کیا 12 امام کا عقیدہ شیخ کلینی و علی بن بابویہ القمی کی اختراع ہے ؟ جواب ۔۔۔
شبھۃ نمبر 1

شیخ حسین مدرسی کی کتاب سے شبھۃ پیش کیا گیا کہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
جواب ملاحظہ کرے
موصوف نے مصنف کی مکمل بات کو نقل نہیں کیا ۔محسوس ہو رہا ہے کہ اندر سے ڈرا ہوا ہے علمی میدان میں کہی پکڑ نا ہو جائے مگر کیا کرے
ایک محاورہ ہے
بکرے کی ماں کب تک خیر منائے
تو پھر ہم نے اس کے آگے پیچھے صفحات کو دیکھا اور وہ آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں
ملاحظہ کرے



ترجمہ
پس کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ابتدائی تین صدیوں کے دوران اس حدیث کو نقل کرنے یا پھیلانے میں شیعوں کا کوئی کردار تھا، یا یہ کہ انہوں نے اپنے نظریۂ حتمی (بارہ ائمہ) کی تائید کے لیے احادیث گھڑی ہوں۔
بلکہ اثنا عشری مذہب کی حقانیت پر سب سے عظیم اور مضبوط دلیل یہی ہے کہ یہ وہ دلیل ہے جسے خود شیعوں نے صدیوں تک نظر انداز کیے رکھا، بلکہ بعض اوقات اس کی مخالفت بھی کی، یہاں تک کہ وقت کے گزرنے اور مشیتِ الٰہی کے ظہور نے بالکل واضح کر دیا کہ اس حدیث میں جن کا قصد کیا گیا تھا، وہ یہی تھے۔

ترجمہ
اور یہ حقیقت تیسری صدی کے آخری زمانے تک مخفی رہی، سوائے امامت کے رازداروں کے۔
شیعہ مؤلفین میں سب سے پہلے جنہوں نے بارہ (ائمہ) کا مسئلہ پیش کیا، وہ دو عظیم محدث تھے: علی بن بابویہ قمی اور محمد بن یعقوب کلینی۔ یہ دونوں غیبتِ صغریٰ کے آخری مرحلے میں زندہ رہے اور اسی کے اواخر میں بالترتیب ۳۲۸ اور ۳۲۹ ہجری میں وفات پائی۔
علی بن بابویہ قمی اپنی کتاب «الإمامة والتبصرة» کے مقدمے میں کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنے زمانے کے بہت سے شیعوں کو دیکھا کہ وہ (امامت کی) بنیادوں کے بارے میں شک میں مبتلا ہو رہے ہیں…
حاشیہ
ـ 1) نجاشی کہتے ہیں (ص ۳۱۰): فارس بن حاتم قزوینی نے «عددِ ائمہ بحسابِ جُمَّل» کے موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی، لیکن اس کا عنوان حدیثِ اثنی عشر پر دلالت نہیں کرتا، اور میرا خیال نہیں کہ وہ اس نتیجے تک پہنچا ہو جس تک بعد میں شیعہ معاشرہ پہنچا۔
ـ2) ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہی لوگ ہیں جن کی تصانیف اور آثار ہم تک پہنچے ہیں۔

ترجمہ
(حق مذہب ہونے کے یقین کی خاطر) انہوں نے یہ کتاب تالیف کی، جس میں بعض ایسی احادیث شامل کیں جو ائمہ کی تعداد کو بالکل واضح اور متعین طور پر بیان کرتی ہیں، تاکہ شیعہ مطمئن ہو جائیں کہ ان کا مذہب ہی صراطِ مستقیم ہے۔
اسی طرح کلینی نے الکافی میں ایک مستقل باب ان روایات کے لیے قائم کیا جن میں یہ ذکر ہے کہ ائمہ بارہ ہیں، حالانکہ یہ باب اپنی مناسب جگہ پر واقع نہیں، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسے کئی برس بعد — شاید خود مؤلف ہی کی جانب سے — کتاب کے ساتھ لاحق کیا گیا ہو۔
اس کے بعد مؤلفین اور محدثین نے اس باب کی احادیث جمع کرنے میں غیر معمولی اور مسلسل کوششیں کیں، اور ان میں سے بڑی تعداد دستیاب ہو گئی، جو کئی مستقل کتب کے لیے کافی مواد بن گئی۔
ان احادیث کو جمع کرنے، ترتیب دینے اور مدوّن کرنے کے نتیجے میں شیعہ اچانک اس نتیجے تک پہنچے کہ نبی اکرم ﷺ اور سابقہ ائمہ نے نہ صرف پہلے ہی ائمہ کی تعداد متعین فرما دی تھی، بلکہ اپنے خاص اصحاب کے سامنے ایک ایک کر کے ان کے ناموں کی بھی تصریح کی تھی، یہاں تک کہ آخری امام، امام مہدیؑ تک، جو آخر میں واقع ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر طباطبائیؒ کا کلام حدیثِ اثنا عشر کے بارے میں تھا، اور اس نکتے پر تھا کہ یہ حدیث صرف ائمہؑ کے خاص اور امین اصحاب ہی کے درمیان رائج تھی، عام طور پر اس کا تداول نہیں تھا۔
اور یہ مسئلہ آثارِ معتبرہ میں صراحت کے ساتھ پہلی مرتبہ کلینی اور پہلے صدوقؒ (رحمہ اللہ تعالیٰ) کے زمانے میں پیش کیا گیا۔
اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ انہوں نے احادیث کو گڑھا