(کیا امام صادقؑ حضرت آدمؑ کے کفر کے قائل تھے؟!)

(کیا امام صادقؑ حضرت آدمؑ کے کفر کے قائل تھے؟!)
شیعہ اس بات کے عقیدہ رکھتے ہیں کہ انبیائے الٰہی اللہ تعالیٰ کی جانب سے معصوم (گناہ اور خطا سے محفوظ) ہوتے ہیں۔ البتہ بعض اوقات بعض انبیائے الٰہی سے ترکِ اَولیٰ (افضل کام کو ترک کرنا) سرزد ہوا ہے۔
وهابی حضرات اصولِ کافی کی ایک روایت کو بنیاد بنا کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام صادقؑ نے نعوذباللہ حضرت آدمؑ کے بارے میں کفر کا اعتقاد رکھا تھا۔ لیکن جب ہم قرآن کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں حضرت آدمؑ سے جو “کفر” منسوب ہوا ہے، اس سے مراد کفرانِ نعمت (اللہ کی نعمت کی ناقدری) ہے، نہ کہ اعتقادی یا ایمانی کفر۔
آیا امام صادقؑ اعتقاد به کفر حضرت آدمؑ داشتند؟!
(کیا امام صادقؑ حضرت آدمؑ کے کفر کے اعتقاد رکھتے تھے؟!)
پایگاه جامع فرق، ادیان و مذاهب (فرقوں، ادیان اور مذاہب کا جامع مرکز) کے مطابق، وهابی مفتیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی ایک شبہہ یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیعہ علماء حضرت آدمؑ کے لیے کفر کے قائل ہیں۔
وہ کتابِ کافی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ شیعہ حضرت آدمؑ کے کفر پر ایمان رکھتے ہیں۔
مرحوم کلینیؒ لکھتے ہیں:
> «امام صادق (عليهالسلام) میفرمایند: ریشههای كفر در سه چیز ہیں؛ حرص، تكبّر اور حسد۔
لیکن حرص (یعنی لالچ) حضرت آدمؑ کے قصے میں ہے، جب انہیں اس درخت سے کھانے سے منع کیا گیا اور حرص (لالچ) نے انہیں اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اس سے کھائیں۔
اور تکبّر (گھمنڈ) شیطان کے قصے میں ہے، جب اسے آدمؑ کے آگے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اس نے نافرمانی کی۔
اور حسد (جَلن) آدمؑ کے دو بیٹوں (ہابیل و قابیل) کے قصے میں ہے، جب ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا۔»[1]
اس روایت میں لفظ کفر اپنے عمومی لغوی معنی “ڈھانپ دینے، چھپا دینے” سے متعلق ہے، جو کہ کفرانِ نعمت کے معنی میں آتا ہے، نہ کہ ایمان کے منکر ہونے کے معنی میں۔
باطل دعویٰ کرنے والے وهابی مفتیوں کے جواب میں چند نکات بیان کیے جاتے ہیں۔
نکتہ اول:
اگر وهابی حضرات شیعہ کی روائی کتب پر اعتراض کرتے ہیں، تو انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بڑے بڑے محدثین بھی حضرت آدمؑ کے لیے کفر کے قائل رہے ہیں، اور ان کی معتبر روائی کتب میں حضرت آدم اور حضرت حوّا (علیہما السلام) کے کفر اور شرک کی روایات نقل ہوئی ہیں۔
محمد بن عبدالوهاب اپنی کتاب میں لکھتا ہے:
حواء از حضرت آدم (علیهالسلام) باردار شد…
“حضرت حوّا علیہا السلام حضرت آدم علیہ السلام کے حمل سے حاملہ ہوئیں۔
شیطان نے انہیں یہ مشورہ دیا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا بچہ میرے ہاتھوں ‘دو سینگوں والا’ نہ ہو تو اس کا نام عبدالحارث رکھو۔
