خرسانی کا یہ قول ہے کہ علمِ اصول کو سب سے پہلے ابنِ ابی عقیل نے وضع کیا، پھر اس کے بعد ابنِ جنید نے ان کی پیروی کی۔
خرسانی کا یہ قول ہے کہ علمِ اصول کو سب سے پہلے ابنِ ابی عقیل نے وضع کیا، پھر اس کے بعد ابنِ جنید نے ان کی پیروی کی۔
اور بحر العلوم ابنِ جنید کی تعریف کرتے ہوئے ان کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قدیم امامیہ کے افاضل میں سے تھے۔
اور ان کے بعد شیخ مفید نے ان کی پیروی کی، پھر انہوں نے توبہ کی اور ان کے ردّ میں قیام کیا۔

جواب
میں کہتا ہوں
اوّلًا: شیخ کا کلام درست ہے، اور امامیہ نے نواصب سے پہلے اصول (علمِ اصول) کی بنیاد رکھی۔
رہی بات شیخ مفیدؒ کے ردّ کی، تو وہ ہرگز توبہ نہیں تھی جیسا کہ ایک احمق کا دعویٰ ہے۔ میں پوری دنیا کے اہلِ علم کو چیلنج کرتا ہوں کہ کوئی ایک دلیل پیش کریں جو شیخ مفیدؒ کی توبہ ثابت کرے۔
شیخ مفیدؒ نے ابنِ جنید پر اس لیے رد کیا تھا کہ وہ قیاس پر عمل کرتا تھا، اور یہی موقف بعد میں وحید بہبہانیؒ (رضوان اللہ علیہما) نے بھی اختیار کیا۔
تو پھر توبہ کہاں ہے؟ مجھے سمجھ نہیں آتی۔




شیخ مفید کے نزدیک اجماع کی حجیت اس بنا پر ہے کہ اس میں معصومؑ کا داخل ہونا ثابت ہو، اور یہی اصولیین کا قول ہے
شیخ مفید کے نزدیک عقل کی حجیت معتبر ہے




شیخ مفید کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی




شیخ مفیدؒ نے أم کلثوم علیھا السلام کی شادی کے بارے میں روایات پر اعتراض کیا اور ان روایات کے راوی کو بھی ضعیف قرار دیا
اور ان کے علاوہ بھی بہت سی دستاویزات ہیں، لیکن میں نے یہ جلدی شائع کی ہیں، اور کچھ میں نے دستاویز کی شکل میں نہیں دیا، جیسے کہ الکافی میں روایات کی تضعیف۔