امام حسین ؑ نے کربلا کی زمین 60000 درہم میں خرید کر خیرات فرمائی

امام حسین ؑ نے کربلا کی زمین 60000 درہم میں
خرید کر خیرات فرمائی
کربلا کی روایات کا دیگر کتب جیسے صحیحین یا کتب اربعہ کی باسند روایات سے موازنہ بالکل بھی درست نہیں ھے
تاریخی اور فقہی روایات میں فرق رہتا ھے
جو لوگ کربلا کی روایات پر اشتبھات کا شکار ہو جاتے ہیں
ان کے لیے عرض کہ کربلا کی روایات کو اس دور میں اکٹھا کیا گیا جو وقت شیعان علی ؑ پر انتہائ سخت تھا
اس لیے کربلا کی روایات دیگر کتب جیسی نہیں ہیں بلکہ اس پر مختلف زمانوں میں کام ہوتا رہا
مقتل حسین ؑ پر پہلی کتاب ابی مخنف کی ھے جو کہ خود کربلا کے واقعہ کے کم و بیش بیس یا پچیس سال بعد لکھی گئ
اس لیے یہ کتاب ہی سب سے زیادہ معتبر مانی جاتی ھے لیکن اس کے ساتھ دوسرے علماء و محقیقن جیسے کہ ابو الفرج اصفہانی شیخ صدوق مجلسی یا علماۓ امامیہ نے اپنی تحقیق اور بساط کے مطابق روایات مقتل کو لکھا
اس لیے ان روایات کا اعتبار ھے
اگر آپ کربلا کی روایات کو بھی دیگر کتب کی طرح اسناد کے ساتھ قبول کرنا شروع کر دیں گے تو یہ جہالت ہو گی گو کہ کربلا کی بعض روایات اسناد کے ساتھ معجم کبیر طبرانی یا المصنف حتی کہ بخاری میں بھی نقل ہیں
تمہید کا مقصد یہ تھا کہ ایک محترم روحانی نامی مولوی جو کہ شیعت جیسے عظیم مکتب سے منسلک ہونے کا دعوی کرتے ہیں لیکن اندر ہی اندر تشیع کی جڑوں کو کمزور بنانے میں لگے ہیں ایسے ہی فیس بک پر ایک پیچ مولوی محمد حسین ڈھکو کے نام کا چل رہا ہے جس میں وہ دینی مذاکرے نامی کتاب میں اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ امام حسین ؑ نے کربلا کی زمین کو خریدا تھا
وہ موصوف اس روایت کو چھیڑ بیٹھے جن پر ہمارے بہترین علماۓ محققین اعتبار کرتے ہیں اور مستند سمجھتے ہیں
اور وہ روایت ھے امام حسین ؑ نے کربلا کی سر زمین 60000 درہم میں خریدی
کربلا کو نینوی بھی کہا جاتا ھے جب امام حسین ؑ نینوی پہنچے تو حر کے پاس ابن زیاد نے ایک قاصد بھیجا تھا
جس کے پاس ایک خط تھا شیخ مقرم نے اس خط کا تذکرہ مقتل مقرم میں کیا ھے
جعجع بالحسین حین تقراً کتابی ولا تنزلہ الا بالعراء و غیر حصن
یعنی جیسے ہی تمہیں میرا خط ملے حسین ؑ کو ایسی جگہ روک لو جہاں پر انکو بے قراری اور بے چینی ہو یعنی بے آب و گیاہ جہاں نہ پانی ہو نہ کوئ سبزہ ہو
حر نے جب یہ خط امام ؑ کو سنایا تو امام ؑ نے اس کو کہا کہ ہمیں غاضریہ یا شفیہ میں خیمے نصب کرنے دو
غاضریہ گاؤں یہ بنی اسد سے منسوب ایک شخص غاصرہ کے نام پر ھے
اس کے بعد عقر نامی جگہ جو کہ کربلا میں دریاۓ فرات کے ساتھ واقع تھا جس کو قریہ حصینہ بھی کہا گیا ھے وہاں بھی رکے لیکن مزید آگے بڑھ گئے
مقام عقر وہ جگہ ھے جہاں بخت نصر کے لوگ بستے تھے
102 ھجری میں ایک جنگ جنگ عقر کے نام سے بھی ہوئ جس میں یزید بن مھلب قتل ہوا تھا
یزید بن مہلب کا تعارف
بنو امیہ کے خلیفہ سلیمان بن عبدالمالک کا ایک ممتاز فوجی جرنیل تھا۔ یہ خراسان کا گورنر بھی رہا ہے۔ اس نے امویوں کے خلاف بڑی بغاوتیں و شورشیں پیدا کیں تھیں۔ واسط پر چڑھائی کرکے قابض ہوا تھا۔ یزید بن مہلب، مسلمہ بن عبدالمالک سے مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا۔