حضرت آدم اور حضرت حوّا (علیہما السلام) نے اس بات کی مخالفت کی اور حضرت حوّا کے دو حمل ایسے ہوئے کہ دونوں بچے مُردہ پیدا ہوئے۔
تیسری بار، آدم و حوّا نے شیطان کے مشورے کے مطابق اپنے بچے کا نام عبدالحارث رکھا۔
اس واقعے کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی:
فَلَمَّا آتَاهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهُ شُرَكَاءَ فِيمَا آتَاهُمَا
(ترجمہ: “پس جب اللہ نے ان دونوں کو ایک صالح (تندرست) بچہ عطا کیا تو دونوں مشرک ہو گئے اور اس بچے کے بارے میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے لگے۔”)
[اعراف/190]
یہ وہ آیت ہے جسے محمد بن عبدالوہاب اس واقعے پر چسپاں کرتا ہے۔»[2]
اہل سنت کے علماء اس روایت کو صحیح (درست) قرار دیتے ہیں۔
نکتہ دوم:
شیعیان اس بات کے قائل ہیں کہ انبیائے الٰہی معصوم ہوتے ہیں، اور ان کی افعال میں گناہ اور نافرمانی کا سرے سے کوئی دخل نہیں۔
عصمت کے مقابل عصیان (نافرمانی) اور گناہ کا تصور ہے۔
اہلِ لغت کے علماء نے عصیان کی تعریف یوں کی ہے:
«عصیان» بمعنی:
“اللہ کے حکم سے ہر طرح کا باہر نکل جانا، یعنی احکامِ الٰہی کی مخالفت کرنا،
اور عصیان کا مطلب ہے اللہ کے اوامر (احکامات) سے انکار کرنا۔”[3]
جو چیز واضح ہے وہ یہ ہے کہ حضرت آدمؑ نے اللہ تعالیٰ کے نہی ارشادی (تنبیہی/مشورہ نما منع) کو ترک کرکے حرص (لالچ) کا ارتکاب کیا۔[4]
درحقیقت قرآن اور روایتِ اصول کافی میں جس درخت کے پھل سے پرہیز کا حکم آیا تھا، وہ حکم نہی ارشادی تھا، اور پروردگار کا مقصد یہ تھا کہ:
اگر حضرت آدمؑ اس درخت کے پھل کھائیں گے تو
اس کے برے نتائج اُن کے سامنے آئیں گے۔[5]
اسی لیے جب یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حکم نہی ارشادی تھا، تو اصول کافی کی روایت میں جو “کفر” حرص کے سبب بیان ہوا ہے، اس کا مطلب کفر اعتقادی نہیں بلکہ:
خداوندِ رحمان کی نصیحت کو نظر انداز کرنا
اور پروردگارِ عالم کی خیرخواہی کی ہدایت کو ترک کرنا
مراد ہے۔
نکتہ سوم:
کفر کے بارے میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ کفر کے عللِ تامّہ (مکمل / قطعی سبب) اور عللِ ناقصہ (ناقص / ابتدائی سبب) دونوں پائے جاتے ہیں۔
اہل بیت علیہمالسلام سے منقول روایات میں بھی کفر کی مختلف اقسام بیان ہوئی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ حرص، حسد اور تکبّر کفر کے عللِ ناقصہ میں شمار ہوتے ہیں۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ:
کفر کا تحقق اقتضائی صورت میں ہے، یعنی یہ صفات , حرص، حسد، تکبر , کفر کے پیدا ہونے کے لیے زمینہ فراہم کرتی ہیں مگر ان کا وجود علتِ تامّہ نہیں
یعنی صرف انہی صفات کے ہوتے ہوئے لازمی طور پر کفر واقع نہیں ہوتا۔
بلکہ اگر یہ صفات دوسری بُری عوامل کے ساتھ جمع ہو جائیں تو انجامِ کار کفر تک جا پہنچتی ہیں؛
لیکن اگر کوئی دوسرا عامل شامل نہ ہو تو یہ صفات اپنی اقتضائی حالت میں باقی رہتی ہیں۔
ان کی مثال ایسے ہے:
