اہلِ بیتؑ کے حدیث کے راویوں کے بارے میں مواقف
اسی دوران اہلِ بیتِ نبویؑ کی جانب سے ایسے مواقف سامنے آئے جنہوں نے عصرِ نبوی کے بعد پیدا ہونے والے رجالی شعور اور بیداری کی آگ کو مزید بھڑکایا۔ ہم اہلِ بیتؑ کے ان مواقف میں اُن سابقہ عوامل پر نہایت دقیق توجہ دیکھتے ہیں جن کی طرف ہم نے پہلے اشارہ کیا تھا۔ چنانچہ اہلِ بیتؑ نے انہی عوامل کے نتیجے میں راویوں کے حالات کی تحقیق و جانچ کی دعوت دی اور اسے آغاز کے لیے ایک بنیادی اساس قرار دیا، جس کے ذریعے اس میدان میں ایک نئے مرحلے کی تشکیل ہوئی۔
اہلِ بیتؑ کے ان مواقف کا سرسری جائزہ اس طرح لیا جا سکتا ہے:
1- مواقف کی تحریک کا آغاز:
ائمۂ اہلِ بیتؑ کے مواقف کا آغاز پہلی صدی ہجری ہی میں امیر المؤمنین علی بن ابی طالبؑ سے ہوا، جہاں آپؑ نے ایک روایت / دستاویز میں، جسے “حدیث کے راویوں کے بارے میں موقف” کہا جاتا ہے، راویوں کو واضح طور پر چار اقسام میں تقسیم فرمایا۔
الف۔ منافق راوی:
… ایسا شخص جو منافق ہو، ایمان کا اظہار کرتا ہو، اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہو، اور رسولِ خدا ﷺ پر جھوٹ باندھنے میں نہ کسی گناہ کا احساس کرتا ہو اور نہ ہی کسی قسم کی جھجک محسوس کرتا ہو — خواہ یہ جھوٹ جان بوجھ کر ہو یا بے پروائی کے ساتھ۔
علمِ رجال میں ایسے شخص کو کذاب یا وضّاع کہا جاتا ہے، لہٰذا اس کی حدیث قبول نہیں کی جاتی اور اس کی روایت رد کر دی جاتی ہے۔
یاد رہے اس تقسیم میں ہم حدیث سے استفادہ کر رہیں ہیں
وہمی (غلط فہم) راوی:
… اور ایک ایسا شخص جو رسولِ خدا ﷺ سے کوئی بات سنتا ہے مگر اسے اس کے صحیح مفہوم اور درست رخ پر محفوظ نہیں رکھتا، اس میں وہم اور غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے، جبکہ اس کا جھوٹ بولنے کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا۔
اسی قسم کے راویوں کی وجہ سے علماءِ درایہ کے سامنے یہ اہم سوالات پیدا ہوئے کہ اخبار (روایات) کس طرح نقل کی جاتی تھیں:
کیا وہ لفظ بہ لفظ (باللفظ) نقل ہوتی تھیں یا مفہوم کے ساتھ (بالمعنی)؟
چنانچہ ان کے درمیان یہ بات مشہور ہوئی کہ صحابہؓ کے دور میں اور اہلِ بیتؑ کے ائمہ کے اصحاب کے زمانے میں زیادہ تر روایت بالمعنی کی جاتی تھی، بالخصوص طویل روایات میں۔ اس زمانے میں روایات کو حرف بہ حرف نقل نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ بعد کے ادوار میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لوگ امامؑ کے پاس بیٹھ کر ان کی گفتگو کو لکھتے تھے، جسے “املا” کہا جاتا ہے۔
پھر علماء نے بالمعنی نقل کی گئی روایات کی حجیت پر بحث کی کہ آیا ان پر عمل جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے میں ان کے مختلف آراء بنیں، جنہیں انہوں نے ان کی دلیلوں کے ساتھ کتبِ حدیث اور علمِ درایہ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
