جو ایک بار متعہ کرے امام حسین ع کا درجہ پائےگا..
اس روایت کا شیعہ کتب جو اساس تشیع ہیں ان میں کہیں پر بھی ذکر نہیں اور ملا فتح اللہ کاشانی نے اسکو بنا سند کے ذکر کیا ہے.. اس کے مقابلہ میں جن شیعہ روایت پیش کرینگے کہ زمانہ جاہلیت کی ہر بری عادت عمر سے چھوٹ گئی پھر ناصبی سند کا رونا رونے لگتے ہیں…
مختصر یہ کہ روایت شیعوں کی کتب میں موجود نہیں ہے اور جسکی سند ہی نا ہو اس کا ہونا نا ہو وہ نا قابل احتجاج ہے نا قابل استدلال ہے
