Recommended articles
شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
February 27, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
شبھات کا رد علوم قرآن

نبی ﷺ کی زیارت کے لیے سفر کے جائز ہونے پر دلائل

February 27, 2026
0
0

📚 الجوهر المنظم في زيارة القبر الشريف النبوي المكرم
✍️ الإمام أحمد بن حجر الهيتمي

امام ابن حجر ہیتمی اس کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی طرف رجوع اور زیارت کا مفہوم صرف زمانۂ حیات تک محدود نہیں بلکہ بعدِ وفات بھی اس میں شامل سمجھا گیا۔
اسی لیے علماء نے قبرِ رسول ﷺ پر آ کر استغفار کرنا مستحب قرار دیا اور اسے زیارت کے آداب میں شمار کیا۔
مزید یہ کہ آیت کے الفاظ سے یہ بھی سمجھا گیا کہ نبی ﷺ کی طرف آنا دور سے ہو یا قریب سے، سفر کے ساتھ ہو یا بغیر سفر کے سب اس کے دائرے میں داخل ہے۔

في الحياة وبعد الممات، ولذلك فهم العلماء منها العموم للحالتين
واستحبوا لمن أتى قبره ﷺ أن يقرأها مستغفراً الله تعالى كما يأتي ذلك في حكاية العتبي
التي ذكرها المصنفون في المناسك من جميع المذاهب والمؤرخون
وكلهم استحبوها للزائر ورأوها من آدابه التي يسن له فعلها
ويستفاد من وقوع “جاؤوك” في حيز الشرط الدال على العموم
أن الآية الكريمة طالبة للمجيء إليه من بعد ومن قرب بسفر وبغير سفر
📖 ترجمہ
علماء نے اس آیت کے مفہوم کو نبی ﷺ کی حیات اور بعدِ وفات دونوں حالتوں پر عام سمجھا۔
اسی بنیاد پر انہوں نے قبرِ رسول ﷺ پر آنے والے کے لیے استغفار پڑھنا مستحب قرار دیا، جیسا کہ عتبی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ مختلف مذاہب کے مصنفین اور مؤرخین نے اپنی مناسک کی کتابوں میں ذکر کیا ہے۔
اور سب نے اسے زائر کے لیے مستحب اور زیارت کے آداب میں شمار کیا ہے۔
اسی طرح “جاؤوک” کے لفظ سے یہ عموم سمجھا گیا کہ آنا:
دور سے ہو یا قریب سے
سفر کے ساتھ ہو یا بغیر سفر کے
سب اس میں شامل ہیں

سوال
اگر نبی ﷺ کی طرف رجوع:
صرف حیات تک محدود ہوتا
تو:
➡️ علماء اسے بعدِ وفات عام کیوں سمجھتے؟
➡️ قبر پر آ کر استغفار کو مستحب کیوں کہتے؟
➡️ اور آنا سفر کے ساتھ یا بغیر دونوں کو کیوں شامل کرتے؟

سبل الهدى والرشاد میں زیارتِ قبرِ رسول ﷺ کے لیے سفر پر اجماع کا ذکر
📘 حوالہ
📚 سبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد
✍️ الإمام محمد بن يوسف الصالحي الشامي
والآية دالة على الحث على المجئ إلى الرسول ﷺ والاستغفار عنده
وهذه رتبته لا تنقطع بموته
فهموا من الآية العموم بحالي الموت والحياة
واستحبوا لمن أتى القبر الشريف أن يتلوها ويستغفر الله تعالى
وقد رفع الإجماع على ذلك لإطباق السلف والخلف
📖 ترجمہ
یہ آیت نبی ﷺ کی طرف آنے اور آپ کے پاس استغفار کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
اور یہ مقام آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی منقطع نہیں ہوتا۔
اسی لیے علماء نے اس مفہوم کو زندگی اور وفات دونوں حالتوں پر عام سمجھا۔
اسی بنیاد پر قبرِ شریف پر آنے والے کے لیے اس آیت کو پڑھنا اور استغفار کرنا مستحب قرار دیا۔
اور اس پر سلف و خلف کے اتفاق سے اجماع نقل کیا گیا ہے۔
اگر:
نبی ﷺ کی طرف رجوع وفات کے بعد ختم ہو جاتا
تو:
➡️ علماء اس آیت کو موت اور حیات دونوں پر عام کیوں سمجھتے؟
➡️ قبرِ شریف پر آ کر استغفار کو مستحب کیوں کہتے؟
➡️ اور سب سے اہم
➡️ اس پر سلف و خلف کے اجماع کا ذکر کیوں کرتے؟
سوال یہی ہے:
کیا زیارت ایک محض تاریخی عمل ہے؟
یا ایسا عمل جسے امت نے بطور عبادتِ قربت تسلیم کیا؟

زیارتِ قبرِ رسول ﷺ مستحب یا غیر ضروری؟

📘 حوالہ

📚 نهاية الزين في إرشاد المبتدئين
✍️ الشيخ محمد بن عمر نووي الجاوي

—

🧾 اصل عبارت

> خاتمة: يستحب استحبابًا مؤكداً زيارة رسول الله ﷺ فإنها من أعظم القربات وأنجح المساعي

—

📖 ترجمہ

رسول اللہ ﷺ کی زیارت مؤکد طور پر مستحب ہے
اور یہ عظیم ترین قربتوں میں سے اور کامیاب ترین اعمال میں سے ہے۔

—

⚖️ بحث کا نکتہ

اگر زیارتِ قبرِ رسول ﷺ:

❌ غیر ضروری ہوتی
❌ یا بدعت سمجھی جاتی

تو:

➡️ اسے “مؤکد مستحب” کیوں کہا جاتا؟

➡️ اور “اعظم القربات” میں کیوں شمار کیا جاتا؟

—

سوال یہی ہے:

کیا زیارت صرف ایک اختیاری عمل ہے؟

یا ایک ایسا عمل جسے علماء نے قربتِ الٰہی کے عظیم اسباب میں شمار کیا؟

الثعلبي کی تفسیر میں قبرِ نبوی ﷺ پر آ کر استغفار کا واقعہ

حضرت علیؑ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تدفین کے تین دن بعد ایک اعرابی آیا، قبر پر گرا، مٹی اپنے سر پر ڈالی اور عرض کیا:
یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا اور ہم نے سنا، آپ نے اللہ سے لیا اور ہم نے آپ سے لیا۔
اور اللہ نے آپ پر یہ آیت نازل کی:
“اگر وہ لوگ جب اپنے اوپر ظلم کریں تو آپ کے پاس آئیں…”
میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے، اس لیے آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ آپ میرے لیے استغفار کریں۔
پھر قبر سے آواز آئی:
تمہیں بخش دیا گیا۔

 

توثيق الثعلبي

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)7
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions