Recommended articles
شبھات کا رد شیعہ علم رجال
علمِ رجال کی کوئی ضرورت نہیں، اس بنیاد پر کہ اصحابِ کتبِ اربعہ نے اپنی کتابوں کی تمام روایات کے صحیح ہونے کی تصریح کی ہے۔
January 15, 2026
0
0
شبھات کا رد شیعہ علم رجال
اہلِ بیتؑ کے حدیث کے راویوں کے بارے میں مواقف ۔ پارٹ 2
January 15, 2026
0
0
شبھات کا رد شیعہ علم رجال
اہلِ بیتؑ کے حدیث کے راویوں کے بارے میں مواقف
January 15, 2026
0
0
شبھات کا رد
خرسانی کا یہ قول ہے کہ علمِ اصول کو سب سے پہلے ابنِ ابی عقیل نے وضع کیا، پھر اس کے بعد ابنِ جنید نے ان کی پیروی کی۔
January 13, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ اور عائشہ کا ایک برتن میں غسل کرنا

January 11, 2026
0
0

روایت کے ذیل میں ایک اور لفظ بھی وارد ہوا ہے جسے شیخ طوسیؒ نے تہذیب الاحکام میں نقل کیا ہے، اور وہ یہ ہے:
“رسول اللہ ﷺ اپنے اور اپنی زوجہ کے درمیان پانچ مُدّ پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے، اور دونوں ایک ہی برتن سے اکٹھے غسل کرتے تھے۔”
اسی طرح ایک اور روایت میں ہے:
“رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے، اور جب آپ کے ساتھ آپ کی بعض ازواج ہوتیں تو ایک صاع اور ایک مُدّ پانی سے غسل فرماتے تھے۔”
(تہذیب الاحکام، ج 1، ص 137)
یہ الفاظ اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اصل میں یہ روایت اس حکم کے بیان کے لیے ہے کہ مرد اور عورت کا ایک ہی برتن سے غسل کرنا جائز ہے، اور ساتھ ہی اس موقع پر مستحب مقدارِ پانی کی تعیین کے لیے ہے، اس کے سوا کچھ نہیں۔
اور اس لفظ میں عائشہ کا نام نہیں لیا گیا، جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دوسرے لفظ میں عائشہ کا نام لینا کسی خصوصی پہلو کی بنا پر نہیں تھا، جیسا کہ وہ خود اپنی نامناسب روایات میں ظاہر کرنا چاہتی تھیں۔

ہمارے ائمۂ اطہارؑ سے منقول ایک مسلم قاعدہ یہ ہے کہ جب ان سے مروی کسی حدیث کے اصل مفہوم یا جہت میں شک ہو جائے تو اس قاعدے کی طرف رجوع کیا جائے جو عبید بن زرارہ نے امام ابو عبد اللہؑ سے روایت کیا ہے۔ امامؑ نے فرمایا:
“جو بات تم مجھ سے سنو اور وہ لوگوں (عامہ) کے قول سے مشابہ ہو، تو وہ تقیہ کے تحت ہے؛ اور جو بات تم مجھ سے سنو اور لوگوں کے قول سے مشابہ نہ ہو، تو اس میں تقیہ نہیں ہے۔”
(وسائل الشیعہ، ج 15، ص 492)
تقیہ کی صورتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ امامؑ عامہ کی منقولات اور ان کے معروف و رائج اقوال کو نقل فرمائیں؛ کیونکہ بسا اوقات امامؑ اس طرح کے بیان کو بطورِ الزام (الزاماً) ذکر فرماتے ہیں تاکہ کسی واقعی حکم کی تائید ہو جائے، اگرچہ خود وہ الزام اپنی ذات میں واقعی نہ ہو۔ ایسی صورت میں زبان تو تقیہ کی ہوتی ہے، لیکن اس کا نتیجہ ایک حقیقی حکم کی تثبیت ہوتا ہے، نہ کہ تقیہ کے طور پر اس حکم کا اظہار۔
لہٰذا اگر ہم اس حدیث کے ذیل کے مفہوم کے بارے میں شک فرض کریں—جس میں نبی اکرم ﷺ اور عائشہ (لعنہا اللہ) کے ایک ہی برتن سے غسل کرنے کا ذکر ہے—تو اسے تقیہ پر محمول کیا جا سکتا ہے، خواہ بطورِ حکایت ہو یا بطورِ الزام؛ کیونکہ یہ عامہ کے قول سے مشابہ ہے۔ اس بنا پر یہ مضمون اپنی ذات میں مردود شمار ہوگا

Add to Bookmarks

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
اعتقادات
کیا شیعہ قرآنِ مجید میں وارد ہونے والی صفاتِ خبریہ کو رد کرتے ہیں؟
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)3
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اعتقادات2
  • المناقب1

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions