کیا آیت “وسأل من أرسلنا” انبیاء کے سماع پر دلیل ہے؟ تفسیر قرطبی کی وضاحت


کتاب: الجامع لأحكام القرآن (تفسير القرطبي)
مصنف: الإمام أبو عبد الله محمد بن أحمد الأنصاري القرطبي رحمه الله
اللہ نے میری طرف وحی کی کہ
میں تم سے پوچھوں:
کیا تم میں سے کسی کو اللہ کے علاوہ کسی اور کی عبادت کی دعوت دے کر بھیجا گیا تھا؟
انہوں نے کہا:
اے محمد ﷺ، ہم سب گواہی دیتے ہیں کہ
ہم سب کو ایک ہی دعوت کے ساتھ بھیجا گیا تھا
کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں،
اور جو کچھ اللہ کے علاوہ پوجا جاتا ہے وہ باطل ہے،
اور آپ خاتم النبیین اور سید المرسلین ہیں،
اور یہ بات ہمیں آپ کے نام اور امانت داری سے واضح ہو چکی ہے،
اور قیامت تک آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا
سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے،
وہ بھی آپ کی شریعت کی پیروی کریں گے۔
اور کہا گیا:
جس رات آپ کو معراج کرائی گئی
آپ انبیاء سے ملے
اور آدم علیہ السلام اور جہنم کے داروغہ مالک سے بھی ملے۔
آیت کا ترجمہ:
اور ان رسولوں سے پوچھ لیجیے جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا
کیا ہم نے رحمٰن کے سوا ایسے معبود بنائے تھے جن کی عبادت کی جائے؟