اسی بنا پر ممکن ہے کہ کوئی راوی جھوٹا نہ ہو، مگر جو کچھ اس نے سنا ہو اس میں یا جسے اس نے سمجھا ہو اس میں دقت نہ ہو، پھر وہ اسے بالمعنی نقل کرے۔ کبھی وہ دو حدیثوں کو آپس میں خلط ملط کر دیتا ہے اور انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتا ہے، جس سے اس سے روایت لینے والے کے لیے الجھن پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کبھی وہ کسی ایسے قول کو نبی ﷺ کی طرف منسوب کر دیتا ہے جو درحقیقت نبی ﷺ کا نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اس حدیث کے اصل ماخذ میں خلط کر بیٹھتا ہے جس سے اس نے اسے لیا تھا۔
: یہ حدیث اور اس کی شرح ابھی بھیج رہا ہوں
مقتطع راوی (ادھوری روایت کرنے والا):
… اور ایک ایسا شخص جو رسولِ خدا ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں ایک حکم سنتا ہے کہ آپؐ نے اس کا حکم دیا، پھر بعد میں اسی چیز سے منع فرمایا، مگر یہ راوی اس بعد والی بات سے باخبر نہیں ہوتا۔ یا اس کے برعکس، وہ نبی ﷺ کو کسی کام سے منع کرتے ہوئے سنتا ہے، پھر بعد میں اسی کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے، مگر یہ اس سے لاعلم رہتا ہے۔ چنانچہ وہ منسوخ حکم کو محفوظ کر لیتا ہے اور ناسخ حکم کو محفوظ نہیں رکھتا۔
جو شخص مسلمانوں کے ہاں موجود حدیثی مجموعوں کا تتبع کرے گا، وہ اس قسم کے بعض نمونے ضرور پائے گا۔ یہ وہ راوی ہوتا ہے جو تشریع کے مراحل میں سے صرف ایک مرحلہ نقل کرتا ہے اور دوسرے مراحل کو نقل نہیں کرتا۔ اس کی مثال گھریلو گدھوں (الحمر الأهلية) کی حرمت کے مسئلے میں سامنے آتی ہے۔
چنانچہ ابنِ ابی عُمَیر نے، عمر بن اُذَینہ سے، انہوں نے محمد بن مسلم اور زرارہ سے، اور انہوں نے امام ابو جعفرؑ سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نے آپؑ سے گھریلو گدھوں کے گوشت کے کھانے کے بارے میں سوال کیا، تو آپؑ نے فرمایا:
رسولِ خدا ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا، اور یہ ممانعت اس لیے تھی کہ وہ لوگوں کے سامان اٹھانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حرام تو وہی ہے جسے اللہ عزوجل نے قرآن میں حرام قرار دیا ہے۔
اس روایت کے مطابق، جو شخص گھریلو گدھوں کے گوشت کی حرمت کو نقل کرتا ہے، وہ دراصل ایک خاص واقعے (خیبر) سے مربوط حرمت کو نقل کر رہا ہے، بغیر اس کے کہ اسے اس حرمت کے پس منظر اور تاریخی سیاق کی وضاحت کا علم ہو۔ لہٰذا یہ روایت مقتطع روایت کی ایک واضح مثال ہے، اور ممکن ہے کہ یہ دوسری قسم (وہمی راوی) کی مثال بھی شمار ہو۔
ثقہ، ضابط اور حافظ راوی:
… اور چوتھا وہ شخص ہے جس نے رسولِ خدا ﷺ پر کبھی جھوٹ نہیں بولا، بلکہ وہ اللہ کے خوف اور رسولِ خدا ﷺ کی عظمت کے باعث جھوٹ سے سخت نفرت کرتا ہے۔ اس نے جو کچھ سنا اسے بھلایا نہیں، بلکہ اسے اس کے صحیح رخ پر محفوظ رکھا، چنانچہ اس نے اسے اسی طرح نقل کیا جیسے اس نے سنا تھا، نہ اس میں کوئی اضافہ کیا اور نہ کوئی کمی کی۔ وہ ناسخ اور منسوخ کو بھی جانتا تھا۔
ایسا راوی، جو ان تمام صفات کا حامل ہو، وہی ہے جس کی خبر قبول کی جاتی ہے اور جس کے قول پر اعتماد کیا جاتا ہے۔
روى الشيخ الكليني رحمه الله في الكافي فقال: علي بن إبراهيم بن هاشم، عن أبيه، عن حماد بن عيسى، عن إبراهيم بن عمر اليماني، عن أبان بن أبي عياش، عن سليم بن قيس الهلالي، قال: قلت: لأمير المؤمنين عليه السلام: إني سمعت من سلمان والمقداد وأبي ذر شيئا من تفسير القرآن وأحاديث عن نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم غير ما في أيدي الناس، ثم سمعت منك تصديق ما سمعت منهم ورأيت في أيدي الناس أشياء كثيرة من تفسير القرآن ومن الأحاديث عن نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم أنتم تخالفونهم فيها وتزعمون أن ذلك كله باطل، أفترى الناس يكذبون على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم متعمدين، ويفسرون القرآن بآرائهم ؟ قال: فأقبل علي عليه السلام فقال: قد سألت فافهم الجواب: إن في أيدي الناس حقا وباطلا، وصدقا وكذبا، وناسخا ومنسوخا، وعاما وخاصا ومحكما ومتشابها، وحفظا ووهما، وقد كذب على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على عهده حتى قام خطيبا فقال: أيها الناس قد كثرت علي الكذابة فمن كذب علي متعمدا فليتبوء مقعده من النار، ثم كذب عليه من بعده، وإنما أتاكم الحديث من أربعة ليس لهم خامس: رجل منافق يظهر الايمان، متصنع بالاسلام لا يتأثم ولا يتحرج أن يكذب على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم متعمدا، فلو علم الناس أنه منافق كذاب، لم يقبلوا منه ولم يصدقوه، ولكنهم قالوا هذا قد صحب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ورآه وسمع منه، وأخذوا عنه، وهم لا يعرفون حاله، وقد أخبره الله عن المنافقين بما أخبره ووصفهم بما وصفهم فقال عزوجل: وإذا رأيتهم تعجبك أجسامهم وإن يقولوا تسمع لقولهم ثم بقوا بعده فتقربوا إلى أئمة الضلالة والدعاة إلى النار بالزور والكذب والبهتان فولوهم الأعمال، وحملوهم على رقاب الناس، وأكلوا بهم الدنيا، وإنما الناس مع الملوك والدنيا إلا من عصم الله، فهذا أحد الأربعة. ورجل سمع من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم شيئا لم يحمله على وجهه ووهم فيه، ولم يتعمد كذبا فهو في يده، يقول به ويعمل به ويرويه فيقول: أنا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فلو علم المسلمون أنه وهم لم يقبلوه ولو علم هو أنه وهم لرفضه. ورجل ثالث سمع من رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم شيئا أمر به ثم نهى عنه وهو لا يعلم، أو سمعه ينهى عن شئ ثم أمر به وهو لا يعلم، فحفظ منسوخه ولم يحفظ الناسخ، ولو علم أنه منسوخ لرفضه، ولو علم المسلمون إذ سمعوه منه أنه منسوخ لرفضوه. وآخر رابع لم يكذب على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، مبغض للكذب خوفا من الله وتعظيما لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، لم ينسه، بل حفظ ما سمع على وجهه فجاء به كما سمع لم يزد فيه ولم ينقص منه
………..
یہ طویل روایت ہیں
الکافی کی
جس کا حصہ آپ کے سامنے ہیں
اخباری منہج کے مطابق الکافی کی ساری احادیث صحیح ہیں
تمام