! فدک آنحضرت [ص] کی ذاتی ملکیت تھا قسط 1
! فدک آنحضرت [ص] کی ذاتی ملکیت تھا
(وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيهِ مِنْ خَيلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَكِنَّ اللَّهَ يسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَى مَنْ يشَاءُ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيءٍ قَدِيرٌ)
اور اے مسلمانو جو مال اللہ نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے جنگ کے بغیر دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اسکے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے غالب کر دیتا ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

فدک کا رسول اللہ[ص] سے ہی مخصوص ہونے پر اہل سنت کے بہت سے علماﺀ کا اعتراف۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے بہت سے علماﺀ نے واضح طور پر اس چیز کا اعتراف کیا ہے کہ فدک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مخصوص مال تھا یہ اس عنوان سے مال فئی کا حصہ نہیں تھا کہ جس میں دوسرے مسلمانوں کا بھی حق ہو اور آپ کسی کو دیتے اور کسی کام پر اس کو خرچ کرتے تو یہ بلکل ایسا تھا جیسا آپ کا اپنا ذاتی مال ہے ۔ ایسا نہیں تھا کہ جس طرح سے حاکم اسلامی بیت المال کو اپنے صلاح دید کے مطابق خرچ اور صرف کرتے۔
جیساکہ مشہور مورخ طبری نے لکھا ہے :
«فكانت خيبر فيئا للمسلمين وكانت فدك خالصة لرسول الله لأنهم لم يجلبوا عليها بخيل ولا ركاب»
خیبر مال فئی اور مسلمانوں کا ہے لیکن فدک آپ سے مخصوص ہے کیونکہ مسلمانوں نے اس کو حاصل کرنے کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ۔

«صاحب بدایع الصنایع اس سلسلے میں لکھتا ہے
وَلِهَذَا كانت فَدَكُ خَالِصَةً لِرَسُولِ اللَّهِ إذْ كانت لم يُوجِفْ عليها الصَّحَابَةُ رضي اللَّهُ عَنْهُمْ من خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ»۔۔
«وَيَحْقِنَ دِمَاءَهُمْ وَيُخَلُّوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَمْوَالِهِمْ بَعَثُوا إلَى رسول اللَّهِ وَصَالَحُوهُ على النِّصْفِ من فَدَكَ فَصَالَحَهُمْ عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ على ذلك»..
فدک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مخصوص ہے کیونکہ اس کو حاصل کرنے کے لئے اصحاب نے نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ ۔
اہل فدک نے اپنے خون اور امول کی حفاظت کی خاطر کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاں روانہ کیا اور ان لوگوں نے فدک کے آدھے حصے کے لئے آپ سے صلح کی اور آپ نے ان کے ساتھ اسی پر صلح کر دیا۔

کتاب كتاب الأموال کے مصنف نے لکھا ہے :
وأما فدك فكانت على ما جاء فيها من الصلح فلما أخذوا قيمة بقية أرضهم خلصت كلها لرسول الله ولهذا تكلم العباس وعلى عليهما السلام فيها»

صاحب معجم البلدان نے اس سلسلے میں لکھا ہے :
فهي مما لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب فكانت خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم … وهي التي قالت فاطمة رضي الله عنها إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحلنيها»

«المختصر فی اخبار البشر» میں کہا ہے :
«وفعل ذلك أهل فدك فكانت خيبر للمسلمين، وكانت فدك خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم لأنها فتحت بغير إيجاف خيل »

یہ ان کا اعتراف آپ کے سامنے ہیں