فتوحات دورِ خلافتِ حضرت علیؑ
حضرت علیؑ کی خلافت پر ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ آپ کے دورِ خلافت میں فتوحات کا سلسلہ رک گیا تھا اور یہ مختصر دورِ خلافت آپسی خانہ جنگیوں میں گزرا۔ اس میں نہ کفار سے قتال ہوا اور نہ ہی کوئی شہر فتح ہوا بلکہ آپ ؑ کے زمانے میں جہاد کا دروازہ بالکل بند ہو گیا تھا۔
امام ابن تیمیہ منہاج السنہ میں لکھتے ہیں:
خلافۃ علی لم یقاتل فیھا کافر و لا فتح مصر و انما کان السیف بین اھل القبلۃ
ترجمہ: “حضرت علیؑ کے دور میں (آپسی خانہ جنگیوں کے سبب) نہ کفار سے قتال ہوا اور نہ کوئی شہر فتح ہوئے۔ فقط اہل قبلہ کے مابین تلواریں چلتی رہیں۔
(منہاج السنہ، ج ۱، ص ۱۴۵)
شاہ ولی الله محدث دہلوی صاحب قرة العینین میں لکھتے ہیں:
“علی المرتضی اپنے زمانہ خلافت میں داخلی اختلاف میں گرفتار رہے اور ایک بھی شہر فتح نہیں کر پائے بلکہ آپ کے زمانے میں جہاد کا دروازہ بالکل بند تھا، لہذا جہاد کے سلسلے میں شیخین افضل تھے”۔
(قرة العینین، ص ۱۳۸ بحوالہ نور الانوار، ص ۱۸۲)
یہ بات تاریخی حقائق کے خلاف ہے۔ حضرت علیؑ کے زمانۂ خلافت میں نا صرف یہ کہ کفار سے قتال ہوا بلکہ کئی فتوحات بھی ہوئی ہیں۔ (قبل اس کے کہ ہم یہاں ان فتوحات کی تفصیل بیان کرے) کچھ لمحے کے لئے مان بھی لے کہ حضرت علیؑ کے دورِ خلافت میں فتوحات نہیں ہوئی تو کیا اس سے حضرت علیؑ کے فضائل و مناقب اور مقام و مرتبہ میں کوئی کمی یا پھر آپ کی خلافتِ راشدہ پر کوئی اعتراض وارد ہوتا ہے۔
مولانا سید ابو الحسن ندوی صاحب اس سلسلے میں فرماتے ہیں:
“خلافتِ راشدہ نہ اسلامی وسعت کا نام ہے، نہ کثرتِ فتوحات کا، نہ کامیابیوں کے تسلسل کا، اگر معیار یہی ہو تو پھر ولید بن عبدالمک اور ہارون الرشید کو سب سے بڑا خلیفہ ماننا پڑے گا، خلافتِ راشدہ نام ہے نبی کے مزاج اور طرزِ زندگی میں نیابت کاملہ کا”.
(المرتضی، ص ۴۳۴)
حضرت علیؑ کے دورِ خلافت میں فتوحات کا سلسلہ
مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہونے والے بلاد و امصار سے متعلق قدیم ترین ماخذ علامہ احمد بن یحییٰ البلاذری (متوفی ۲۷۹ ہجری) کی “فتوح البلدان” میں صراحت سے ایسے کئی معرکے اور لشکری سرگرمیاں مذکور ہیں جو حضرت علیؑ کے دور میں وقوع پذیر ہوئیں۔
علامہ البلاذری “فتح قزوین و زنجان” کا عنوان قائم کر کے فرماتے صفحہ ۲۳۰ پر فرماتے ہیں:
“علی بن ابی طالبؓ نے اپنے لوگوں سے کہا کہ تم میں سے جو ہمارے ساتھ ہوکر معاویہؓ سے قتال کرنا پسند نہیں کرتا وہ اپنا وظیفہ لے لے اور دیلمیوں کی طرف جا کر ان سے جنگ کرے۔ راوی کہتا ہے کہ میں انہیں میں سے تھا جنہوں نے دوسری صورت پسند کی۔ ہم نے اپنے وظائف لیے اور الدیلم کی جانب روانہ ہوئے۔ ہماری تعداد چار یا پانچ ہزار تھی۔
ہم سے عبدالله بن صالح العجلی نے بیان کیا، ان سے ابن یمان نے روایت کیا اور ان کو سفیان نے بتایا کہ حضرت علیؑ نے الربیع بن خثیم کو الدیم پر لشکر کشی کرنے بھیجا اور مسلمانوں میں سے چار ہزار سپاہ ان کے ساتھ گئی۔ قزوین میں مسجد الربیع بن خثیم معروف ہے۔
اسی طرح آگے جاکر علامہ البلاذری “کور فارس و کرمان” یعنی “اضلاع فارس و کرمان” کی سرخی قائم کر کے لکھتے ہیں:
