سوال : کیا حضرت علیؑ نے خلفاء کے پیچھے (اقتداء میں) نماز ادا کی …؟
عاقل جب کسی مسئلے کو دیکھتا ھے تو لازم ھے اسکے پس پردہ و پیش پردہ حالات و واقعات کا جائزہ لے . حضرت علیؑ کے نبی ﷺ کے بعد اگر کوئی حالات کا مطالعہ فرمائے تو معلوم ھوگا کہ حضرت علی۴ پچیس سال اتحاد کی خاطرخاموش رھے . اس دوران خلافت جسی عظیم و گرانقدر چیز کو بھی ھاتھ سے دے بیٹھے . اپنی زوجه حضرتِ زہراؑء پر مظالم برداشت کیئے اور بھی سختیاں برداشت کی تو کیا یہ حضرت علی۴ اتحاد و معاشرۂ اسلام کو فتنہ سے بچانے کیلئے نماز میں حضراتِ خلفاء کے پیچھے نھیں کھڑے ھو سکتے …؟؟؟
کیا اس کم قیمت اس چھوٹی چیز کی امید نہیں رکھی جاسکتی جبکہ حضرت علی۴ نے اتحاد کی راہ میں اس سے بھی بڑی و گرانقدر چیزیں قربان کر دیں .
بیشک حضرت علی۴ ان خلفاء کی اقتداء میں نماز ادا کیا کرتے تھے لیکن نیت فرادہ کی کیا کرتے جیسا کہ مندرجہ ذیل دلائل سے ثابت ھے .
🍃2: جوابِ نقل :-
تفسیرقمی میں لکھا ھے :
«حضر المسجد و وقف خلف ابى بکر و صلّى لنفسه»
امام علی علیه السلام مسجد میں حاضر ھوا کرتے اور حضرت ابوبکر کے پیچھے کھڑے ھوتے لیکن نماز اپنی پڑھتے (فرادہ کی نیت سے)
تفسير القمي، ج2، ص 158و 159؛
اور یہ ھی روایت تفسیر نور الثقلین میں
تفسير نور الثقلين، ج4، ص188
اس کے علاوہ احتجاج طبرسى میں بھی یہ روایت آئی ھے :-
«و حضر المسجد و صلّى خلف ابی بکر»،
«امام علی علیه السلام مسجد میں آتے تھے اور حضرت ابوبکر کے پیچھے کھڑے ھو کر نماز پڑھتے »
اس میں صلی للنفسه نھیں مذکور :
مطلب یہ روایت کہنا چاھتی ہیکہ علی۴ نے ابوبکر کی اقتداء میں نماز پڑھی نیت بھی اس کی اقتداء کی کئ .
لیکن یہاں احتجاج طبرسی کی سند میں مسئلہ ھیکہ
اس روایت کی سند مرسل ھے :
( مرسل اس روایت کو کہتے ھیں جسمیں روایت کرنے والا بلا واسطہ کسی ایسے شخص سے روایت کرے جو اسکے زمانے کا نہ ھو جیسے طبرسی خود حماد بن عیسی کے دور کے نھیں سو انہوں نے ڈائریکٹ انسے روایت کی ھے اس لئے طبرسی کی روایت کو مرسل مانا جائے گا )
کیونکہ تفسیر قمی میں و نور الثقلین میں اس روایت کے راویوں میں بلکل تسلسل ھے اور راوی کچھ اس طرح ھیں :
صاحب تفسیر قمی اپنے والد ابراهیم بن هاشم سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے عثمان بن عیسی سے اور انہوں نے حماد بن عیسی سے اور انہوں نے امام صادق علیه السلام سے یہ روایت نقل کی ھے .
“سو ھم تفسیر قمی کی روایت کو درست مانتے ھیں کہ پڑھی لیکن فرادہ کی نیت سے”
📚✍️ الاحتجاج، ج1، ص126.
🍃اس معاملے میں مراجع و علماء کیا فرماتے ھیں :
✍️ سید مرتضیٰ اعلم الھدی نے اپنی کتاب تلخيص الشافي کی جلد 2، ص 158 پر بھی بات لکھی ھے لیکن انہوں نے بھی یہ فرمایا اتحاد کی نیت سے امیرالمومنین علیه السّلام انکی اقتدا فرماتے تھے .
✍️ شہید مطھری رح اپنی کتاب امامت و رھبری صفحہ ۲۰ پر فرمایا که :
امام علی علیہ السلام ان کی اقتداء میں “فرادہ نیت سے” نماز پڑھا کرتے تھے .
✍️ آیت اللّہ مکارم شیرازی رح کی ویبسائٹ پر بھی اس بات کی تائید موجود ھے :
🏷️لنک : http://makarem.ir/main.aspx?lid=0&mid=254044&typeinfo=23&catid=23879
📚👈 اسکے علاوہ مندرجہ ذیل کتب میں اس بات کی تائید موجود ھے :
1: الشيعة وأهل البيت ص 61.
2: تفسير القمي: 2/ 158، 159،
تفسير نور الثقلين: 4/188
3: الأنساب للسمعاني: 3/95
4: دار الجنان ـ بيروت و 6/170، نشر محمد أمين دمج – بيروت – 1400 هـ
5: النوادر ص 129،
6: وسائل الشيعة (آل البيت)، ج 8، ص 301، ح 10726.
7: وسائل الشيعة (آل البيت) ج 8 ، ص 299
8: بحار الأنوار ، ج 100، ص 375
9: قرب الاسناد ص 114، ج 7
10: وسائل الشيعة (آل البيت) ج 8 ، ص 366
11: وسائل الشيعة (الإسلامية) ج 5 ، ص 430 ، جامع أحاديث الشيعة ، ج 6 ، ص 503
____
🤲🏼: الاحقر محمد زکی حیدری