یہ گاؤں قریب قریب واقع تھے
جب امام عالی مقام مقام طف کے قریب پہنچے تو پوچھا اس کا کوئ اور نام بھی ھے فرمایا کربلا
اس پر امام عالی مقام ؑ نے گریہ کیا اور فرمایا
ھھنا محط رکابنا و سفک دمائنا و محل قبورنا بھذا حدثنی جدی رسول اللہ
مقتل لہوف
مجھے میرے نانا نے بتایا تھا کہ یہاں ہمارے خیمے نصب ہوں گے اور ہمارا خون بہایا جاۓ گا اور قبریں بنائ جائیں گی
اس کے بعد آپ کربلا پہنچے
اور سب سے پہلا کام اپنی قبر کی زمین غاضریہ اور نینوی کے لوگوں سے خریدی
اسی بات کو سید عبدالرزاق المقرم نے اپنی مقتل اور علامہ باقر مجلسی کے شیخ فخر الدین الطریحی نے اہنی کتاب مجمع البحرین میں لکھا ھے
کہ یہ زمین خریدی اور خرید کر غاضریہ و نینوی کے لوگوں میں خیرات کی
لیکن آپ نے شرائط عائد کی کہ جب کوئ بھی زائر آۓ تو اسے میری قبر کی نشاندہی کرنا اور میرے زائر کو تین دن تک مہمان رکھنا
یہ روایات محدث نوری نے مستدرک الوسائل میں بھی نقل کی ہیں
غاضریہ کے متعلق محدث نوری نقل کرتے ہیں
وعنهم ، عن علي بن إبراهيم، عن أبيه ، عن محمد بن علي ، عن عباد أبي سعيد العصفري ، عن رجل ، عن أبي الجارود ، وذكر مثل الحديث الثالث قال : وروى قال: قال أبو جعفر ( عليه السلام ) : : « الغاضرية هي البقعة التي كلّم الله فيها موسى بن عمران ، وناجى نوحاً فيها ، وهي أكرم ارض الله عليه ، ولولا ذلك ما استودع الله فيها أولياءه وأنبياءه فزوروا قبورنا بالغاضرية ، وقال أبو عبد الله ( عليه السلام ) : الغاضرية من تربة بيت المقدس » .
حذف اسناد
ابو جعفر (علیہ السلام) نے فرمایا: غاضریہ وہ مقام ہے جس میں خدا نے کلام کیا ہے۔ موسیٰ بن عمران، اور انہوں نے نوح کے ساتھ اس میں گفتگو کی، اور یہ ان پر خدا کی سب سے معزز سرزمین ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا اپنے اولیاء اور انبیاء کو وہاں نہ بھیجتا ، لہذا ہماری قبروں کی زیارت کرو۔ غاضریہ میں ہے اور ابو عبداللہ (علیہ السلام) نے کہا ہے: الغاضریہ بیت المقدس کی سرزمین سے ہے
پہلے ہم چند روایات لگاتے ہیں جس سے واضح ہو جاۓ گا کہ امام ؑ نے اپنی قبر کی زیارت کے لیے بھی کیا اہتمام فرمایا تھا
وعن أبيه وجماعة مشايخه ، عن سعد بن عبد الله ، عن محمد بن عيسى اليقطيني ، عن محمد بن إسماعيل البصري ، عمن رواه ، عن أبي عبدالله ( عليه السلام ) قال : ( حرمة قبر الحسين عليه السلام ) فرسخ في
فرسخ من أربعة جوانب القبر »
ابی عبداللہ (علیہ السلام) کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: (قبر حسین علیہ السلام کی حرمت اس میں مضبوطی سے قائم ہے۔ قبر کے چاروں طرف چار فرسخ تک
وعن حكيم بن داود ، عن سلمة ، عن منصور بن العباس يرفعه إلى أبي عبدالله ( عليه السلام ) قال : ( حريم قبر الحسين ( عليه السلام ) خمس فراسخ من أربعة جوانب القبر )
اور حکیم بن داؤد کی سند سے، سلمہ کی سند سے، منصور بن العباس کی سند سے، جنہوں نے اسے ابی عبداللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے مرفوع بیان کیا ، انہوں نے کہا: امام حسین علیہ السلام کی قبر قبر کے چار اطراف سے پانچ منزلیں ہیں
