کیا ٢٢ رجب کے کونڈے صرف شیعیوں میں رائج ہیں؟
برصغیر کے مسلمانوں میں طویل عرصےسے رواج چلا آرہا ہے کہ وہ ٢٢ رجب کو اہلبیتؑ کی عظیم ہستی حضرت سید امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہیں اسے عرف عام میں کونڈوں کا ختم کہا جاتا ہے اس پر ناصبی طرح طرح کے اعتراض کرتے رہے ہیں ۔۔۔
آئیے دیکھتے ہیں اس سلسلے میں اکابر اھل سنت کیا ارشاد فرماتے ہیں.
٢٢ رجب کے کونڈوں کے متعلق اکابر اہلسنت کے فرامین
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں
’’اسی طرح ماہ رجب میں بعض جگہ حضرت سید امام جعفر صادق رضی اللّہ تعالیٰ عنہ کو ایصالِ ثواب کے لیے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ بھی جائز ہیں.
📚 [ بہار شریعت – صــ ٦۴٣ – مکتبۃ المدینہ ،کراچی ]
مفتی احمد یارخان نعیمی فرماتے ہیں
“اس مہینہ کی ٢٢ تاریخ کو ہند و پاک میں کونڈے ہوتے ہیں یعنی نئے کونڈے منگائے جاتے ہیں اور پوریاں بنا کر حضرت امام جعفر صادق ع کی فاتحہ کرتے ہیں۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
’’رجب کے مہینہ میں ٢٢ تاریخ کو کونڈوں کی رسم بہت اچھی اور برکت والی ہے۔”
📚 [ اسلامی زندگی – صــ ٧۵ ، ٧٩ – مکتبۃ المدینہ ،کراچی ]
مفتی محمد وقار الدین رضوی لکھتے ہیں
اہلسنت کے نزدیک جیسے ہر فاتحہ جائز ہے اسی طرح کونڈوں کی فاتحہ بھی جائز ہے.
📚 [ وقار الفتاویٰ – صــ ٢٠١، ٢٠٢ بزم وقار الدین کراچی ]
مفتی عبد المجيد خان سعیدی رضوی لکھتے ہیں
میں ١٩٨٦ میں اپنے مرشد کریم امام اہلسنت غزالی زماں حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ علیہ کے دولت کدے پر حاضر تھا، ٢٢ رجب کو طلوع آفتاب کے بعد آپ کے گھر کونڈوں کا ختم دلایا گیا اور بندے کی معلومات کے مطابق اب بھی حضرت کے گھر ہر سال ٢٢ رجب کو کونڈے کیے جاتے ہیں۔
📚 [ کونڈوں کی شرعی حیثیت – صــ ٢٦]
امیر دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری لکھتے ہیں
رجب المرجب کی ٢٢ تاریخ کو مسلمان حضرت سیدنا امام جعفر صادق رضی اللّہ عنہ کے ایصال ثواب کے لیے کھیر پوریاں پکاتے ہیں جنہیں کونڈے شریف کہا جاتا ہے.
📚 [ کفن کی واپسی – ص ١۵ تا ١٨ مکتبۃ المدینہ کراچی ]
مفتی محمد ہاشم خان عطاری لکھتے ہیں:
مسلمان عام طور پر ٢٢ رجب کو بالخصوص حضرت امام جعفر صادق علیہ الرحمہ کے ایصال ثواب کا اہتمام کرتے ہیں یہ شرعا بالکل جائز ہے
📚 [ فتویٰ کونڈوں کی نیاز امیر معاویہ کے لیے یا حضرت امام جعفر صادق رضی اللّہ عنہ کے لیے؟ ]






