Recommended articles
شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
سبل الهدى والرشاد میں توسل عند القبر
February 27, 2026
0
0
Momin Taaq
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
علوم قرآن

زیارتِ قبور: حدیثِ صحیح، ائمۂ حنابلہ کی تصریحات، اور نسخِ ممانعت کا ثبوت

February 25, 2026
0
0

المقنع والشرح الكبير ومعهما الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف
1) اصل حدیث اور اس کا مفہوم
نبی ﷺ نے فرمایا:
«كنت نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها؛ فإنها تذكر الموت»
(میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، اب ان کی زیارت کرو؛ کیونکہ وہ موت کی یاد دلاتی ہیں۔)
یہاں تین باتیں صاف ہیں:
ابتدا میں ممانعت تھی۔
بعد میں اجازت بلکہ امر آیا: فزوروها۔
علت بیان ہوئی: تذكر الموت عبرت اور آخرت کی یاد۔
یہ نسخ ہے؛ یعنی پہلی ممانعت ختم کر دی گئی۔
2) امام احمد سے صریح سوال
نقل ہے کہ علی بن سعید نے امام احمد سے پوچھا:
زیارت افضل ہے یا ترک؟
انہوں نے جواب دیا: زیارت افضل ہے۔
یہ جملہ کسی تاویل کا محتاج نہیں۔ جب پوچھا گیا “افضل کیا ہے؟” تو جواب “زیارت” دیا گیا یعنی ترک سے بہتر۔
3) صحیح مسلم کی تعلیم کردہ دعا
حضرت بریدہؓ کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ صحابہ کو سکھاتے تھے کہ جب مقابر جائیں تو یوں کہیں:
«السلام عليكم أهل الديار من المؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون… ويرحم الله المستقدمين منكم والمستأخرين، نسأل الله لنا ولكم العافية، اللهم لا تحرمنا أجرهم، ولا تفتنا بعدهم، واغفر لنا ولهم.»
اس دعا میں:
سلام ہے،
موت کی یاد ہے،
اپنے اور میت کے لیے مغفرت کی دعا ہے۔
اگر زیارت مطلقاً ممنوع ہوتی تو یہ مفصل دعا کیوں سکھائی جاتی؟
4) ام المؤمنین عائشہؓ کی روایت
نقل ہے کہ عائشہؓ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع نہیں کیا تھا؟
انہوں نے فرمایا:
«قد نهى، ثم أمر بزيارتها»
(ہاں، پہلے منع کیا، پھر زیارت کا حکم دیا۔)
یہ نسخ کی واضح تصریح ہے ممانعت باقی نہیں رہی۔
5) مرد و عورت کا مسئلہ
حنبلی کتب میں فصل قائم ہے:
«ويستحب للرجال زيارة القبور»
(مردوں کے لیے زیارت مستحب ہے)
عورتوں کے بارے میں اختلافِ روایات ذکر کیا گیا، مگر اصل حکم نسخ کے بعد اجازت کا ہے؛ ممانعت ابتدائی دور کی تھی۔

 

Tags:
Done
Add to Bookmarks

Related Posts

شبھات کا رد
کیا حضرت علیؑ نے نشئے کی حالت میں نماز پڑھائی
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد
جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
February 28, 2026
0
0
شبھات کا رد علوم قرآن
کیا نبی ﷺ کی قبر کی زیارت کوئی بعد کی ایجاد ہے؟ یا یہ خود ائمہ اہل سنت کی تصریحات سے ثابت ہے؟
February 27, 2026
0
0

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll down to see next article
علوم قرآن
زیارتِ قبور: چاروں مذاہب کی تصریحات (كفاية الفقه سے)
About Us

Momin Taaq is a global online platform dedicated to presenting authentic Shia Islamic knowledge with clarity, logic, and respect.

Follow Us
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Pinterest
Featured Lectures
شبھات کا رد
امام سجاد علیہ السلام نے ابو بکر عمر کا دفاع کیا ہے؟
September 27, 2025
شبھات کا رد
یہ کیوں کہا گیا کہ “دابۃ”؟ کیا اس میں امیر المؤمنین (علیہ السلام) کی توہین نہیں ہے؟
September 26, 2025
عقیدہ امامت
ہ سب سے پہلے جس نے 12 اماموں بات شروع کی وہ شیخ کلینی اور علی بن بابویہ القمی علیھما الرحمۃ
February 9, 2019
Knowledge & Research
  • Imamat & Ahl al-Bayt (AS)7
  • Youth & New Muslims1
  • آیت تطھیر و اھل البیت علیھم السلام1
  • اصحاب رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم2
  • اعتقادات4

© 2025 Momin Taaq. All Rights Reserved.

  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
    • For Youth & Seekers
  • Privacy Policy
    • Terms and conditions
  • Contact Us
  • Home
  • About
  • Beliefs (Core Theology)
  • Privacy Policy
  • Contact Us
  • For Youth & Seekers
  • Terms and conditions