رسول اللہ (صلی علیہ وآلہ) کی نماز کے اختتام ہونے کی کیفیت ؟
پاکستان کے اہل سنت محقق حافظ زبیر علی زائی (المتوفی ۲۰۱۲ عیسوی) نے اپنے رسالہ میں نماز کے بعد اذکار کا ذکر کچھ اس طرح فرمایا ہے :
1. عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: “کُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ النَّبِیِّ ﷺ بِالتَّکْبِیرِ” یعنی ہم نبی ﷺ کی نماز ختم ہونے کا پتہ تکبیر (اللہ اکبر) سے پہچان لیتے تھے۔
ایک روایت میں ہے: “مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاَةِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ إِلَّا بِالتَّکْبِیرِ” یعنی رسول اللہ ﷺ کی نماز ختم ہونے کا ہمیں علم محض بآواز بلند (اللہ اکبر) کہنے سے ہوتا۔
حاشیہ پر انہوں نے یوں لکھا :
امام ابو داود نے اس حدیث پر : باب التکبیر بعد الصلوٰۂ ۔ کا باب باندھا ہے لہذا ثابت ہوا کہ (فرض )نماز کے بعد امام اور مقتدیوں کو اونچی آواز سے اللہ اکبر کہنا چاہیے، یہی حکم منفرد کے لئے ہے، ان رفع الصوت بالذکر میں الذکر سے مراد التکبیر ہی ہے جیسا کہ حدیث بخاری وغیرہ سے ثابت ہے،
⛔️مختصر صحیح نماز نبوی – حافظ زبیر علی زائی // صفحہ ۲۷ // طبع توحید پبلیشریز بنگلور انڈیا
الحمدللہ اس امت میں صرف شیعہ امامیہ نماز کے اختتام میں تین بار تکبیر مع رفع الیدین بلند آواز میں ادا کرتے ہیں
