Recommended articles
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
حدیث (حب علی حسنۃ لَا یَضُرُّ مَعَهَا سَیِّئَةٌ…) کا ایک جائزہ
July 29, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
الإمام الحسين بن علي الشهيد عليه السلام

غمِ شہادتِ حسینؑ میں رونا سنتِ رسولؐ اور اہلبیت رسولؐ

June 23, 2026
0
0

آج کل سوشل میڈیا پر ایک شعر بہت گردش کر رہا جسے علامہ محمد اقبال کیطرف منسوب کیا جاتا ہے جو اصل میں ایک ناصبی دیوبندی عالم کا شعر ہے جس کی آخری لائنز ہیں “روئیں وہ جو منکر ہیں شہادت حیسنؑ کے” یعنی امام حسینؑ کی شہادت پر رونے والے منکر ہیں ان ناصبیوں کے نزدیک۔۔ جبکہ شہادت حسینؑ کا سن کر سب سے پہلے حضورؐ خود روئے اور پھر انکی آلؑ شہادت حسینؑ پر روئی۔ پہلے اس شعر کا جواب شعر کی چندہ لائنوں سے دیا جاتا پھر حوالاجات جس میں شہادت حسینؑ پر رونا سنت رسولؐ اور آل رسولؐ ثابت کی جائے گئی۔

😭قاتل کبھی مقتول کا ماتم نہیں کرتے!😭

اپنا کوئی مرتا ہے تو، روتے ہوتڑپ کے،
پر سبط پیمبر(ع) کا، کبھی غم نہیں کرتے۔

گریا کیا یعقوب نے، انکو بھی تو ٹوکو،
یوسف ابھی زندہ ہیں، یوں غم نھیں کرتے۔

آدم نے تو حوا کے لیئے پیٹا ہے سینہ،
سمجھاؤ انہیں “زندوں کا ماتم نہیں کرتے”

حق بات ہے، بس بغض علیؑ کا ہے یہ چکر،
تم اس لیئے شبیر(ع) کا ماتم نہیں کرتے

ہمت ہے تو محشر میں، پیمبر ﷺ سے یہ کہنا،
“ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے”

محسن یہ مقبول روائت ہے جہاں میں،
قاتل کبھی مقتول کا ماتم نہیں کرتے۔

▪️ ابی عمار شداد بن عبداللہ سے مروی ہے حضرت ام الفضل بنت الحارث رسول الله ص کی خدمت میں حاضر ھوئیں اور عرض کی یا رسول الله ص میں نے گزشتہ رات ایک خطرناک خواب دیکھا ہے آپ ص نے پوچھا وہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی وہ بہت خطرناک ھے آپ ع نے پوچھا وہ کیا ھے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا ھے کہ آپ ص کے جسم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھ دیا گیا ھے رسول الله ص نے فرمایا: تم نے صحیح خواب دیکھا ھے فاطمہ ع کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوگا ان شاءاللہ اور وہ تمہاری گود میں دیا جائیگا چنانچہ حضرت فاطمہ ع کے ہاں ایک حضرت حسین ع کی ولادت ہوئی اور حسین ع کو آپکی گود میں دے دیا کچھ دیر بعد جب میں نے توجہ کی تو آپؐ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے میں نے پوچھا یا نبی الله میرے ماں باپ آپ ص پر قربان ہو جائیں کیا وجہ ہے؟(آپ کیوں رو رہے ہیں؟) تو آپ ص نے فرمایا: میرے پاس جبرائیل ع تشریف لائے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت اس کو شہید کر دے گی ، میں نے پوچھا اس کو (حسین ع کو) ؟ آپ ص نے فرمایا: ہاں اور وہ اس مقام کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے”
حوالہ : [ المستدرک علی الصحیحین – حدیث ۴٨١٨ ]

▪️ حضرت عائشہ یا ام سلمہ (رض) سے مروی ھے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ھو جائے گا ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ھوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی”
حوالہ : [ مسند امام احمد – جلد ٩- حدیث ٦۴٢٩ ]

▪️حضرت ام الفضل فرماتی ہیں: رسول اللهؐ نے مجھ سے فرمایا : (اس وقت حسینؑ آپ ص کی گود میں تھے) بیشک مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتایا ہے کہ میری امت حسینؑ کو شہید کر دے گی”
حوالہ : [ المستدرک علی الصحیحین – حدیث ‏۴٨٢۴ ]