“اہل اصطخر نے حضرت علیؑ کے زمانے میں عہد شکنی کی اور خود کو خودمختار کرلیا۔ اس وقت سیدنا عبدالله بن عباسؓ عراق کے والی تھے۔ انہوں نے اہل اصطخر کے خلاف لشکر کشی کی اور ان کو بزور فتح کیا۔ (صفحہ۳۹۷)
“سجستان و کابل” کی سرخی کے ذیل میں علامہ البلاذری نے تفصیل سے حضرت علیؑ کے دور میں ان علاقوں میں ہونے والی لشکر کشیوں اور معرکوں سے متعلق لکھا ہے:
” حضرت علیؑ جب جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو حسکہ بن عتاب الحبطی اور عمران بن الفصیل صعالیک عرب کو ساتھ لے کر نکلے اور زالق پر اترے۔ اہل زالق نے نکث کیا۔ یہیں البختری کے دادا الاصم بن مجاہد کو گرفتار کیا، جو کہ مولیٰ شیبان تھا، پھر یہ دونوں زرنج پہنچے۔ مرزبان نے ڈر کر ان سے صلح کرلی اور یہ دونوں شہر میں داخل ہوگیے۔ حضرت علیؑ نے ان کی گوشمالی کے لیے عبدالرحمٰن بن جزء الطائی کو سجستان بھیجا، حسکہ نے عبدالرحمٰن کو قتل کردیا۔ بعدازاں حضرت علیؑ نے عون بن جعدہ بن ہبیرہ المخزومی کو سجستان روانہ کیا۔
بہدالی جو کہ قبیلہ طے کا مشہور سارق و رہزن تھا، اس نے عراق کے راستے میں عون بن جعدہ کو قتل کردیا۔ حضرت علیؑ نے سیدنا عبدالله بن عباسؓ کو لکھا کہ وہ چار ہزار کی جمیعت کے ساتھ کسی کو سجستان پر والی مقرر کر کے بھیجیں۔ سیدنا عبدالله بن عباسؓ نے ربعی بن الکاس العنبری کو چار ہزار نفوس کے ساتھ سجستان کی طرف روانہ کیا۔ الحصین بن ابی الحر، مالک بن خشخاص العنبری اورثات بن ذی الحرہ الحمیری بھی ان کے ساتھ تھے۔ ربعی سجستان پہنچے، حسکہ سے جنگ کی، اس کو قتل کیا اور ملک میں نظم و نسق قائم کیا۔ (صفحہ ۴۰۲۔ ۴۰۳)
مسلمانوں کے مابین خانہ جنگی کے حالات دیکھ کر اہل خراسان نے جزیہ دینے کا عہد توڑ دیا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ حضرت علیؑ کی حکومت میں مرو کا مرزبان ماہویہ کوفہ آیا۔ حضرت علیؑ نے اس کے لیے زمینداروں، اساورہ اور دہشلارین کے نام فرمان لکھا کہ آئندہ وہ اسی کو جزیہ ادا کیا کریں، اس پر اہل خراسان نے معاہدہ شق کردیا۔ حضرت علیؑ نے جعدہ بن ہبیرہ المخزومی کو ان لوگوں کی گوشمالی کرنے بھیجا لیکن جعدہ خراسان فتح نہ کرسکے اور حضرت علیؑ کی شہادت تک خراسان میں بدامنی رہی۔ (فتوح البلدان تحت فتوح خراسان صفحہ ۴۱۵)
اسی طرح حضرت علیؑ کے دور میں ایک بڑی فتح سندھ میں ہوئی تھی۔ علامہ البلاذری” فتوح السند” کی سرخی قائم کر کے لکھتے ہیں:
“آخر ۳۸ ہجری یا اول ۳۹ ہجری میں حارث بن مرۃ العبدی نے حضرت علیؑ سے اجازت لیکر بحیثیت مطوع سرحدِ ہند پر حملہ کیا، فتحیاب ہوئے، کثیر غنیمت ہاتھ آیا۔ صرف لونڈی غلام ہی اتنے تھے کہ ایک دن میں ایک ہزار تقسیم کیے گیے۔(صفحہ ۴۳۸)
یہ تفصیلات تو صرف “فتوح البلدان ” سے پیش کی گئی ہیں اگر اس سلسلے میں مزید ماخذ کی طرف مراجعت کی جائے تو حضرت علیؑ کے دور میں ہونے والی مزید لشکری سرگرمیوں کا پتہ چلتا ہے۔ پس ایسے میں یہ غلط فہمی قطعی رفع ہوجانی چاہئے کہ حضرت علیؑ کے زمانے میں غیر مسلموں کے خلاف قتال موقوف ہوگیا تھا اور ایک انچ زمین بھی فتح نہ ہوسکی تھی۔
