سید خمینی خود کیلئے انا الحق کا استعمال کرتے تھےکیا؟

میں اپنی ذات سے خالی ہو گیا، اور میں نے ‘أنا الحق’ (میں ہی حق ہوں) کا ڈنکا بجایا، اور میں منصور الحلاج کی طرح پھانسی خریدنے والا بن
“اہم بات یہ ہے کہ یہ ان کی شبہہ (اعتراض) کا متن ہے،
اور وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روح الله الخميني اپنے آپ کو حق سمجھتے تھے، معاذ اللہ۔
اور اس کا جواب کئی پہلوؤں سے دیا جاتا
پہلا جواب یہ ہے کہ یہ اشعار کے اسلوب (ادبِ شاعری) میں سے ہے، اور روح الله الخميني نے اسے نقل کیا ہے، نہ کہ اس پر عقیدہ رکھا ہے — یہ منصور الحلاج کا شعر ہے — اور اسی لیے انہوں نے اسی کتاب میں ایک دوسرے مقام پر اسے ذکر کرکے اس کا سخت رد بھی کیا


تو سولی کے اوپر کھڑے ہو کر چیختا ہے: ‘أنا الحق’ (میں ہی حق ہوں)، اور حق ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، تو پھر تیرے ‘میں’ اور اپنی ہستی کے طلب کرنے کا کیا مطلب ہے؟
اگر تو صوفی ہے تو اس درویشی کی چادر کو پھاڑ دے، پھر اپنی ذات کی بات ڈھول اور باجے کے ساتھ کرنے کا کیا معنی ہے؟
اے دعویٰ کرنے والے صوفی! زہد کو نہ بیچ، اور اپنی عزت (آبرو) کو ضائع نہ کر
ہم نے تم سے ‘لا إله’ تو سن لیا، لیکن ‘إلا الله’ کا کیا ہوا؟
اے ان پڑھ شاعروں کی مشابہت اختیار کرنے والے! اپنا آلودہ قلم توڑ دو اور لوگوں کو اذیت دینا کم کرو، آخر تمہارا خدا سے ڈر کہاں گیا؟”
سید خمینی کا جواب
“یہاں روح الله الخميني، منصور الحلاج سے — جس نے (أنا الحق) کہا تھا — مخاطب ہو کر کہتے ہیں:
اپنی صوفیانہ چادر کو پھاڑ دو
وہ ایک ظاہری صوفی (محض دعوے دار) ہے
وہ اپنی آبرو خود ضائع کر رہا ہے
وہ اللہ کے کلام کو بگاڑتا ہے، ‘لا إله’ کہتا ہے مگر ‘إلا الله’ نہیں کہتا، اس طرح وہ ملحد و کافر شخص بن جاتا ہے
وہ شاعروں کی مشابہت اختیار کرنے والا اور جاہل ہے
سید اسے کہتے ہیں: اپنا قلم توڑ دو اور اپنی اذیت رسانی کم کرو”


روح الله الخميني اللہ تعالیٰ کو زمان و مکان سے پاک قرار دیتے ہیں، اور اگر (معاذ اللہ) اللہ اپنی مخلوق کے ساتھ متحد ہو جائے تو لازماً اس کے لیے بھی کوئی مکان لازم آئے گا، کیونکہ ہم (مخلوق) کے لیے مکان ہے۔ لہٰذا امام خمینی اس عقیدے کی نفی کرتے ہیں، جسے انہوں نے فاسد قرار دیا ہے، اور اس سے اللہ کی پناہ مانگتے
“اور یہ ایک بڑی دلیل (یا حیران کن بات) ہے:
روح الله الخميني اُن آیاتِ قرآنی کا ذکر کرتے ہیں جن سے بعض لوگ ‘وحدة الوجود’ (وجود کا اتحاد) یا یہ عقیدہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ اپنی مخلوق کے ساتھ متحد ہے، اور پھر ان کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ آیات مجازی (استعاراتی) معنی میں ہیں۔
پھر وہ فرماتے ہیں: ‘کیونکہ اگر اس کو حقیقی معنی پر لیا جائے تو یہ قرب و بعدِ حسی اور معنوی دونوں طرح کی تحدید اور تشبیہ کو لازم کرتا ہے، اور حقِ متعال (اللہ تعالیٰ) اس سے پاک و منزہ ہے’۔
لہٰذا یہ خود امام خمینی کے وہ کلمات ہیں جن میں وہ اس عقیدے کی مذمت اور رد کرتے ہیں