جیسے راکھ کے نیچے دبی ہوئی آگ جو بظاہر چھپی ہوتی ہے لیکن ایک چنگاری سے فوراً بھڑک اٹھنے کے لیے تیار رہتی ہے۔
روایت میں بیان ہونے والے کفر کی اقسام میں سے ایک قسم، جس کا اشارہ ہوا ہے اور جس سے امام صادق علیہالسلام کی مراد بھی یہی ہے، وہ کفر بمعنی کفرانِ نعمت (الٰہی نعمتوں کی ناشکری) ہے۔
قرآنِ کریم اس بارے میں فرماتا ہے:
«وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ»
[ابراهیم/7]
(ترجمہ: “اور جب تمہارے پروردگار نے اعلان کیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور تمہیں مزید عطا کروں گا، اور اگر تم کفر کرو گے—یعنی نعمتوں کی ناشکری کرو گے—تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔”)
علامہ مجلسی اس روایت کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
«یکی از اقسام کفر، کفران نعمات الهی است…»
“کفر کی ایک قسم، اللہ کی نعمتوں کی ناشکری ہے۔
حرص (لالچ) کبھی ترکِ اولیٰ کا باعث بنتی ہے،
کبھی چھوٹے گناہ (گناہِ صغیرہ) کا سبب بنتی ہے،
کبھی بڑے گناہ (گناہِ کبیرہ) تک لے جاتی ہے،
اور حتیٰ کہ جحود (حق کا انکار) اور شرک تک پہنچا دیتی ہے۔”
[6]
حوالہ جات:
[1] کلینی، الکافی، دارالکتب الإسلامیة، تہران، چہارم ایڈیشن، 1407ھ، جلد 2، صفحہ 289:
«قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع أُصُولُ الْكُفْرِ ثَلَاثَةٌ الْحِرْصُ … حَيْثُ قَتَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ.»
(ترجمہ: “امام صادقؑ نے فرمایا: کفر کی بنیادیں تین ہیں: حرص… جیسا کہ آدم کے دو بیٹوں کے واقعے میں — جہاں ایک نے دوسرے کو قتل کر دیا۔”)
[2]محمد بن عبدالوهاب، کتاب التوحید، ریاض، پہلی چاپ، جلد 1، صفحہ 122:
«وعن ابن عباس في الآية : … وله بسند صحيح عن قتادة.»
(ترجمہ: “ابن عباس سے اس آیت کے بارے میں روایت ہے … اور قتادہ سے اس کی صحیح سند بھی نقل کی گئی ہے۔”)
[3] مجمع اللغة العربية بالقاهرة، المعجم الوسیط، دارالدعوة، جلد 2، صفحہ 606:
«عصاه معصیة … الامتناع عن انقیاد.»
(ترجمہ: “عصیان کا مطلب ہے: حکم کی نافرمانی کرنا… یعنی فرمانبرداری سے انکار۔”)
[4] جعفر سبحانی، منشور جاوید، مؤسسہ امام صادقؑ، جلد 4، صفحہ 109:
(نہی ارشادی کی تعریف)
«… در این صورت امر و نهى وى بر محور ارشاد و هدایت دور میزند.»
(ترجمہ: “ایسی صورت میں امر و نہی کا مقصد محض رہنمائی اور خیرخواہی ہوتا ہے۔”)
[5] تلخیص و برداشت: جعفر سبحانی، تفسیر صحیح آیات مشکله، مؤسسہ امام صادقؑ، پانچواں ایڈیشن، 1391، صفحہ 118:
«… حتى ينتهي إلى جحود يوجب الشرك والخلود.»
(ترجمہ: “یہ (حرص) آخرکار ایسی جحود تک لے جا سکتا ہے جو شرک اور دائمی عذاب کا باعث بنے۔”)
[6]علامہ مجلسی، مرآة العقول، دارالکتب الإسلامیة، جلد 10، صفحہ 74:
«ومنها ما يكون بكفران نعم الله… الشرك والخلود…»
(ترجمہ: “کفر کی بعض اقسام اللہ کی نعمتوں کی ناشکری سے شروع ہوتی ہیں … اور پھر شرک اور دائمی عذاب تک جا پہنچتی ہیں۔”)