سیدہ نفیسہؒ کے مزار پر دعا کی قبولیت

امام یافعی اپنی تاریخ میں سیدہ نفیسہؒ کے انتقال کے بعد ان کے مزار کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ان کی قبر ایک معروف زیارت گاہ بن گئی جہاں لوگ دعا کرتے تھے، اور یہ بات مشہور تھی کہ وہاں دعا قبول ہوتی ہے۔
یہ ذکر کسی نظریاتی بحث کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت کے بیان کے طور پر آیا ہے کہ اہلِ بیت کی ایک بزرگ خاتون کی قبر وقت کے ساتھ دعا اور زیارت کی جگہ کے طور پر معروف ہو گئی۔
وفي السنة المذكورة توفيت السيدة الكريمة صاحبة المناقب الجسيمة نفيسة بنت الحسن بن زيد بن الحسن بن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنهم
… فدفنت في الموضع المعروف بها اليوم بين القاهرة ومصر، وكان يعرف ذلك المكان بدرب السباع
ولم يبق هناك سوى المشهد وقبرها معروف مزور مشهور، قيل: الدعاء عنده مستجاب رضي الله تعالى عنها
📖 ترجمہ
اس سال سیدہ نفیسہ بنت الحسن بن زید بن الحسن بن علی بن ابی طالبؑ کا انتقال ہوا۔
انہیں قاہرہ اور مصر کے درمیان ایک مقام پر دفن کیا گیا جو آج بھی ان سے منسوب ہے۔
ان کی قبر ایک معروف اور زیارت کی جانے والی جگہ بن گئی
اور کہا گیا کہ وہاں کی جانے والی دعا قبول ہوتی ہے۔