حيث قال: “كاف لشيعتنا””یہ ہماری شیعہ کے لیے کافی ہے”۔ اس بارے میں کیا رائے ہے؟
بعض علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ کتاب الکافی امام قائم (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کی گئی تھی، اور انہوں نے اس کی تحسین کرتے ہوئے فرمایا:
حيث قال: “كاف لشيعتنا””یہ ہماری شیعہ کے لیے کافی ہے”۔ اس بارے میں کیا رائے ہے؟
جواب:
بسم الله الرحمن الرحيم
اس روایت کا جواب دو پہلوؤں سے دیا جا سکتا ہے:
پہلا پہلو: اس کے صدور کی صحت
اے عزیز! جان لو کہ الکافی شریف شیعہ امامیہ کے نزدیک سب سے اہم حدیثی کتب میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے مؤلف، شیخ ابو جعفر الکلینی (قدس سرہ)، جو امامیہ کے عظیم محدثین کے مرجع اور غیبتِ امام (عج) کے دور میں مذہب کے مروج تھے، نے اس کتاب کی تبویب، ترتیب، اور اسناد و روایات کے ضبط میں کمال مہارت کا ثبوت دیا۔ یہاں تک کہ شیخ نجاشی (قدس سرہ) نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اس کتاب کی تصنیف میں اپنی زندگی کے بیس سال صرف کیے۔
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ الکافی کو امام زمانہ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا اور انہوں نے اس کی تصدیق فرمائی، کیونکہ اس روایت کا کوئی معتبر سندی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ ہی یہ دعویٰ ان عظیم علمائے کرام کے ہاں معروف تھا جو شیخ کلینی کے ہم عصر تھے۔ بلکہ یہ دعویٰ ان کی وفات کے سات صدیوں بعد سامنے آیا۔
دوسرا پہلو: اس روایت کا ماخذ
یہ دعویٰ سب سے پہلے شیخ خلیل بن غازی القزوینی (متوفی 1089 ہجری) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جو بعض فقہی اور اصولی مسائل میں منفرد اور حیرت انگیز نظریات رکھتے تھے۔ میرزا عبداللہ افندی کے بقول، ان کے نظریات میں کئی عجیب و غریب امور پائے جاتے تھے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ امام مہدی (علیہ السلام) نے براہ راست الکافی کی تمام احادیث کو دیکھا اور ان کی تصدیق کی [ریاض العلماء، جلد 2، صفحہ 261]۔
تاہم، اس دعوے کو محدثین اور اکابر علما نے مسترد کر دیا، حتیٰ کہ وہ علمائے اخباریہ بھی، جو الکافی کی احادیث کو مستند سمجھتے تھے، اس روایت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔
محدث نوری نے کہا:
“یہ مشہور روایت کہ یہ کتاب امام حجت (علیہ السلام) کے سامنے پیش کی گئی، اور انہوں نے فرمایا کہ ’یہ ہماری شیعہ کے لیے کافی ہے‘، اس کی کوئی اصل نہیں، اور نہ ہی ہمارے علما کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر موجود ہے۔ بلکہ محدث استرآبادی، جو اس کتاب کی تمام احادیث کو قطعی ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے، نے بھی اس روایت کے بے بنیاد ہونے کا اعتراف کیا ہے۔” [خاتمة المستدرک، جلد 3، صفحہ 470]
اسی طرح علامہ مجلسی (قدس سرہ) نے اس نظریے کو فروغ دینے والوں کو “مجازفین” یعنی بے بنیاد بات کرنے والے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روایت کے دعویدار کسی بھی مستند کتاب میں اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے، نہ ہی کسی راوی کا نام دیا گیا جس نے یہ واقعہ نقل کیا ہو۔
علامہ مجلسی فرماتے ہیں:
“بعض لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ الکافی کو امام قائم (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا گیا، محض اندازے سے بات کر رہے ہیں۔ کیونکہ صرف یہ دلیل کہ یہ کتاب سفراء کے زمانے میں لکھی گئی، اس دعوے کو ثابت نہیں کرتی۔ ہاں، یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ امام قائم (علیہ السلام) اور ان کے آباء (علیہم السلام) نے اس کتاب کی تردید نہیں فرمائی، اور یہ احتمال قوی ہے کہ وہ اس کتاب اور دیگر معتبر تصنیفات سے راضی تھے اور ان میں موجود احادیث پر عمل کو جائز سمجھتے تھے۔” [مرآة العقول، جلد 1، صفحہ 22]
نتیجہ:
یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ الکافی کو امام مہدی (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیے جانے اور ان کی طرف سے اس کی توثیق کیے جانے کا دعویٰ محض ایک بے بنیاد خیال ہے، جس کی کوئی سند موجود نہیں۔
دوسرا پہلو: اس کے مضمون کی صحت
اگر اس خبر کا مضمون درست ہوتا اور واقعی الکافی ہی شیعہ امامیہ کے لیے کافی ہوتا، تو پھر کیوں بعد میں شیعہ محدثین نے مزید حدیثی کتب مرتب کیں؟ اہلِ بیت (علیہم السلام) کے مکتبِ فکر میں یہ بات مسلم ہے کہ کوئی بھی حدیثی کتاب، خواہ وہ الکافی ہو یا کوئی اور، مکمل طور پر صحیح نہیں مانی جاتی، یعنی اس کی تمام روایات بلا استثناء قطعی الصدور نہیں ہیں۔
اسی وجہ سے الکافی کے بعد سینکڑوں حدیثی کتب لکھی گئیں، جیسے:
من لا یحضره الفقیہ
مدینة العلم
التهذيب
الاستبصار
بحار الأنوار
وسائل الشيعة
جامع أحاديث الشيعة
وغیرہ۔ [دیکھیں: معالم المدرستين، جلد 3، صفحہ 90]
اسی طرح، حدیثی نقد و جرح کے ماہرین، جیسے شیخ مفید اور شیخ طوسی، جو شیخ کلینی کے قریب زمانے میں تھے، انہوں نے الکافی کی روایات کو غیر قطعی الصدور سمجھ کر ان پر بحث کی۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ مشہور قول، جو بعض لوگ بیان کرتے ہیں کہ امام زمانہ (علیہ السلام) نے فرمایا: “الکافی ہماری شیعہ کے لیے کافی ہے”، معتبر نہیں ہے اور اس کا کوئی مستند ثبوت موجود نہیں۔ [دیکھیں: معجم رجال الحدیث، جلد 1، صفحہ 33]
ر والحمد لله أوّلاً وآخرا
سید امتیاز نقوی
