یومِ عاشور کا روزہ قاتلانِ امام حسین ع کی بدعت ہے
امام حاکم کہتے ہیں میں جوبیر سے خدا کی جانب سے بیزاری چاہتا ہوں۔ یومِ عاشورہ پورے دن کا روزہ رکھنا رسول اللہ ص سے بلکل ثابت نہیں بلکہ یہ تو قاتلانِ امام حسین کی بدعت ہے جسکو انھوں نے شروع کیا تھا۔
حوالہ: [ امام ابن الجوزی کتاب الموضوعات – جزالثانی – ص ۲۰۴ ]
اہلسنت کے ایک با بصیرت عالم مناوی نے روز عاشورا کے بارے میں کہا ہے کہ:
جو کچھ عاشورا کے دن کے روزے کی فضیلت، نماز، انفاق، خضاب کرنے، بالوں میں تیل لگانے اور آنکھوں میں سرمہ لگانے وغیرہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ سب بدعت ہے کہ جسکو امام حسین کے قاتلوں نے ذکر کیا ہے اور یہی باتیں انکی اہل بیت کے ساتھ دشمنی کی بھی علامت ہے کہ ان سب بدعتوں کو ترک کرنا واجب ہے۔
حوالہ : [ فیض القدیر – جلد ٦ – صفحہ ٣٠٦ ]
پس جیسا کہ مناوی نے ھی کہا ہے کہ عاشورا کے دن کا روزہ رکھنا نہ یہ کہ سنت نہیں ہے بلکہ بنی امیہ کی ایجاد کردہ بدعتوں میں سے ایک بدعت ہے ۔۔ قاتلین امام حسینؑ کی طرف سے دس محرم (عاشوراء) کے بدعات
سلفی محقق نے مصری عالم سید سابق کی کتاب “فقہ السنہ” کی تعلیق میں یوں لکھا :
عاشوراء کے روزے اور اسمین نماز س انفاق اور خضاب اور تیل اور سرمہ لگانے کی فضیلت کے بارے میں جو روایت کی جارہی ہے وہ بدعت ہے جس کو حسینؓ کے قاتلین نے ایجاد کیا ہے۔
حوالہ : [ تمام المنہ فی التعلیق علیٰ فقہ السنہ – صفحہ ۵۱۵ ]
ابن کثیر الدمشقی (المتوفی ۷۷۴ھ) نےاپنی تاریخ میں یوں کہا ہے: اور عاشوراء کے دن کے بارے میں روا فض و شیعہ کی مخالفت شام کے نوا__صب کرتے۔ پس وہ عاشوراء کے دن روٹیاں تیار کرتے، نہاتے، خوشبو لگاتے اور بہترین کپڑیں پہنتے تھے اور وہ اس دن کو خوشی کا دن مانتے تھے۔
حوالہ : [ البدایۃ و النہایۃ – ابن کثیر – جلد ۲ – صفحہ ۵۴ ]
تقی الدین احمد بن تیمیہ اپنے فتاویٰ میں عاشوراء کے بارے میں یوں فرماتے ہیں : ان (روا__فض) کے مقابل میں ایک جماعت اٹھی جو یا حسینؑ یا اہل بیتؑ کے متعصب دشمن تھے یا پھر جاہل قسم کے لوگ تھے جنہوں نے فاسد کا مقابلہ فاسد سے ، جھوٹ کا مقابلہ جھوٹ سے ، شر کا مقابلہ شر سے اور بدعت کا مقابلہ بدعت سے کیا اور انہوں نے عاشوراء کے دن خوشی اور مسرت منانے سے متعلق احادیث وضع کئے مثلاً سرمہ لگانا ، خضاب لگانا ، بچوں پر خوب خرچ کرنا ، عام عادت سے ہٹ کر کھانے پکوانا وغیرہ جیسا کہ عید یا باقی مناسبات میں کیا جاتا ہے۔
حوالہ : [ مجموعہ الفتاویٰ – ابن تیمیہ – جلد ۲۵ – صفحہ ۱۶۶ ]
عاشواء کے بارے میں ابن تیمیہ کے مکمل فتاوی کو اہل حدیث عالم نے ترجمہ بھی کیا ہے۔
حوالہ : [ عاشوراء کی حقیقت ( طہ سعید خالد عمری) – ص۴۲ ]
