عُمَریہ (اہلِ سنت) کا اجماع:
توسل کی مشروعیت، اموات کا سننا اور زائرین کے حالات سے آگاہ ہونا**
ابن تیمیہ
اپنی کتاب الفتاویٰ الکبریٰ
جلد 5، صفحہ 362 (کتاب الجنائز) میں لکھتے ہیں:
بکثرت ایسے آثار اور روایات پائی جاتی ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ
میت دنیا میں اپنے اہل اور اصحاب کو پہچانتا ہے،
ان کے حالات جانتا ہے،
اور ان کے حالات اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
اور ایسی روایات بھی وارد ہوئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ
میت دیکھتا بھی ہے اور جانتا بھی ہے۔
ابن القیم
جو ابن تیمیہ کے شاگرد ہیں،
اپنی کتاب الروح
جلد 1، صفحہ 8 میں لکھتے ہیں:
سلفِ صالحین اس بات پر متفق ہیں کہ
میت اپنے زائرین کی آمد کو محسوس کرتا ہے،
ان کی بات سنتا ہے،
اور ان کے آنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔
ابن کثیر
جو ابن تیمیہ کے تلامذہ میں سے ہیں،
اپنی کتاب تفسیر القرآن العظیم
جلد 6، صفحہ 324 میں،
سورۂ الروم کی آیت 52 کی تفسیر کے تحت لکھتے ہیں:
سلفِ صالحین اس بات پر متفق ہیں کہ
میت اپنے پاس آنے والے زائرین کو پہچانتا ہے،
ان کی بات سنتا ہے،
اور ان کی آمد پر خوش ہوتا ہے۔
ابن حزم الاندلسی
جو بکریہ (اہلِ سنت) کے بڑے علماء میں سے ہیں،
نبی ﷺ کی وفات کے بعد بھی نبی ﷺ کے ذریعے توسل کرتے ہیں۔
