اہلِ بیتؑ کے حدیث کے راویوں کے بارے میں مواقف ۔ پارٹ 2
بعد ازاں، خصوصاً دوسری صدی ہجری میں، اہلِ بیتؑ کے مواقف زیادہ واضح اور زیادہ تفصیلی ہو گئے، جن میں حدیث کے راویوں کے کردار کو کھل کر بیان کیا گیا اور اخبار (روایات) کے ساتھ معاملہ کرتے وقت اور انہیں قبول کرنے کے سلسلے میں راویوں کے بارے میں سوال اٹھایا گیا۔
اسی دور میں بڑی تعداد میں ایسی روایات صادر ہوئیں جن میں جھوٹے راویوں کے خلاف سخت موقف اختیار کیا گیا، ان کے جھوٹ سے خبردار کیا گیا، بلکہ بہت سے راویوں کو نام لے کر متعین بھی کیا گیا۔ مزید برآں، راویوں کے مراتب اور درجات کی تفصیل بیان کی گئی تاکہ ان کی روایات کے درمیان ترجیح دی جا سکے۔
ان مواقف نے ایک زرخیز رجالی ذہنیت فراہم کی جس کے نتیجے میں اس نوع کے علم (علمِ رجال) کے ارتقا کی بنیاد پڑی۔ یہاں ہم صرف اُن نصوص کا ذکر کریں گے جن میں امامؑ نے باہم متعارض روایات کے درمیان ترجیح کے معیارات بیان فرمائے ہیں، جب ان میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو۔ ان میں نمایاں روایات درج ذیل ہیں:
الف۔ مقبولۂ عمر بن حنظلہ
عمر بن حنظلہ کہتے ہیں: میں نے امام جعفر صادقؑ سے اپنے اصحاب میں سے دو اشخاص کے بارے میں سوال کیا جن کے درمیان قرض یا میراث کے معاملے میں نزاع تھا، اور وہ فیصلہ کروانے کے لیے (حاکم کے پاس) گئے…
یہاں تک کہ امامؑ نے فرمایا:
اگر دونوں میں سے ہر ایک نے ہمارے اصحاب میں سے کسی ایک شخص کو منتخب کیا اور دونوں اس پر راضی ہو گئے کہ وہ ان کے حق میں فیصلہ کرے، لیکن ان دونوں فیصلے کرنے والوں کے فیصلے مختلف نکلیں، اور دونوں نے تمہاری حدیثوں سے استدلال کیا ہو، تو کیا کیا جائے؟
امامؑ نے فرمایا:
جس کا فیصلہ لیا جائے گا وہی معتبر ہے جو ان دونوں میں زیادہ عادل، زیادہ فقیہ، حدیث میں زیادہ سچا اور زیادہ پرہیزگار ہو، اور دوسرے کے فیصلے کی طرف توجہ نہ دی جائے۔
ب۔ مرفوعۂ زرارہ بن اعین
زرارہ بن اعین کہتے ہیں: میں نے امام محمد باقرؑ سے عرض کیا: میری جان آپ پر قربان ہو، آپ کی طرف سے دو ایسی خبریں یا حدیثیں آتی ہیں جو آپس میں متعارض ہوتی ہیں، تو میں کس پر عمل کروں؟
امامؑ نے فرمایا:
اے زرارہ! جو روایت تمہارے اصحاب کے درمیان مشہور ہو اسے اختیار کرو، اور شاذ و نادر روایت کو چھوڑ دو۔
میں نے عرض کیا: میرے آقا! دونوں ہی روایتیں مشہور، منقول اور آپ ہی سے مروی ہیں۔
تو امامؑ نے فرمایا:
پھر اس روایت کو اختیار کرو جس کے راوی کو تم اپنے نزدیک زیادہ عادل اور زیادہ قابلِ اعتماد سمجھتے ہو
صرف متن ہیں ثقہ کو بھی دیکھنا
بلکہ صرف ثقہ بھی نہیں
ان میں جو أوثق ہو گا اس کو
اعدل افقہ اورع ہوگا
چنانچہ ان دونوں روایات میں امام محمد باقرؑ اور امام جعفر صادقؑ نے وہ بنیادی اصول واضح فرمائے ہیں جن کی بنیاد پر باہم متعارض روایات کے درمیان ترجیح دی جاتی ہے۔ ان اصولوں میں ایک اہم معیار راویوں کی توثیق، ان پر جرح و تعدیل، اور ان کی وثاقت کے درجات ہیں۔
یہ بات بالکل فطری اور منطقی ہے کہ اہلِ بیتؑ کے اس قسم کے مواقف نے رجالی شعور کی تشکیل میں گہرا اثر ڈالا، کیونکہ ان کے ذریعے حدیث کے راویوں کا تنقیدی جائزہ لیا گیا، ان کے درمیان امتیاز قائم کیا گیا، اور روایت نقل کرنے میں ان کی دقت اور اعتماد کے مختلف مراتب متعین کیے گئے۔
