مـولا عَـلِي عَلیہِ السلام کی نَبِی کَریم ﷺ سے خواب میں اُمت کی دُشمنیوں کی شکایت کرنا
جیسا کہ اہل سنت کے بڑے عالم أبو يعلى الموصلي نے اپنی کتاب مسند أبي يعلى
میں ایک روایت بسند الصحیح لیکر آئے
ملاحضہ کریں
حضرت ابی صالح نے کہا مـولا عَـلِي عَلیہِ السلام فرماتے ہیں کہ
میں نے حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا میں نے آپ ﷺ سے شکایت کی آپ کی امت کی طرف سے پہنچنے والی (تکالیف دُشمنیاں جنگیں اور جھگڑالو رویّے )جو مجھے آپ کی امت سے پہنچی تھیں
( درد اتنے گہرے تھے) جو تکلیف اور پریشانی کی وجہ سے میں رو پڑا
مجھے رسول خدا ﷺ نے فرمایا
اے (میرے بھائی ) عَـلِي نہ رو
آپ نے توجہ کی میں نے بھی توجہ کی تو دیکھا کہ دو آدمی ہیں جو چڑھ رہے ہیں جب وہ چڑھتے ہیں ان کے سروں کو
پھاڑا جاتا ہے کچلا جاتا ہے
پھر دو بارہ درست ہو جاتا ہے یا دوبارہ اسی حالت پر آ جاتا ہے
ابو صالح فرماتے ہیں کہ میں مـولا عَـلِي عَلیہِ السلام کے پاس گیا جس طرح ہر صبح میں آپ کے پاس جاتا تھا جب میں خراز کے مقام میں تھا تو میں لوگوں سے ملا انہوں نے کہا امیر المومنین کو شھید کیا گیا ہے
اس میں حضرت علیؓ کو خلافت کے زمانے میں پیش آنے والے فتنوں مخالفتوں جنگوں اور بنو اُمیہ وغیرہ اور امت کی طرف سے پہنچنے والی مجموعی تکالیف کی شکایت کا ذکر ہے
جن میں صفین نہروان اور دیگر مصائب شامل ہیں۔
ہائے اُن اُمـتیوں کی بد نصیبی کہ اہلِ بَـیت اَطہار کو ستاتے دُشمنیاں نکال
