کیا فضائلِ معاویہ بعد میں گھڑے گئے؟
اہلِ سنت کے معروف محقق علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب سیرت النبی ﷺ میں ایک اہم تاریخی حقیقت بیان کرتے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ خلافتِ امویہ کے زمانے میں حضرت معاویہ کی مدح و فضیلت میں روایات پھیلنے لگیں، جبکہ حضرت علیؑ کے فضائل کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ اسی سلسلے میں وہ لکھتے ہیں:
“اس زمانے میں وضع حدیثیں کثرت سے ہونے لگیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے امیر معاویہ وغیرہ کے فضائل میں بھی حدیثیں گھڑ لیں، حالانکہ اس زمانے میں ایک ایک خلیفہ کے نام پر حدیثیں روایت میں داخل ہو گئیں۔”
علامہ شبلی نعمانی مزید لکھتے ہیں کہ:
“تمام علماء نے متفقہ طور پر تسلیم کیا ہے کہ سب جھوٹی روایات حدیث کے فن میں داخل ہو چکی تھیں، اور یہی وجہ ہے کہ بعد میں محدثین کو صحیح اور ضعیف روایات میں فرق کرنے کے لیے غیر معمولی محنت کرنا پڑی۔”