▪️ حضرت عائشہ یا ام سلمہ (رض) سے مروی ھے کہ نبی ﷺ نے ان سے فرمایا میرے گھر میں ایک ایسا فرشتہ آیا جو اس سے پہلے میرے پاس کبھی نہیں آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ آپ کا یہ بیٹا حسین شہید ھو جائے گا ، اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا سکتا ھوں جہاں اسے شہید کیا جائے گا، پھر اس نے سرخ رنگ کی مٹی نکال کر دکھائی”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ – احمد بن حنبل – ح ١٣۵٧ ]

▪️ سیدہ ام سلمہ سے روایت ہےکہ رسول الله ص کے پاس سیدنا جبرائیل ع تھے اور سیدنا حسین ع میرے پاس رو رھے تھے ، میں نے چھوڑ دیا تو وہ آپ ص کے پاس چلے گئے سیدنا جبرائیل ع نے پوچھا: اے محمد ص! آپ اس سے محبت کرتے ہیں؟ نبی کریم ص نے فرمایا: ہاں ، تو حضرت جبرائیل ع نے کہا : آپ کی امت اس کو قتل کرے گی، اگر آپ ص چاہیں تو میں آپ کو اس زمین کی مٹی دکھا دیتا ہوں جہاں یہ قتل ھوں گے، پس رسول الله ص کو انہوں نے وہ زمین دکھائی جس کو کربلا کہا جاتا ھے”
حوالہ: [ فضائل الصحابہ – حدیث ١٣٩١ ]

▪️ ” عبداللہ بن نجی کے والد ایک مرتبہ حضرت علیؑ کیساتھ جا رہے تھے، ان کے ذمے حضرت علی (رض) کے وضو کی خدمت تھی، جب صفین کیطرف جاتے ہوئے نینویٰ کے قریب پہنچے تو حضرت علی (رض) نے پکار کر فرمایا ابو عبداللہ ! فرات کے کنارے پر رک جاؤ ، میں نے پوچھا کہ خیریت ھے ؟ فرمایا میں ایک دن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ھوا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ھو رہی تھی ، میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کیا کسی نے آپ کو غصہ دلایا ، خیر تو ھے کہ آپ ص کی آنکھوں سے آنسو بہہ رھے ہیں؟ فرمایا ایسی کوئی بات نہیں ھے ، بلکہ اصل بات یہ ھے کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس سے جبرئیل اٹھ کر گئے ہیں، وہ کہہ رھے تھے کہ حسین ع کو فرات کے کنارے شہید کردیا جائے گا ، پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس مٹی کی خوشبو سونگھا سکتا ھوں ؟ میں نے انہیں اثبات میں جواب دیا ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور مجھے دے دی ، بس اس وقت سے اپنے آنسؤوں پر مجھے قابو نہیں ھے”
حوالہ : [ مسند امام احمد – جلد ١ – حدیث ٦۴٨ ]

▪️ “یزید بن ابی زیاد کہتے ھیں: نبی کریم ص حضرت عائشہ کے گھر سے نکلے تو حضرت فاطمہ سلام الله عیلھا کے گھر کے پاس سے گزرے تو آپ ص نے حضرت امام حسین ع کو روتے ھوئے سنا تو آپ ص نے فرمایا: اے بیٹی! کیا تو نہیں جانتی کہ اس (حسین ع) کے رونے سے مجھے تکلیف ھوتی ھے”
حوالہ : [ المعجم الکبیر للطبرانی – حدیث ٢٧٧٨ ]

▪️ ” سیدنا حسین ابن علی ع سے روایت ہے ہمارے حق میں جس شخص کی آنکھ سے ایک آنسو یا ایک قطرہ ٹپک پڑا الله اسے جنت میں ٹھہرائے گا”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ احمد بن حنبل – ح ١١۵۴ ]

▪️ جب اسیرانِ کربلا میدان کار زار کے پاس سے گزرے اور انہوں نے وہاں حضرت امام حسین ع اور آپ ع کے اصحاب کو پڑے ھوئے دیکھا تو عورتیں روئیں اور چلائیں اور جنابِ زینب بنت علی علیہ السلام نے روتے ھوئے اپنے بھائی امام حسین ع کا مرثیہ پڑھا:

