Recommended articles
تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 4
June 10, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
تاریخ

آیۃ مباھلہ حصہ 2

June 10, 2026
0
0

معتبر کتابوں میں مذکور احادیث میں سے یہ چند الفاظ ہیں جو اس مبارک آیت کے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہونے کے متعلق وارد ہوئے ہیں، جنہیں حفاظِ حدیث نے اپنی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔

أخرج ابن عساکر بسنده، و ابن حجر من طريق الدار قطني، عن أبي الطفيل: إن أمير المؤمنين عليه السلام ناشد أصحاب الشورى واحتج عليهم بجملة من فضائله ومناقبه، ومن ذلك أن قال لهم:نشدتكم بالله. هل فيكم أحد أقرب إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في الرحم، ومن جعله رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نفسه وأبناء أبناءه ونساءه نساءه، غيري ؟قالوا: اللهم لا

ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ، اور ابن حجر نے دارقطنی کے طریق سے، ابو الطفیل سے روایت کیا ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ شوریٰ کو قسم دے کر اپنے فضائل اور مناقب کے ذریعے ان پر احتجاج کیا، اور ان سے فرمایا:
“میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں! کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو رسول اللہ ﷺ سے نسب کے لحاظ سے مجھ سے زیادہ قریب ہو؟ اور جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی جان، اپنے بیٹوں کے بیٹے، اور اپنی عورتوں کی عورتیں قرار دیا ہو، میرے علاوہ؟”
انہوں نے کہا: “خدا کی قسم! نہیں۔”

مصنف کہتے ہیں :
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شوریٰ میں یہ قسم دلوانا (مناشدہ) بہت سے علماء نے، دونوں فریقوں (شیعہ و سنی) میں سے، اپنی اسناد کے ساتھ ابوذر اور ابو الطفیل سے روایت کیا ہے۔ جن اہلِ سنت حفاظ نے اسے نقل کیا ان میں دارقطنی، ابن مردویہ، ابن عبد البر، حاکم، سیوطی، ابن حجر مکی، اور متقی ہندی شامل ہیں۔

وفي المسند: حدثنا عبد الله، قال أبي : ثنا قتيبة بن سعيد، ثنا حاتم بن إسماعيل، عن بكير بن مسمار، عن عامر بن سعد، عن أبيه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول له، وخلفه في بعض مغازيه، فقال علي رضي الله عنه: أتخلفني مع النساء والصبيان ؟! قال: يا علي ! أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبوة بعدي وسمعته يقول – يوم خيبر – : لأعطين الراية غداً رجلاً يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله.فتطاولنا لها، فقال: ادعوا لي عليا رضي الله عنه فأتي به أرمد، فيصق في عينه ودفع الراية إليه، ففتح الله عليه.ولما نزلت هذه الآية نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ﴾ دعا رسول الله صَلَّى الله عليه واله وسلم عليا وفاطمة وحسنا وحسبنا رضوان الله عليهم أجمعين، فقال: اللهم هؤلاء أهلى

اور مسند میں روایت ہے کہ:
عبداللہ نے کہا: میرے والد نے ہم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: قتیبہ بن سعید نے ہم سے روایت کی، انہوں نے کہا: حاتم بن اسماعیل نے، انہوں نے بکیر بن مسمار سے، انہوں نے عامر بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت علیؑ سے فرماتے ہوئے سنا، جب آپؐ انہیں بعض غزوات میں اپنے پیچھے (مدینہ میں) چھوڑ کر جا رہے تھے۔ تو علیؑ نے عرض کیا: “کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟”
تو آپؐ نے فرمایا: “اے علی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہو جو ہارون کی موسیٰ سے تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں؟”
اور میں نے آپؐ کو خیبر کے دن یہ فرماتے ہوئے سنا: “میں کل علم (جھنڈا) ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔”
ہم سب اس کے امیدوار ہو گئے، تو آپؐ نے فرمایا: “میرے پاس علی کو بلاؤ۔” انہیں لایا گیا جبکہ ان کی آنکھ میں تکلیف تھی، تو آپؐ نے ان کی آنکھ میں لعاب لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا، پس اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔
اور جب یہ آیت نازل ہوئی: “آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو…” تو رسول اللہ ﷺ نے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو بلایا اور فرمایا: “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔”

واخرج مسلم قائلاً: حدثنا قتيبة بن سعيد ومحمد بن عباد ونقاريا في اللفظ – قالا حدثنا حاتم – وهو ابن إسماعيل – عن بكير بن مسمار، عن عامر بن سعد بن ابی وقاص، عن أبيه، قال: أمر معاوية بن أبي سفيان سعداً، فقال: ما منعك أن تسب أبا تراب ؟!فقال: أما ما ذكرت ثلاثاً قالهن له رسول الله صلى الله عليه وآله ) ] وسلم فلن أسبه، لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلي من حمر النعم:سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول له [ وقد ] خلفه في بعض مغازيه، فقال له علي يا رسول الله! خلفتني مع النساء والصبيان فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أما ترضى أن تكون منى بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبوة بعدي. وسمعته يقول يوم خيير: لأعطين الراية رجلاً يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله. قال: فتطاولنا لها، فقال: ادعوا لي علياً، فأتي به أرمد، فبصق في عينه، ودفع الراية إليه، ففتح الله عليه. ولما نزلت هذه الآية: ﴿ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءكُمْ دعا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم علياً وفاطمة وحسناً وحسيناً فقال: اللهم هؤلاء أهلي

اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے کہ:
قتیبہ بن سعید اور محمد بن عباد نے ہم سے حدیث بیان کی، دونوں نے حاتم بن اسماعیل سے، انہوں نے بکیر بن مسمار سے، انہوں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ:
معاویہ بن ابی سفیان نے سعد سے کہا: “تمہیں ابو تراب (علیؑ) کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟”
تو انہوں نے کہا: “جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں فرمائی ہیں، میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا، کیونکہ ان میں سے ایک بھی مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہے۔”
پھر انہوں نے وہی تین فضائل بیان کیے:منزلتِ ہارون والی حدیث
خیبر کے دن جھنڈا دینے والی حدیث
اور آیتِ مباہلہ کے نزول پر اہلِ بیتؑ کو بلانا
اور جب یہ آیت نازل ہوئی: “پس کہو آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں…” تو رسول اللہ ﷺ نے علیؑ، فاطمہؑ، حسنؑ اور حسینؑ کو بلایا اور فرمایا: “اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں۔”

 

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

تاریخ شبھات کا رد
شبھۃ تحریف قرآن کے متعلق فحرفوھا او حرفا
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 6
June 10, 2026
0
0
تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 5
June 10, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
Imamat & Ahl al-Bayt (AS) تاریخ
آیۃ مباھلہ حصہ 3
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
جنگ احد میں امیر المومنین علیہ السلام کہاں تھے ؟
October 2, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)28
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات5

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions