⛔ عمر کا سند چاک کرنا
⛔ عمر کا سند چاک کرنا
علامہ سبط ابن الجوزی الحنفی نے اپنی کتاب مرآة الزمان میں، بابِ دہم کے تحت جو “طلبِ میراثِ آلِ رسول اللّہ (ص)” کے بارے میں ہے اس میں نقل کیا ہے:
“حضرت علی بن الحسین (علیه السلام) نے فرمایا:
جب فاطمہؑ بنتِ رسول اللّہ ﷺ ابوبکر کے پاس آئیں، اس وقت وہ منبر پر تھے۔
فاطمہ (سلام اللّہ علیہا) نے فرمایا:
‘اے ابوبکر! کیا قرآنِ کریم میں یہ ہے کہ تمہاری بیٹی تم سے میراث پائے اور میں اپنے باپ سے میراث نہ پاؤں؟’
یہ سن کر ابوبکر رو پڑے، پھر کہا:
‘میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ……………
پھر وہ منبر سے اتر آئے اور فاطمہ سلام اللّہ علیہا کے لیے فدک کا تحریری فرمان لکھ دیا۔
اتنے میں عمر اندر آئے اور پوچھا:
یہ کیا ہے؟
ابوبکر نے کہا:
یہ وہ تحریر ہے جو میں نے فاطمہؑ کے لیے ان کے باپ کی میراث کے طور پر لکھی ہے۔
عمر نے کہا:
تو پھر مسلمانوں کے اخراجات کے لیے تم کیا خرچ کرو گے؟ جبکہ عرب تمہارے خلاف بغاوت کر چکے ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو !
پھر عمر نے وہ تحریر پکڑ کر پھاڑ دی۔
علامہ نور الدین الحلبي (علی بن برہان الدین الحلبي الشافعی) نے اپنی کتاب إنسان العیون (المعروف بالسيرة الحلبية) کے تیسرے جلد میں، اس مقام پر جہاں انہوں نے حضرت فاطمہ (سلام اللّہ علیہا) کے فدک کے معاملے کا ذکر کیا ہے، یہی روایت یوں نقل کی ہے:
“سبط ابن الجوزي کے کلام میں ہے کہ ابوبکر نے فاطمہ (سلام اللّہ علیہا) کے لیے فدک کا تحریری فرمان لکھ دیا۔
عمر اندر آئے اور کہا:
یہ کیا ہے؟
ابوبکر نے کہا:
یہ وہ تحریر ہے جو میں نے فاطمہؑ کے لیے ان کے باپ کی میراث کے طور پر لکھی ہے۔
عمر نے کہا:
پھر مسلمانوں پر خرچ کے لیے تم کیا رکھو گے جبکہ عرب تمہارے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو !
پھر عمر نے وہ تحریر پھاڑ دی۔”
(ماخذ: خلاصة الأثر ج ۳، ص ۱۲۲؛ هدية العارفين ج ۱، ص ۷۵۵؛ إيضاح المكنون ج ۲، ص ۴۹۷)
(السيرة الحلبية، جلد ٣، صفحہ ۴۸۵، طبع ۱۳۴۹ھ۔)

⚔ مومن طاق ⚔