” اے محمد! اے محمد! الله تعالیٰ اور آسمان کے فرشتے آپ ص پر درود پڑھیں ، حسین ع خون میں لتھڑا اور مقطوع الاعضاء ھو کر میدان میں پڑا ھے ، اے محمد! آپ ص کی بیٹیاں قیدی ھیں اور آپ ص کی ذریت قتل ھوئی پڑی ھے جس پر صبا خاک اڑاتی ھے”

راوی بیان کرتا ھے خدا کی قسم ” زینب بنت علی ع نے ہر دوست اور دشمن کو رلا دیا “

” قرة بن قیس نے بیان کیا ھے کہ جب عورتیں مقتولین کے پاس سے گزریں تو وہ چلائیں اور انہوں نے اپنے رخساروں پر تمانچے مارے ”
حوالہ : [ البدایہ والنہایہ – جلد ہشتم – صفحہ ٢۴٧ ]

▪️جب بنو ہاشم کی عورتوں نے (امام حسین ع کی شھادت کا) اعلان سنا تو ان کی گریہ و نوحہ کی آوازیں بلند ہوگئیں اور عمرو بن سعید کہنے لگا:
“یہ حضرت عثمان بن عفان کی بیویوں کے رونے کا بدلہ ھے”
حوالہ : [ البدایہ والنہایہ – جلد ہشتم – صفحہ ٢۵٢ ]

▪️ ” عبدالملک کہتا ھے میں نے قتلِ حسین ع کی ندا کر دی اس کو سن کر زنان بنی ہاشم نے اپنے اپنے گھروں میں جیسا نوحہ و ماتم قتلِ حسین ع پر کیا میں نے کبھی نہ سنا تھا”
اس پر عمرو بن سعید نے ہنس کر ایک شعر عمرو بن سعدی کا پڑھا اور شعر پڑھ کر کہا:
“عثمان بن عفان کے قتل پر جو فریاد و زاری ہوئی تھی یہ نوحہ و ماتم اسی کے بدلہ میں ھے”
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد چہارم حصہ اوّل – صفحہ ٢۴١ ]

▪️ جب اسیرانِ کربلا کو ابن زیاد کی طرف کوفہ روانہ کیا گیا تو اس وقت بھی ان بیبیوں نے شھدائے کربلا کا ماتم کیا اور اپنے منہ پیٹے ملاحظہ فرمائیں:
“جب یہ بیبیاں امام حسین بن علی ع کی لاش اور ان کے عزیزوں اور فرزندوں کی لاشوں کی طرف سے گزریں تو وہ آہ و نالہ کرنے لگیں اور اپنے منہ پیٹنے لگیں”
حوالہ : [ تاریخ طبری – جلد چہارم حصہ اوّل – صفحہ٢٣٢ ]

▪️”واقدی کہتا ھے اسیرانِ کربلا مدینہ کے قریب پہنچے تو مدینہ میں کوئی بھی باقی نہ رہا سب چیخ وپکار کرتے ہوئے باہر نکل آئے زینب بنت عقیل بن ابی طالب اس حالت میں باہر آئیں کہ ان کا چہرہ کھلا ہوا تھا ، بال پریشان تھے (بکھرے ھوئے) وہ وامحمداہ فریاد کر رہی تھیں واحسیناہ وااخوتاہ وا اہلاہ وامحمداہ ، ہائے حسین ہائے میرے بھائی ہائے میرے عزیز”
حوالہ : [ تذكرة الخواص – امام ابنِ الجوزی – صفحہ ٢٩۵ ]

