کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
اہلِ علم سے ایک سادہ سوال ہے:
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
امام ابو الحسن ماوردیؒ (معتبر شافعی فقیہ) اپنی معروف کتاب الحاوي الكبير میں صاف لکھتے ہیں:
> نبی ﷺ کی قبر کی زیارت مأمور بها اور مندوب إليها ہے۔
یعنی
👉 اس کا حکم دیا گیا ہے
👉 اور یہ مستحب و پسندیدہ عمل ہے
پھر وہ حدیث نقل کرتے ہیں:
> “من زار قبري وجبت له شفاعتي”
جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
اس کے بعد امام ماوردیؒ ایک معروف واقعہ بیان کرتے ہیں:
ایک اعرابی نبی ﷺ کے مزار پر حاضر ہوا اور عرض کیا:
“یا رسول اللہ! میں نے قرآن میں سنا کہ:
ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحيماً
(اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں اور آپ کے پاس آئیں، پھر اللہ سے استغفار کریں اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کریں، تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا پائیں گے)
میں اپنے گناہوں سے تائب ہو کر آیا ہوں
اور آپ کے وسیلے سے اپنے رب سے مغفرت مانگنے آیا ہوں۔”
پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:
یا خیر من دفنت بالقاع أعظمه
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسی الفداء لقبر أنت ساكنه
فيه العفاف وفيه الجود والكرم
ترجمہ:
اے وہ ہستی جن کے جسدِ اطہر کے دفن ہونے سے زمین معطر ہوگئی
میری جان اس قبر پر قربان جس میں آپ آرام فرما ہیں
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکیزگی، سخاوت اور کرم کا فیض ہے
—
📌 سوال اب یہ ہے:
جب امام ماوردیؒ جیسے جلیل القدر شافعی فقیہ
✔️ زیارت کو مشروع کہتے ہیں
✔️ حدیث نقل کرتے ہیں
✔️ قبر پر حاضر ہو کر استغفار و توسل کے واقعے کو بیان کرتے ہیں
تو پھر آج اسے بدعت یا شرک کہنا
کیا واقعی علمی دیانت ہے؟ یا صرف نظریاتی ردعمل؟

امام ماوردیؒ لکھتے ہیں کہ:
➡️ نبی ﷺ کی قبر کی زیارت مطلوب اور مستحب عمل ہے
➡️ اس کی ترغیب دی گئی ہے
اسی ضمن میں ایک روایت نقل کی گئی ہے:
عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“من زار قبري وجبت له شفاعتي”
جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی۔
پھر ایک معروف واقعہ بیان کیا گیا:
ایک اعرابی نبی ﷺ کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کیا:
“یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحيماً
(اگر وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں اور آپ کے پاس آئیں، پھر اللہ سے استغفار کریں اور رسول بھی ان کے لیے استغفار کریں، تو وہ اللہ کو توبہ قبول کرنے والا پائیں گے)
میں اپنے گناہوں سے تائب ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں
اور آپ کے وسیلے سے اپنے رب سے مغفرت طلب کرتا ہوں”
پھر اس نے یہ اشعار پڑھے:
یا خیر من دفنت بالقاع أعظمه
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسی الفداء لقبر أنت ساكنه
فيه العفاف وفيه الجود والكرم
ترجمہ:
اے وہ ہستی جن کے دفن ہونے سے زمین پاکیزہ ہوگئی
میری جان اس قبر پر قربان جس میں آپ آرام فرما ہیں
یہ وہ مقام ہے جہاں پاکیزگی، سخاوت اور کرم کا فیض ہے