راویوں کی جانچ میں مواقف کی انتہا
راویوں کی تقویم کے حوالے سے اہلِ بیتؑ کے مواقف اپنے عروج کو پہنچ گئے۔ پہلے اہلِ بیتؑ کے مواقف ایک کلی نوعیت کے تھے، جن میں حدیث کے راویوں کی جانچ کے لیے عمومی ضوابط بیان کیے جاتے تھے، لیکن اب وہ خود راویوں کی براہِ راست جانچ کرنے لگے، بعض کی مدح اور بعض کی جرح کے ذریعے۔ اس طرزِ عمل نے اُس رجالی شعور کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں جو پہلے بیان کیے گئے عوامل کے نتیجے میں تشکیل پا چکا تھا۔
چنانچہ اہلِ بیتؑ کے بعض ائمہ نے بعض راویوں کی وثاقت کے بارے میں اپنی واضح رائے کا اظہار فرمایا۔ مثال کے طور پر امام محمد باقرؑ نے ابان بن تغلب کی مدح فرماتے ہوئے ان سے کہا:
“مدینہ کی مسجد میں بیٹھو اور لوگوں کو فتویٰ دو، کیونکہ مجھے پسند ہے کہ میری شیعت میں تم جیسے افراد نظر آئیں۔”
اسی طرح فضل بن شاذان نے یونس بن عبدالرحمن کی فضیلت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا: عبدالعزیز بن مہتدی نے مجھ سے روایت کی — اور وہ قم میں سب سے بہتر شخص تھے جنہیں میں نے دیکھا، اور امام رضاؑ کے وکیل اور خاص اصحاب میں سے تھے — کہ انہوں نے کہا: میں نے امامؑ سے عرض کیا: میں ہر وقت آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکتا، تو میں اپنے دین کے معالم کس سے حاصل کروں؟
امامؑ نے فرمایا:
“یونس بن عبدالرحمن سے حاصل کرو۔”
اور اس قسم کی روایات بہت زیادہ ہیں۔
اسی طرح اہلِ بیتؑ نے بعض دوسرے افراد کی صراحت کے ساتھ تضعیف بھی کی، جیسے مغیرہ بن سعید، جس کے بارے میں امام جعفر صادقؑ نے فرمایا:
“… بے شک مغیرہ بن سعید — خدا اس پر لعنت کرے — نے میرے والد کے اصحاب کی کتابوں میں ایسی احادیث داخل کر دی تھیں جو میرے والد نے بیان نہیں کی تھیں …”
اور ابو الخطاب، جس کے بارے میں امام رضاؑ سے منقول ہے:
“… ابو الخطاب نے میرے والد ابو عبد اللہؑ پر جھوٹ باندھا، خدا ابو الخطاب پر لعنت کرے، اور ابو الخطاب کے ساتھیوں پر بھی، جو آج تک ان احادیث کو (کتابوں میں) داخل کرتے چلے آ رہے ہیں …”
اور اس کے علاوہ بھی اہلِ بیتؑ سے راویوں کی انفرادی اور اجتماعی تقویم کے بارے میں بہت سی روایات منقول ہیں۔
پس یہ چار عوامل — یعنی: نبیؐ اور ائمہؑ پر جھوٹ گھڑنے کے ظہور کا آغاز، ولید بن عقبہ کا واقعہ اور سند کی تنقید میں عقلی بنیادیں، اور اہلِ بیتؑ کے متنوع مواقف — ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ انہوں نے پہلی اور دوسری صدی ہجری میں رجالی شعور کی تشکیل کے ذریعے علمِ رجال کے ابتدائی (جنینی) مرحلے کے آغاز کے لیے اولین بیج فراہم کیے۔
ان عوامل نے راویوں اور ان کے حالات کے بارے میں سوال اٹھانے کے عمل کو شدت بخشی، اور یہی مرحلہ بعد میں اس علم کی اساس بنا جو آج علمِ جرح و تعدیل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اُن تاریخی متون اور دستاویزات کے تجزیے کے ذریعے سامنے آتا ہے جو اس میدان میں ہم تک پہنچے ہیں۔