Recommended articles
شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
February 27, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
زیارت القبور

سلف کے آثار اور ابن تیمیہ کے نقل کے مطابق: مردہ زیارت کرنے والے کو پہچانتا ہے اور سلام کا جواب دیتا ہے

February 6, 2026
0
0

📚 کتاب: کتاب الروح
✍ مصنف: امام ابن القیم رحمہ اللہ

ابن عبد البر نے کہا:
نبی ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا:
کوئی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے اس مسلمان بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے جسے وہ دنیا میں جانتا تھا اور اسے سلام کرے،
مگر اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے سلام کا جواب دے۔
اور شیخ الاسلام (ابن تیمیہ) نے فتاویٰ میں ابن عبد البر کی اس حدیث کو صحیح قرار دینے کا ذکر کیا ہے
(مجموع الفتاویٰ جلد 4 صفحہ 295) وغیرہ میں۔
اور انہوں نے خود بھی اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے
(مجموع الفتاویٰ جلد 24 صفحہ 173 میں)۔
اور انہوں نے اس حدیث سے اپنی کتابوں میں دس سے زیادہ مقامات پر استدلال کیا ہے۔
مثلاً دیکھیں:
اقتضاء الصراط المستقیم (جلد 2 صفحہ 178)
اور مجموع الفتاویٰ (جلد 24 صفحہ 303 اور صفحہ 363)

فهذا نص في أنه يعرف بعينه، ويرد عليه السلام.
وهذا خطاب لمن يسمع ويعقل، ولو لا ذلك لكان هذا الخطاب بمنزلة خطاب المعدوم والجماد.
والسلف مجمعون على هذا، وقد تواترت الآثار عنهم بأن الميت يعرف بزيارة الحي له ويستبشر به.

یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مردہ آنے والے شخص کو پہچانتا ہے
اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
یہ خطاب ایسے شخص کے لیے ہے جو سن سکتا ہو اور سمجھ سکتا ہو،
اگر ایسا نہ ہو تو یہ خطاب معدوم یا بے جان چیز سے خطاب کی طرح ہو جاتا۔
اور سلف کا اس پر اجماع ہے،
اور ان سے بکثرت آثار منقول ہیں کہ
مردہ زندہ شخص کی زیارت کو پہچانتا ہے
اور اس سے خوش ہوتا ہے۔

🔸 قبرستان کی دعا
تم پر سلام ہو اے مومنوں اور مسلمانوں کے گھر والو۔
اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔
اللہ ہم میں سے پہلے جانے والوں اور بعد میں جانے والوں پر رحم فرمائے۔
ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔
🔸 خطاب اور سلام کا مفہوم
یہ سلام، خطاب اور پکار ایسے موجود شخص کے لیے ہوتی ہے
جو سن سکتا ہو، جس سے خطاب کیا جا سکتا ہو،
جو سمجھ سکتا ہو اور جواب دے سکتا ہو،
اگرچہ مسلمان جواب سن نہ سکے۔
🔸 زیارت کا عقلی مفہوم
کسی مسلمان کا قبروں والوں کے لیے لفظ “زیارت” استعمال کرنا کافی دلیل ہے۔
اگر وہ محسوس نہ کرتے ہوتے تو اسے زیارت کہنا درست نہ ہوتا۔
کیونکہ جس کی زیارت کی جائے اگر اسے معلوم ہی نہ ہو تو اسے زیارت نہیں کہا جاتا۔
اور یہی تمام قوموں کے نزدیک زیارت کا عقلی مفہوم ہے۔
🔸 سلام کا مفہوم
اسی طرح ان پر سلام بھیجنا بھی یہی معنی رکھتا ہے،
کیونکہ ایسے شخص کو سلام کرنا جو نہ محسوس کرے اور نہ جانتا ہو بے معنی ہے۔
اور نبی ﷺ نے اپنی امت کو سکھایا کہ جب وہ قبروں کی زیارت کریں تو کہیں: سلام ہو تم پر

اور صحیح احادیث میں یہ ثابت ہے کہ
مردہ دفن کے بعد جنازہ کے ساتھ آنے والوں سے اُنس محسوس کرتا ہے (ان کی موجودگی سے مانوس ہوتا ہے):

جب اللہ نے میرے دل میں اسلام ڈال دیا تو میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔
میں نے کہا: اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں بیعت کروں۔
آپ ﷺ نے ہاتھ بڑھایا، میں نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہوا اے عمرو؟
میں نے کہا: میں شرط رکھنا چاہتا ہوں۔
آپ ﷺ نے فرمایا: کیا شرط؟
میں نے کہا: یہ کہ اللہ مجھے معاف کر دے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اسلام پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے،
اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے،
اور حج بھی پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ سے زیادہ کوئی مجھے محبوب نہ تھا،
اور میں ان کی عظمت کی وجہ سے ان کی طرف آنکھ بھر کر دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔
اگر مجھ سے کہا جائے کہ ان کا حلیہ بیان کرو تو میں نہیں کر سکتا،
کیونکہ میں نے کبھی انہیں بھر کر دیکھا ہی نہیں۔
اگر میں اسی حالت پر مر جاتا تو مجھے امید تھی کہ میں جنت والوں میں ہوتا۔
پھر ہمارے حالات بدل گئے — اب مجھے نہیں معلوم میرا کیا انجام ہوگا۔
جب میں مر جاؤں تو کوئی نوحہ نہ کرے، نہ آگ جلائی جائے،
اور جب مجھے دفن کرو تو قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد کچھ دیر میرے پاس ٹھہرے رہنا،
تاکہ میں تم سے مانوس ہو جاؤں اور دیکھوں کہ میں اپنے رب کے فرشتوں کو کیا جواب دیتا ہوں۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ
مردہ دفن کے بعد قبر کے پاس موجود لوگوں سے مانوس ہوتا ہے
اور ان سے خوش ہوتا ہے۔
صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ
مردہ دفن کے بعد جنازے کے ساتھ آنے والوں سے مانوس ہوتا ہے۔
مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا کہ
عبدالرحمن بن شماسہ کہتے ہیں:
ہم عمرو بن العاص کے پاس ان کی وفات کے وقت موجود تھے،
وہ بہت دیر تک روتے رہے، پھر دیوار کی طرف منہ کر لیا۔
ان کے بیٹے نے کہا: ابو جان، آپ کیوں رو رہے ہیں؟
کیا رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خوشخبری نہیں دی تھی؟
تو انہوں نے کہا:
سب سے افضل چیز کلمہ شہادت ہے۔
میں تین حالتوں سے گزرا ہوں…
اور مجھے رسول اللہ ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں تھا۔
اور اگر میں اس حالت پر مر جاتا تو امید تھی جنت میں جاتا۔
لیکن اگر میں اس کے بعد مر جاتا تو مجھے ڈر تھا کہ میں جہنم والوں میں ہو جاؤں۔

اس بات پر یہ چیز بھی دلالت کرتی ہے کہ
قدیم زمانے سے لے کر آج تک لوگوں کا عمل اسی پر جاری رہا ہے۔

یہ حدیث اگرچہ قطعی طور پر ثابت نہ بھی ہو،
پھر بھی مختلف شہروں اور زمانوں میں اس پر مسلسل عمل ہونا
اور اس پر انکار نہ ہونا
اس پر عمل کے لیے کافی ہے۔

اگر مخاطب (جسے خطاب کیا جا رہا ہے) سنتا نہ ہو
تو پھر یہ خطاب مٹی، لکڑی، پتھر یا معدوم چیز سے خطاب کرنے جیسا ہو جائے گا۔

اور عقل والے لوگ ایسے عمل کو برا اور بے معنی سمجھتے ہیں۔

قبر میں مردے کو تلقین کرنا
اگر وہ اسے سنتا نہ ہو اور اس سے فائدہ نہ اٹھاتا ہو
تو اس میں کوئی فائدہ نہ ہوتا بلکہ یہ بے فائدہ کام ہوتا۔

اس بارے میں امام احمد سے سوال کیا گیا
تو انہوں نے اسے اچھا قرار دیا
اور اس پر لوگوں کے مسلسل عمل سے دلیل لی۔

موت کے بعد روحوں کا سننا بعض اوقات ملامت یا تنبیہ کے طور پر ہوتا ہے،
جسم کے ساتھ ایک خاص تعلق کے ذریعے۔
اور یہ وہ سننا نہیں ہے جس کی نفی کی گئی ہے۔
واللہ اعلم۔

جہاں تک اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا تعلق ہے:
اور آپ قبروں والوں کو نہیں سنا سکتے
اس کا مطلب یہ ہے کہ
کافر دل کا مردہ ہوتا ہے،
اور اسے ایسا سنانا ممکن نہیں جس سے وہ فائدہ اٹھا سکے۔
جیسے قبروں والے بھی ایسا سننا نہیں سن سکتے جس سے وہ فائدہ اٹھا سکیں۔
اور اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ
قبروں والے بالکل کچھ بھی نہیں سنتے۔
کیونکہ نبی ﷺ نے بتایا کہ
وہ جنازے کے ساتھ آنے والوں کے قدموں کی آواز سنتے ہیں،
اور بدر کے مقتولین نے آپ ﷺ کی بات سنی،
اور آپ ﷺ نے قبروں والوں کو ایسے انداز میں سلام سکھایا
جیسے موجود شخص سے خطاب کیا جاتا ہے جو سن رہا ہو،
اور یہ بھی بتایا کہ
جو شخص اپنے مومن بھائی کو سلام کرے تو وہ جواب دیتا ہے۔

یہ بات درست ہے
لیکن یہ مکمل طور پر سننے کی نفی نہیں کرتی۔

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
زیارت القبور
سماعِ موتیٰ پر دلائل: صحیح احادیث اور شنقیطی کے اقوال کی روشنی میں
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)7
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions