سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
فإذا صلى تحية المسجد أتى القبر الكريم فاستقبله واستدبر القبلة
على نحو أربع أذرع من جدار القبر
ثم يرجع إلى موقفه الأول قبالة وجه رسول الله ﷺ
جب زائر مسجد میں نماز پڑھ لے تو:
وہ قبرِ شریف کے پاس آئے،
اور:
➡️ قبر کی طرف رخ کرے
➡️ قبلہ کو پیچھے کرے
اور پھر رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
اگر:
❌ قبر کی طرف متوجہ ہونا ممنوع ہوتا
تو:
➡️ علماء اس کو زیارت کے آداب میں کیوں لکھتے؟
➡️ قبلہ پیچھے اور قبر سامنے کرنے کی ہدایت کیوں دیتے؟
➡️ اور “قبالة وجه رسول الله ﷺ” کھڑے ہونے کا ذکر کیوں کرتے؟
فإذا صلى تحية المسجد أتى القبر الكريم فاستقبله واستدبر القبلة
ثم يرجع إلى موقفه الأول قبالة وجه رسول الله ﷺ
جب زائر مسجد میں تحیۃ المسجد ادا کر لے تو:
وہ قبرِ مبارک کے پاس آئے
➡️ قبر کی طرف رخ کرے
➡️ قبلہ کو پیچھے کرے
پھر اپنے پہلے مقام پر لوٹ کر:
➡️ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کے سامنے کھڑا ہو جائے۔
فيتوسل به في حق نفسه، ويستشفع به إلى ربه سبحانه وتعالى
زائر:
➡️ اپنی حاجت کے لیے نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا کرے
➡️ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے ذریعے شفاعت طلب کرے


توثيق النووي
التعريف بالنووي
