کیا قرآن میں تناقض ہیں؟
آیات النسیان
نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ
انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے
سورہ توبۃ آیت 67
فَالۡیَوۡمَ نَنۡسٰہُمۡ کَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ یَوۡمِہِمۡ ہٰذَا
پس آج ہم انہیں اسی طرح بھلا دیں گے جس طرح وہ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے
سورۃ اعراف آیت 51
یہ تھی پہلی دو آیتیں
وَ مَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ﴿ۚ۶۴
اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔
سورۃ مریم آیت 64
قَالَ عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ فِیۡ کِتٰبٍ ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیۡ وَ لَا یَنۡسَی ﴿۫۵۲﴾
۵۲۔ موسیٰ نے کہا: ان کا علم میرے رب کے پاس ایک کتاب میں ہے، میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔
سورۃ طہ 52
یہ آخری دو آیتیں
شبھہ
پہلی دو آیتیں دلالت کر رہی ہیں اللہ نسیان ہوتا ہے
دوسری دو آیتوں میں ہیں کہ اللہ کو نسیان نہیں ہوتا
جواب
ان آیات میں تناقض نہیں ہیں
کیونکہ کلمۃ نسیان کے متعدد معانی ہیں
1) ترک الشیء عن قصد و عمد
کسی چیز کو جان بوجھ کر ترک کرنا
2) ترک الشیء عن غفلہ و ذھول
کسی چیز کو غفلت کی وجہ سے ترک کرنا
اللہ کیلئے نسیان کا کلمہ دوسرے معنی میں نہیں بلکہ پہلے معنی معنی میں ہیں کہ وہ جان بوجھ کر بھلا دے گا اور نسیان بمعنی غفلت اس کیلئے ممکن نہیں ہیں
پس ہم پہلی آیت کو مکمل نقل کرے گے تو مزید واضح ہوجائے گا
اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡکَرِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَقۡبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمۡ ؕ نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ ؕ
اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ﴿۶۷﴾
۶۷۔ منافق مرد اور عورتیں آپس میں ایک ہی ہیں، وہ برے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں اور نیکی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ روکے رکھتے ہیں، انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا ہے، بے شک منافقین ہی فاسق ہیں۔
نَسُوا اللّٰہَ: انہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ اللہ کی اطاعت ترک کر دی۔
فَنَسِیَہُمۡ تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ اللہ کو بھول لاحق نہیں ہوتی۔
روایات کے مطابق بھلانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے بھی انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جو سب سے بڑی سزا ہے۔
پروردگار ان کو آخرت میں بھلادے گا ان کیلئے کسی قسم کا ثواب نہیں
اور آسان الفاظ میں
انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا اللہ ان کو چھوڑ دے گا
اور علی بن ابی طالب (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں روایت ہے: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ﴾
آپؑ نے فرمایا:
انہوں نے دنیا کی زندگی میں اللہ کو بھلا دیا، یعنی اس کی اطاعت کے لیے عمل نہ کیا اور نہ ہی اس پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے؛
پس اللہ نے بھی آخرت میں انہیں بھلا دیا، یعنی انہیں اپنے ثواب میں کوئی حصہ نہ دیا، چنانچہ وہ خیر سے محروم اور بھلائے ہوئے ہو گئے۔
اور محمد الباقر (علیہ السلام) سے روایت ہے:
﴿نَسُوا اللَّهَ﴾ یعنی انہوں نے اللہ کی اطاعت کو ترک کر دیا،
﴿فَنَسِيَهُمْ﴾ یعنی اللہ نے بھی انہیں (اپنی رحمت اور ثواب سے) چھوڑ دیا۔
تفسیر عیاشی
عبد العزیز بن مسلم کہتے ہیں: میں نے علی بن موسی الرضا (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ﴾
تو آپؑ نے فرمایا:
بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نہ بھولتا ہے اور نہ ہی اسے سہو (غفلت) لاحق ہوتا ہے، بلکہ بھولنا اور غفلت تو مخلوقِ حادث کو ہوتی ہے۔ کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ (اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے)۔
بلکہ اللہ اس شخص کو جزا دیتا ہے جو اسے بھلا دیتا ہے اور اپنے اس دن (قیامت) کی ملاقات کو فراموش کر دیتا ہے، تو اللہ انہیں اس طرح خود ان کے نفسوں سے غافل کر دیتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾
(اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود ان کے نفسوں سے غافل کر دیا، یہی لوگ فاسق ہیں۔)
اور اس کا یہ فرمان:
﴿فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَذَا﴾
(پس آج ہم انہیں بھلا دیں گے جیسے انہوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا)
یعنی ہم انہیں (اپنی رحمت اور لطف سے) چھوڑ دیں گے، جیسے انہوں نے اس دن کی ملاقات کے لیے تیاری کرنا چھوڑ دیا تھا۔
عیون أخبار الرضا
پس دوسری آیتیوں میں جہاں نفی کی گئی ہیں وہاں معنی
ترک الشیء عن ذھول و غفلۃ
یعنی اللہ غافل نہیں ہیں
پس ان میں تناقض ہی نہیں ہیں