▪️ “حضرت ام سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے میں نے جنوں کو سنا کہ وہ امام حسین علیہ السلام پر نوحہ کر رھے تھے”
حوالہ :
١- [ فضائل الصحابہ – احمد بن حنبل- حدیث ١٣٧٣ ]
٢- [ مجمع الزوائد ھیثمی – حدیث ١۵١٧٩ – رجال الصحیح ]
٣- [ المعجم الکبیر للطبرانی – احادیثِ مبارکہ – ٢٧٩٣، ٢٧٩٦-٢٨٠٠ ]
۴- [ تذكرة الخواص – امام ابنِ الجوزی – صفحہ ٢٩٨ ]
۵- [ البدایہ والنہایہ – ابن کثیر – جلد ہشتم – صفحہ ٢۵٦،٢۵٧ ]
٦- [ الاصابہ فی تمییز الصحابہ – ج١ – صفحہ٦١٣- شمار ١٧٢٦ ]
٧- [ تاریخ الخلفاء السیوطی – صفحہ ٣٠٠ ]

▪️” شھادتِ امام حسین ع کیوجہ سے آسمان سرخ ہونا اور خون کی بارش ہونا ”
حوالہ : [دلائل النبوة بیہقی – جلد ٦ – صفحہ ٣٠٠ ]

▪️ ” امام حسین ع کی شھادت پر ہر شے کے نیچے خون تھا ”
حوالہ : [المعجم الکبیر – احادیثِ – ٢٧٦۵،٢٧٦٦،٢٧٦٧،٢٧٨٧ ]
٢- [دلائل النبوة بیہقی – جلد ٦ – صفحہ ٣٠٠ ]

▪️ “عبداللہ بن عباس سے روایت ھے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبیؐ کو خواب میں دیکھا، آپ ص کے بال بکھرے ہوئے گرد آلود تھے آپ ص کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کیا ھے؟ آپ ص نے فرمایا: یہ حسین اور انکے ساتھیوں کا خون ہے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا ، عمارہ کہتے ہیں کہ پھر ھم نے بھی اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ ہم کو معلوم ہوگیا حسین ع کو اسی دن شہید کیا گیا تھا”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ – احمد بن حنبل – حدیث ١٣٨٠ ]

▪️”عبداللہ بن عباس سے روایت ھے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی ص کو خواب میں دیکھا آپ ص کے بال بکھرے ھوئے گرد آلود تھے ، آپ ص کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کیا ھے؟ آپ ص نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ھے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا، راوی کہتے ھیں کہ پھر ھم نے بھی اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ ھم کو معلوم ھو گیا کہ حسین ع کو اسی دن شہید کیا گیا تھا”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ – احمد بن حنبل – حدیث ١٣٨١ ]

▪️ “عبداللہ بن عباس سے روایت ھے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی ص کو خواب میں دیکھا، آپ ص کے بال بکھرے ہوئے گرد آلود تھے ، آپ ص کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی میں نے پوچھا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، یہ کیا ھے؟ آپ ص نے فرمایا: یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ھے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ مجھے معلوم ہوگیا کہ حسین ع کو اسی دن شہید کیا گیا تھا”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ – احمد بن حنبل – حدیث ١٣٨٩ ]

▪️ “عبداللہ بن عباس سے روایت ھے کہ میں نے ایک دن دوپہر کو نبی ص کو خواب میں دیکھا، آپ ص کے بال بکھرے ہوئے گرد آلود تھے ، آپ ص کے ہاتھ میں خون کی ایک بوتل تھی میں نے پوچھا: یارسول الله ص یہ خون کیا ھے؟ آپ ص نے فرمایا : یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ھے تو میں نے ہمیشہ اس وقت سے اس دن کو یاد رکھا یہاں تک کہ مجھے معلوم ھو گیا کہ حسین ع کو اسی دن شہید کیا گیا تھا”
حوالہ : [ فضائل الصحابہ- احمد بن حنبل- حدیث ١٣٩٦ ]

 مسلمانو! کیا اب بھی کہو گےکہ :

“روئے وہ جو منکر ہیں
شہادتِ حسینؑ کے؟”

 کوئی شرم ہوتی ہے!

 

 

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
معاشرتی اور معاشی استحکام امیر المومنینؑ کی تعلیمات کے روشنی میں
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
خلافتِ امیرالمومنینؑ سے انحراف کے علل و اسباب
July 29, 2026
0
0
الإمام علي بن أبي طالب عليه السلام
تدوین قرآن میں حضرت علیؑ کا کردار
July 29, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
تاریخ
گھوڑے کی فضیلت قرآن مجید اور کتبِ صحاح ستہ
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)31
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • ائمہ اھل سنت1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions