باتیں کرو، ان پر طعن و تشنیع کرو اور انہیں رسوا کرو۔”

ان پر “سب” کرنے سے مراد ایسا کلام کہنا ہے جس کے ذریعے ان کی تحقیر اور استخفاف ظاہر ہو۔

شہید ثانی (رحمه الله) فرماتے ہیں: ان لوگوں سے وہ باتیں سامنے کہنا درست ہے جن کا ان کی طرف نسبت دینا حقیقت پر مبنی ہو، نہ کہ جھوٹ کے ذریعے۔ ( یعنی جھوٹی تہمت جائز نہیں )

یہ سوال ہے کہ کیا یہ سب کچھ “نہی عن المنکر” کے طریقے پر ہی ہونا چاہیے، لہٰذا اس کی شرائط بھی لازم ہوں گی؟ یا پھر مطلق طور پر ان کی تحقیر جائز ہے؟ نص اور فتوؤں کے ظاہر سے دوسرا قول (یعنی مطلق جواز) ہی مراد ہے، لیکن پہلا قول (یعنی نہی عن المنکر کے ضوابط کے ساتھ) زیادہ احتیاط پر مبنی ہے۔

ان سے اس طرح برتاؤ کے جواز اور اس کے راجح (افضل) ہونے پر وہ روایت بھی دلالت کرتی ہے جو برقی نے امام صادق (عليه السلام) سے نقل کی ہے:

“جب فاسق اپنے فسق کو ظاہر کرے تو اس کی کوئی حرمت باقی نہیں رہتی اور نہ ہی اس کی غیبت حرام ہے۔”

اسی طرح محمد بن بزیع کی مرفوعہ روایت ہے:

“عبادت کی تکمیل میں سے یہ بھی ہے کہ اہلِ شک و شبہ پر طعن و ملامت کی جائے۔”

لفظ وقیعة کے معنی ہیں ملامت، مذمت اور عیب لگانا۔ کہا جاتا ہے: “میں نے فلاں پر وقوع کیا” یعنی میں نے اسے عیب لگایا اور اس کی مذمت کی۔ اور “بفلاں” کے ساتھ کہا جائے تو اس کا مطلب ہے “میں نے اسے ملامت کی۔”

لفظ بُهت کے معنی ہیں حیرانی اور سکتہ میں آ جانا۔ اور غالباً یہاں مراد یہ ہے کہ ان پر ایسی زبردست حجتیں قائم کی جائیں کہ وہ لاجواب ہو جائیں اور خاموش ہو کر شرمندہ رہ جائیں، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے کہ ابراہیم (عليه السلام) نے کافر کے ساتھ مناظرہ کیا تو وہ لاجواب ہو کر حیران رہ گیا۔

یہ سب کچھ اس مقصد کے لیے ہے کہ وہ لوگ اسلام میں فساد پھیلانے کی جرأت نہ کریں۔

یعنی جب تم ان پر طعن و تشنیع کرو گے، ان کی بدعتیں ظاہر کرو گے اور انہیں انہی پر ملامت کرو گے تو وہ فساد چھوڑ دیں گے، لوگ ان سے ہوشیار رہیں گے اور ان کی بدعتوں کو نہیں سیکھیں گے، نہ ہی ان میں مبتلا ہوں گے، خواہ یہ اللہ کے خوف سے ہو یا لوگوں کی ملامت و رسوائی کے خوف سے۔

اور جان لو کہ حق کے خلاف چلنے کی مختلف درجے ہوتے ہیں:

ان میں سے ایک کافر ہے۔ اس سے اعراض کرنا، اس سے دشمنی رکھنا اور اس سے بغض رکھنا ضروری ہے، اگرچہ وہ اہلِ ذمّہ یا اہلِ امان ہی کیوں نہ ہو۔

ایک بدعتی ہے، یعنی وہ جو بدعت ایجاد کرے اور لوگوں کو اس کی طرف بلائے۔

ایک گروہ وہ ہے جو ایسی معصیت کرتا ہے جس میں دوسروں کو اذیت پہنچتی ہے، جیسے ظلم کرنا، جھوٹی گواہی دینا، حق کے خلاف فیصلہ کرنا، ہجو گوئی کرنا اور غیبت کرنا۔

اور ایک گروہ وہ ہے جو ایسی معصیت کرتا ہے جس سے مخلوق کو اذیت نہیں پہنچتی، جیسے شراب پینا اور نماز ترک کرنا۔

ان لوگوں کو ان کی معصیت سے روکنا واجب ہے، پس اگر وہ روکنے سے باز آ جائیں اور توبہ کر لیں تو بہتر، اور اگر نہ مانیں اور توبہ نہ کریں تو پھر ان پر طعن و تشنیع کرنا اور ان کو رسوا کرنا واجب ہے، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا۔

پھر اس عمل کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
(اللہ تمہارے لیے اس کے بدلے نیکیاں لکھتا ہے اور آخرت میں تمہارے درجات بلند کرتا ہے)۔

شرح أصول الكافي – مولي محمد صالح المازندراني – ج ١٠ – الصفحة ٤٣

لہذا واضح ہوا کہ اس حدیث میں سّب کرنے سے مراد ان کی تنقیص ہے ناکہ انہیں فحش گالی کا جواز ثابت ہوتا ہے

سید علی حیدر شیرازی

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

عقیدہ امامت
عزاداری اور سیرت معصومین علیھم السلام
July 28, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام
July 28, 2026
0
0
Imamat & Ahl al-Bayt (AS)
امامت و ولایت اہل بیت علیھم السلام
July 28, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد
جناب زینب سلام اللہ علیھا کی بیٹی کی شادی یزید ملعون سے ہوئی کیا؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions