کیا تبرک کی نیت سے مقدس مقامات یا صالحین کے آثار کو چومنا جائز ہے؟

📚 عمدة القاري شرح صحيح البخاري
✍️ بدر الدين العيني
وأما تقبيل الأماكن الشريفة على قصد التبرك، وكذلك تقبيل أيدي الصالحين وأرجلهم، فهو حسن محمود باعتبار القصد والنية
وقد سأل أبو هريرة الحسن رضي الله تعالى عنه أن يكشف له المكان الذي قبله رسول الله ﷺ وهو سرته، فقبله تبركًا بآثاره وذريته
📖 ترجمہ
مقدس مقامات کو تبرک کی نیت سے چومنا، اور اسی طرح صالحین کے ہاتھوں اور قدموں کو چومنا نیت اور مقصد کے اعتبار سے ایک اچھا اور پسندیدہ عمل ہے۔
اور حضرت ابو ہریرہؓ نے امام حسنؓ سے وہ مقام دکھانے کو کہا جسے رسول اللہ ﷺ نے بوسہ دیا تھا، پھر اسے رسول اللہ ﷺ کے آثار سے تبرک حاصل کرنے کے لیے بوسہ دیا۔
اگر ہر قسم کا بوسہ یا لمس شرک یا بدعت ہوتا،
تو:
➡️ مقدس مقامات کو چومنے کو “حسن محمود” کیوں کہا جاتا؟
➡️ صالحین کے ہاتھ اور قدم چومنے کو نیت کے ساتھ جائز کیوں مانا جاتا؟
➡️ اور ایک صحابی کا عمل بطور مثال کیوں ذکر کیا جاتا؟