وعن أبيه وجماعة مشايخه ، عن سعد ، عن هارون بن مسلم ، عن عبدالرحمان الأشعث حماد الأنصاري . ، عن عبد الله بن سنان ، عن أبي عبد الله ( عليه السلام ) ، قال : سمعته يقول : « قبر الحسين ( عليه السلام ) عشرون ذراعاً في عشرين ذراعاً مكسراً ، ، روضة من رياض الجنة ) وذكر الحديث
حذف اسناد
۔ عبداللہ بن سنان سے، ابی عبداللہ (علیہ السلام) کی سند سے، انہوں نے کہا: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا: حسین علیہ السلام کی قبر بیس ہاتھ ھے ۔اور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ھے
ملاحظہ ہو مستدرک الوسائل جلد 10ص 321 محدث نوری
کربلا کی زمین کو امام حسین ؑ نے خریدا اس بات کا اقرار شیخ بہائ نے اپنی کتاب کشکول جلد 2 ص 91 بحوالہ محمد بن احمد بن داود القمی کی کتاب الزیارات سے نقل ھے
اور انہوں نے اس روایت کو سید ابن طاوس کی کتاب مصباح الزائر سے نقل کیا ھے
مؤلف کہتے ہیں: مجھے ” مفتاح الکرامتہ” کے اس قول پر تعجب ہوتا ہے جو انھوں نے مفتاح الکرامتہ کی کتاب التاجر ص ۲۴۵ پر اس بات کا انکار کیا ہے کہ حضرت امام حسین نے اپنی قبر مبارک کے چاروں اطراف چار چار میل زمین نہیں خریدی تھی۔
تو میں کہتا ہوں کہ انھیں آئمہ کی روایات اور علماء کے اقوال میں یہ بات کیوں نظر نہیں آئی کہ حضرت امام حسین ؑ نے یہ زمین اسی طرح خریدی تھی
جیسا کہ امیر المومنین حضرت علی ؑ کے متعلق روایات میں ملتا ہے کہ آپ نے زمینداروں سے ایک طرف خورنق سے حیرہ اور دوسری طرف سے خورنق سے کوفہ تک کی زمین چالیس ہزار درہم میں خریدی تو کسی نے آپ سے کہا کہ یہ تو بنجر زمین ہے آپ کیوں خرید رہے ہیں؟
امیر المومنین حضرت علی ؑ نے اسے جواب دیا: دو کوفہ ہیں ان میں سے پہلا دوسرے سے ملا ہوا ہے۔ قیامت کے دن یہاں سے ستر ہزار لوگ محشور ہوں گے اور بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ وہ لوگ میری زیر ملکیت زمین سے محشور ہوں۔
فرحتہ الغری، ابن طاووس، ص29 دوسرا باب
مطبوعہ حیدریہ نجف اشرف
مقتل مقرم سید عبدالرزاق المقرم ص 258
حاصل کلام
اس روایت پر شیخ بھائی سید عبداالزاق المقرم
اور عظیم شیعہ محدث سید ابن طاوس جیسی شخصیات اعتبار کرتی نظر آتی ہیں ڈھکو صاحب دنیا سے چلے گئے لیکن اپنے بعض غلط نظریات و عقائد عام کر گئے
ڈھکو صاحب کا پیج جو بھی بندہ چلا رہا ہے کتب سیر تاریخ سے جاہل نابلد ہے اگر امام ساری زمین کا وارث ہے تو نبی ﷺ بھی درجہ اتم تمام کائنات اور زمین کا مالک ہوتا ہے جب کہ صحیح روایات کی روشنی میں رسول اللہ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے زمین خریدی تھی
رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے مدینہ میں بنو نجار کے دو یتیم بچوں (سہل اور سہیل) کی زمین منتخب کی، (تقریباً 10 دینار) ادا کر کے خریدا گیا اور وقف کیا۔ یہ جگہ کھجور سکھانے کی جگہ اور قبرستان تھی
یہ روایت اہلسنت کے معتبر مصادر میں نقل ہے
تحقیق سید ساجد بخاری