زیارتِ قبور اور سماعِ موتیٰ – ابن تیمیہ کے فتاویٰ کی روشنی میں
📖 کتاب: مجموع فتاویٰ شیخ الاسلام ابن تیمیہ
✍ مصنف: شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
عن الأحياء إذا زاروا الأموات هل يعلمون بزيارتهم؟
وأما علم الميت بالحي إذا زاره، وسلم عليه، ففي حديث ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن كان يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام.
قال ابن المبارك: ثبت ذلك عن النبي صلى الله عليه وسلم، وصححه عبد الحق صاحب الأحكام.
زندہ لوگوں کے بارے میں، جب وہ مردوں کی زیارت کرتے ہیں، تو کیا مردے ان کی زیارت کو جانتے ہیں؟
اور جہاں تک مردے کا زندہ شخص کو جاننا ہے جب وہ اس کی زیارت کرے اور اسے سلام کرے،
تو ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
جو شخص اپنے مومن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے، جسے وہ دنیا میں جانتا تھا، اور اسے سلام کرے،
تو وہ اسے پہچان لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
ابن مبارک نے کہا:
یہ بات نبی ﷺ سے ثابت ہے،
اور عبد الحق صاحب الاحکام نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
پھر اگے لکھتے ہیں:
حدیث کا حصہ
کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے اس مومن بھائی کی قبر کے پاس سے گزرے جسے وہ دنیا میں جانتا تھا اور اسے سلام کرے،
مگر اللہ اس کی روح لوٹا دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے سلام کا جواب دیتا ہے۔
🔹 نبی ﷺ سے متعلق
اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔
اور بے شک اللہ کے فرشتے زمین میں گھومتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔
یہ نصوص اور ان جیسی روایات اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ
مردہ بعض اوقات مجموعی طور پر سن سکتا ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ اسے ہمیشہ سننا حاصل ہو،
بلکہ کبھی سن سکتا ہے اور کبھی نہیں سن سکتا۔
یہ سننا ایسا نہیں جیسے زندہ لوگوں کا عام سننا ہوتا ہے۔
🔹 اہل قبور کو سلام
ان سے ثابت ہے کہ وہ قبروں والوں کو سلام کہتے تھے:
تم پر سلام ہو اے مومن اور مسلمان قبروں والو۔
اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی تم سے آ ملیں گے۔
ہم اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت مانگتے ہیں۔
اللہ ہمیں اور تمہیں بخش دے۔
یہ خطاب ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو سن سکتے ہوں۔
🔹 بدر والوں والا واقعہ
انہوں نے بدر کے مقتولین کو چھوڑا، پھر واپس آ کر فرمایا:
اب یہ میری بات سن رہے ہیں۔
