انبیاء کی وراثت فقط علم ہوتی ہیں؟….. میں اس پر ایک. تفصیلی کلام کرنا چاہتا ہوں
جس میں روایات کے متون پر زیادہ توجہ ہوگی
پہلے شیعہ روایات سے شروع کرتے ہیں
….
وَ وَرِثَ سُلَیۡمٰنُ دَاوٗدَ وَ قَالَ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ عُلِّمۡنَا مَنۡطِقَ الطَّیۡرِ وَ اُوۡتِیۡنَا مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ ؕ اِنَّ ہٰذَا لَہُوَ الۡفَضۡلُ الۡمُبِیۡنُ﴿۱۶﴾
۱۶۔ اور سلیمان داؤد کے وارث بنے اور بولے: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی کی تعلیم دی گئی ہے اور ہمیں سب طرح کی چیزیں عنایت ہوئی ہیں، بے شک یہ تو ایک نمایاں فضل ہے۔
سورۃ نمل آیت 16
اس آیت میں بیان ہیں جناب سلیمان جناب داؤد کے وارث ہیں اور. شیعہ کی طرف سے یہی وراثت کے اثبات میں ابتدائی ادلۃ میں سے ایک دلیل ہے
متن پر توجہ دے
تو. اس. آیت سے مالی وراثت کیسے ثابت ہوگی؟
اس آیت میں
الفاظ ہیں
واوتینا من کل شیء
من کل شیء
ہر چیز میں سے
اس سے صرف مالی وراثت پر ہی ثابت ہوتی بلکہ ہر. وہ. چیز جو دی گئی وہ وراثت میں ملتی ہے
شَيء
-«جمع»: أَشْيَاءٌ.
-«خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ شَيْءٍ»: أَيْ كُلَّ مَا لَهُ وُجُودٌ مُثْبَتٌ مُتَحَقِّقٌ
شیء کسے کہتے ہیں
ہر وہ چیز جس کا وجود ثابت ہو اور متحقق ہو
جب آیت مطلقا ہیں تو اس کو مقید کیسے کر سکتے ہیں
کس دلیل کی بنا پر مقید کیا گیا ہے
دلیل کے طور پر الکافی کا ایک حوالہ دیا جاتا ہے
ملاحظہ کرے

یہ روایت علم کے باب میں وارد ہوئی ہے
اس میں یہ ضرور ہے کہ جناب سلیمان جناب داؤد کے کہ کے وارث ہے اور جناب داؤد انبیاء کے علم کے وارث ہیں
مگر اس. میں نا. حصر ہے نا ہی. دوسری اشیاء کی نفی ہیں فقط علم کی اھمیت کا بیان ہے
تو جناب والا نفی کہا ہے یا حصر کہا ہے؟
اس کیلئے جناب اسی باب کی. ایک اور روایت پیش کرتے ہیں
مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: إِنَّ الْعُلَمَاءَ وَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ وَ ذَاكَ أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ لَمْ يُورِثُوا دِرْهَماً وَ لَا دِينَاراً وَ إِنَّمَا أَوْرَثُوا أَحَادِيثَ مِنْ أَحَادِيثِهِمْ فَمَنْ أَخَذَ بِشَيْءٍ مِنْهَا فَقَدْ أَخَذَ حَظّاً وَافِراً فَانْظُرُوا عِلْمَكُمْ هَذَا عَمَّنْ تَأْخُذُونَهُ فَإِنَّ فِينَا أَهْلَ الْبَيْتِ فِي كُلِّ خَلَفٍ عُدُولًا يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ وَ انْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ وَ تَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ.
۲۔ امام جعفر صادق ع نے فرمایا: کہ علماء وارث انبیاء ہیں اور انبیاء نہیں مالک ہوتے درہم و دینار کے بلکہ وہ تو وارث ہوتے ہیں ان کی احادیث کے پس جس نے ان احادیث سے کچھ لے لیا…
الکافی
اب اس میں حدیث میں اولاد کا ذکر نہیں ہے بلکہ علماء کا ذکر ہے
یہ نفی بلکل صحیح ہے علماء انبیاء سے مالی وراثت نہیں. پاتے بلکہ علماء اپنے اقرباء کے علاوہ. کسی سے بھی وراثت نہیں پاتے
وہ اولاد ہوتی ہیں جو وارث ہوتی
لہذا یہ. سالبہ بانتفاء الموضوع ہے
گفتگو اولاد کی تھی دلیل علماء کی لیکر آئے
یہاں پر ایک چیز اور قابل ذکر ہیں جو بطور چلاکی کہی جاتی ہے
کہ آئمۃ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ کے علم کے وارث ہوتے ہیں یا نہیں
کیونکہ جناب یہ چاہتے ہیں کہ علم کے وارث ہوتے ہیں
تو ہمارا. جواب ہیں اس فرق نہیں پڑتا کہ اگر وہ. علم کے وارث ہیں اور باقی چیزوں کے وارث نہیں
ممکن ہیں دونوں کے وارث ہو
علم کے وارث بھی اور جو کچھ چھوڑ کر جائے
مگر محل بحث
جناب سیدہ سلام اللہ علیھا کا حق ہے
لہذا کسی بھی حدیث یہ ثابت نہیں کر سکتے شیعہ کتب سے کہ فقط میراث علمی ہوتی ہے
بلکہ اس کے مقابلے میں ہم ترکہ وغیرہ کی وراثت دکھاتے ہیں شیعہ کتب سے
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَسْبَاطٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حَيْدَرٍ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ حُمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع مَنْ وَرِثَ رَسُولَ اللَّهِ ص فَقَالَ فَاطِمَةُ ع وَ وَرِثَتْهُ مَتَاعَ الْبَيْتِ وَ الْخُرْثِيَّ وَ كُلَّ مَا كَانَ لَهُ
الکافی
حمزہ بن حمران کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا:
“رسولِ خدا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث کون تھے؟”
تو آپؑ نے فرمایا:
“حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ان کی وارث تھیں، اور انہوں نے گھر کا سامان، گھریلو اشیاء (خُرثیٰ)، اور جو کچھ بھی آپؐ کا تھا سب وراثت میں پایا۔”
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ جَمِيلِ بْنِ دَرَّاجٍ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ وَرِثَ عَلِيٌّ ع عِلْمَ رَسُولِ اللَّهِ ص وَ وَرِثَتْ فَاطِمَةُ ع تَرِكَتَهُ
الکافی
زرارہ روایت کرتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا حضرت علی علیہ السلام نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علم کو وراثت میں پایا، اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے آپؐ کے ترکہ (مال و متاع) کو وراثت میں پایا۔”
لہذا علماء کی وراثت والی روایت کو اولاد پر قیاس نہیں کیا جا سکتا
اگر پھر بھی جناب بضد ہو
کہ اس. آیت میں فقط علم ہیں
تو انا مدینۃ العلم و علی بابھا وارث علی ابن ابی طالب ہیں
تو پھر ملاحظہ کرے جناب داؤد کے اگر کا. وارث ہو. تو اس. کو کیا کیا ملتا ہے
ملاحظہ کرے
الباقر (علیه السلام)- أُعْطِیَ سلیمانبنداود (علیه السلام) مُلْکَ مَشَارِقِ الْأَرْضِ وَ مَغَارِبِهَا فَمَلَکَ سَبْعَمِائَةِ سَنَةٍ وَ سَبْعَةَ أَشْهُرٍ مُلْکَ أَهْلِ الدُّنْیَا کُلِّهِمْ مِنَ الْجِنِّ وَ الْإِنْسِ وَ الشَّیَاطِینِ وَ الدَّوَابِّ وَ الطَّیْرِ وَ السِّبَاعِ وَ أُعْطِیَ عِلْمَ کُلِّ شَیْءٍ وَ مَنْطِقَ کُلِّ شَیْءٍ وَ فِی زَمَانِهِ صُنِعَتِ الصَّنَائِعُ الْمُعْجِبَةُ الَّتِی سَمِعَ بِهَا النَّاسُ وَ ذَلِکَ قَوْلُهُ عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَ أُوتِینا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ إِنَّ هذا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِینُ.
[تفسير اهل البيت عليهم السلام ج١١، ص٢٢ –
بحار الأنوار، ج١٤، ص٨٠/
نورالثقلین/ البرهان]٥
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں:
سلیمان بن داؤدؑ کو زمین کے مشرقوں اور مغربوں کی بادشاہت عطا کی گئی۔ پس انہوں نے سات سو سال اور سات مہینے تک حکومت کی، اور دنیا کے تمام اہل (مخلوقات) پر حکمرانی کی، جن میں جنّات، انسان، شیاطین، چوپائے، پرندے اور درندے سب شامل تھے۔
اور انہیں ہر چیز کا علم عطا کیا گیا اور ہر چیز کی زبان (منطق) سکھائی گئی۔ ان کے زمانے میں وہ عجیب و غریب صنعتیں اور کاریگریاں وجود میں آئیں جن کا لوگوں نے ذکر سنا ہے۔
اور یہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مطلب ہے: “ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز میں سے عطا کیا گیا ہے، بے شک یہ کھلا ہوا فضل ہے
تو جو سید الانبیاء کے علم کا وارث ہوگا حق تو ان. کا بنتا ہے
کسی دوسرے کو کیا حق کہ وہ قبضہ کرے