حدیث ثقلین : من ھم عترۃ؟
من ھم عترۃ؟
حدثنا احمد بن زياد بن جعفر الهمداني قال: حدثنا على بن ابراهيم بن هاشم عن أبيه عن محمد بن أبي عمير عن غياث بن إبراهيم عن الصادق جعفر بن محمد عن أبيه محمد بن على عن أبيه على بن الحسين عن أبيه الحسين بن على عليه السلام قال: سئل أمير المؤمنين عليه السلام عن معنى قول رسول الله صلى الله عليه وآله انى مخلف فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي من العتره؟ فقال: انا والحسن والحسين والائمه التسعه من ولد الحسين تاسعهم مهديهم وقائمهم لا يفارقون كتاب الله ولا يفارقهم حتى يردوا على رسول الله صلى الله عليه وآله حوضه ۔بسندالصحیح
امام جعفر صادق علیہ السلام اور انہوں نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے امام حسین علیہ السلام سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا کہ امیر المومنین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث
اني مخلف فيكم الثقلين كتاب الله وعترتي ..
میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، اللہ کی کتاب اور اپنی عترت “
میں لفظ ” عترت سے کون مراد ہیں ؟
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا :-
عترت سے مراد میں اور حسن و حسین اور نسل حسین کے نو امام ہیں جن کا نواں مہدی و قائم (عج) علیھم السلام ہوگے ، وہ کتاب اللہ سے جدا نہ ہوں گے اور قرآن ان سے جدا نہ ہوگا یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حوض پر وارد ہوگے
